Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کی امریکہ کو وارننگ، معاہدے پر چند ہفتوں میں عمل نہ ہوا تو کشیدگی بڑھانے کا اعلان

ایران کے وزیر خارجہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک دوبارہ نہیں کھلے گی جب تک امریکہ پہلے معاہدے میں واپس نہیں آتا۔ (فوٹو: روئٹرز)
ایک سینیئر ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں کے اندر امریکہ کی جانب سے عبوری امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز اور خطے کے دیگر علاقوں میں کشیدگی بڑھانے اور حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اگر امریکہ مقررہ مدت میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا اور سفارتی کوششیں ناکام رہتی ہیں تو تہران امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کے لیے ’بروقت اور درست‘ فوجی کارروائی کرے گا۔
جون میں ہونے والے معاہدے کے تحت تہران اور واشنگٹن کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی سفارتی کوششیں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تعطل کا شکار رہی ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک دوبارہ نہیں کھلے گی جب تک امریکہ پہلے معاہدے میں واپس نہیں آتا۔ دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ نے ایران کو غیر معمولی معاشی تنہائی کا سامنا کرنے سے خبردار کیا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ’ایران کی جانب سے مقرر کردہ چند ہفتوں کی مختصر مدت کے اندر معاہدے کی تمام شقوں پر امریکہ کو عمل درآمد کرنا ہوگا۔ یہ امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے پیشگی شرط ہے۔‘
عہدیدار نے مزید کہا کہ ثالث تہران کی مقرر کردہ مدت کی تفصیلات امریکہ اور خطے کے ممالک تک پہنچائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی اداروں کو آبنائے ہرمز اور وسیع تر خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے تیار رہنا ہوگا، کیونکہ ایران مشکل فیصلے کرنے اور عملی اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران اپنی پالیسی دفاع سے جارحانہ حکمتِ عملی کی جانب منتقل کر رہا ہے کیونکہ واشنگٹن کے ساتھ سفارت کاری کے فوائد پر اس کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ’یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکہ جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نہیں اور کسی جنگ بندی کی پاسداری نہیں کرے گا، اس لیے دشمن پر دباؤ ڈالنا یا مستقل جنگ بندی کے حصول کی امید میں ثالثوں پر انحصار کرنا حقیقت پسندانہ نہیں۔‘
 

شیئر: