Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں ہوٹل میں آتشزدگی، بھگدڑ سے 15 ہندو یاتری ہلاک

ہوٹل میں آتشزدگی کے متاثرین ساون کے آخری پیر کے موقع پر عبادت کے لیے تاراپیٹھ آئے تھے۔ (فوٹو: روئٹرز)
انڈیا کے مشرقی حصے میں پیر کے روز ہندوؤں کے مقدس مہینے ساون کے دوران بھگوان شِو کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والے کم از کم 15 افراد دو مختلف واقعات میں ہلاک ہو گئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ریاست مغربی بنگال کے تاراپیٹھ میں ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے 8 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ پڑوسی ریاست بہار کے ایک شِو مندر میں بھگدڑ کے نتیجے میں 7 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ہوٹل میں آتشزدگی کے متاثرین ساون کے آخری پیر کے موقع پر عبادت کے لیے تاراپیٹھ آئے تھے۔ ساون ہندو مذہب میں بھگوان شِو سے منسوب مقدس مہینہ ہے، جس کے دوران بڑی تعداد میں عقیدت مند مذہبی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔
مغربی بنگال کے وزیرِاعلیٰ سُویندو ادھیکاری نے ایک بیان میں کہا،’اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے غم کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘
آتشزدگی کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب بہار کے ضلع لکھی سرائے میں اشوک دھام مندر میں بھگدڑ مچنے سے 7 یاتری کچلے جانے کے باعث ہلاک جبکہ 19 زخمی ہو گئے۔
ضلع مجسٹریٹ شیلندر کمار نے اے ایف پی کو بتایا کہ مندر کے احاطے میں عقیدت مندوں پر بجلی کا کھمبا گرنے کی افواہ پھیلنے کے بعد بھگدڑ مچی۔
بہار کے وزیرِاعلیٰ سمراٹ چودھری نے واقعے کو ’دل دہلا دینے والا‘ قرار دیتے ہوئے ہر مرنے والے شخص کے خاندان کے لیے 4 لاکھ انڈین روپے امداد کا اعلان کیا۔
انڈیا میں بڑے اجتماعات اور مذہبی تہواروں کے دوران بھگدڑ کے واقعات عام ہیں، جن کی ایک بڑی وجہ ہجوم کو مناسب طریقے سے منظم نہ کرنا ہے۔
انڈیا میں حالیہ برسوں کے بدترین بھگدڑ کے واقعات میں سے ایک 2024 میں اتر پردیش میں پیش آیا تھا، جہاں دسیوں ہزار عقیدت مندوں کے مذہبی اجتماع کے دوران بھگدڑ مچنے سے 120 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

شیئر: