کابل میں طالبان کی حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کے موقعے پر عرب نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ طالبان انتظامیہ نہ صرف کالعدم ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کر رہی ہے بلکہ وہ خود خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ایک ’پراکسی‘ کا روپ دھار چکی ہے۔
پاکستانی مندوب نے فروری میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان ’کھلی جنگ‘ سے متعلق دیے گئے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی حالات اور سکیورٹی کی صورتِ حال انتہائی تشویش ناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں
-
طالبان حکومت کے پانچ سال، افغانستان میں جشن، پابندیوں پر تنقیدNode ID: 907504
’تین عالمی شرائط اور مسلسل ناکامی‘
عاصم افتخار نے یاددہانی کرائی کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے وقت عالمی برادری نے تین اہم مطالبات رکھے تھے، تمام گروہوں پر مشتمل جامع حکومت کا قیام، خواتین اور بچیوں کے حقوق کی پاسداری، اور افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا۔
انہوں نے کہا کہ پانچ برس گزرنے کے بعد ان تینوں نکات پر پیش رفت کے بجائے مسلسل تنزلی دیکھی گئی ہے۔ افغان خواتین پر تعلیم و روزگار کی پابندیاں قائم ہیں اور حکومت کو وسیع البنیاد بنانے کے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔

پاکستانی مندوب کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی قیمت ادا کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سال 2025 کے دوران پاکستان میں 5200 سے زائد دہشت گردانہ واقعات میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں سکیورٹی کی صورتِ حال مزید ابتر ہوئی ہے جہاں 3000 سے زائد حملوں میں 830 سے زائد پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
ان حملوں میں انہوں نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان ، بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید برگیڈ کو بنیادی طور پر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ان کی پشت پناہی افغان سرزمین سے ہو رہی ہے۔
’صرف عدم صلاحیت نہیں بلکہ فعال تعاون‘
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا طالبان انتظامیہ ٹی ٹی پی کو روکنے میں ناکام ہے یا قصداً انہیں پناہ دے رہی ہے، عاصم افتخار نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور پاکستانی انٹیلی جنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ صرف صلاحیت کی کمی کا معاملہ نہیں ہے۔













