کیا ترکی روسی کیمپ میں چلا جائے گا؟ 

کیا اردگان ترکی کا دوسرا نام بن چکے ؟
روس کے اسٹراٹیجک ہتھیار میزائل ایس 400کی پہلی کھیپ ترکی پہنچنے پر صدر رجب طیب اردگان اپنے ملک کو کدھر لیجائیں گے اس کا جواب فی الوقت کسی کو نہیں معلوم۔
 سعودی اخبار الشرق الاوسط میں عبدالرحمن الراشد نے اپنے کالم میں لکھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ صورتحال انقرہ حکام کی منصوبہ بند سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ جو کچھ ہوا وہ بلا ارادہ پے درپے پیش آنے والے واقعات کا نتیجہ ہے۔ ایک طرح سے حالات کنٹرول سے باہر ہوتے چلے گئے۔ شامی انقلاب ، شامی اپوزیشن کو منظم کرنے اور رکھنے میں ترک حکومت کی ناکامی، شام اور ترکی کے بالمقابل علاقوں میں ایران کی زبردست فوجی مداخلت، روس کی فوجی مداخلت ،شامی کرد علاقوں میں امریکی افواج کی لشکر اندازی، جنگ میں اسرائیلی فضائیہ کا عمل دخل ایسے واقعات ہیں جو یکے بعد دیگرے ہوتے چلے گئے۔ علاوہ ازیں 3 خطرناک واقعات پیش آئے۔ ان میں سے ایک روسی طیارے کا ترک علاقے میں گرایا جانا ، انقرہ میں روسی سفیر کا قتل ، رجب طیب اردگان کے خلاف بغاوت کی کوشش ، یہ تینوں واقعات بھی انتہائی اہم ہیں۔ اسی دوران رجب طیب اردگان نے ریاستی نظام بھی تبدیل کردیا۔ وزیراعظم کا کردار منسوخ کرکے تمام اختیارات کا مالک صدر جمہوریہ کو بنالیا۔
رجب طیب اردگان کئی محاذوں پر بیک وقت جنگ کررہے ہیں۔ یہ بات صاف نظر آرہی ہے کہ وہ کسی بھی محاذ پر کامیاب نہیں ہوئے۔ شام کا معرکہ ہار چکے ہیں۔ روس اور ایران کے حق میں پسپائی اختیار کررہے ہیں۔رجب طیب اردگان کا مقصد ترکی کو خطرات لاحق کرنے والے ترک محاذ کے قیام کو روکنا ہے۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں رجب طیب اردگان کی براہ راست ٹکر امریکہ سے ہے۔ امریکہ کرد اتحادیوں پر انحصار کرتا ہے۔ 
یہ سارے واقعات ایک طرف اور رجب طیب اردگان کا روسی کیمپ میں منتقل ہونے کی مہم جوئی کا فیصلہ دوسری جانب حد سے زیادہ پرخطر ہے۔ ترک حکام امریکہ کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کئی بیان دیئے ہیں۔ وہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی خواہش ظاہر کررہے ہیں بشرطیکہ ترکی کو روسی ا سلحے کے سودے سے دستبردار ہونے پر مجبور نہ کیا جائے۔ 
اگر امریکہ اور ترکی کے درمیان ہم آہنگی نہ ہوئی تو روسی اسلحہ کا سودا انتہائی اہم سیاسی تبدیلی کا باعث بنے گا۔ اس کے اثرات علاقے پر بھی پڑیں گے اور براعظم بھی اس سے متاثر ہوگا۔ دراصل ترکی مشرق و مغرب کے بین الاقوامی تعلقات کے نظام میں اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔مبینہ تبدیلیاں ایسے ماحول میں ہورہی ہیں جبکہ امریکہ، ایران کو اپنے اندر تبدیلی لانے پر مجبور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ترکی کیلئے روسی اسلحہ کے سودے نے اتحاد بدل دیئے۔ یہ سودا ٹھیک ویسا ہی نظر آرہا ہے جیسا کہ مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے جمہوریہ چیک سے اسلحہ کا سودا کیا تھا تو وہ مغربی دنیا کے کیمپ سے سوویت کیمپ میں منتقل ہوگئے تھے۔ امریکہ اور ترکی 60برس سے اسٹراٹیجک رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہ رشتہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر استوار ہوا تھا۔
ہمیں نئی سرد جنگ کے آثار نظرآرہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا رجب طیب اردگان سچ مچ مغربی کیمپ کو خدا حافظ کہنے کا ارادہ کئے ہوئے ہیں۔ روسی اسلحہ کا سودا نہ ختم ہونے والے اختلافات کو جنم دے گا۔ ترکی آہستہ آہستہ الگ تھلگ ہوجائے گا۔ ممکن ہے کہ نیٹو سے اسکا رشتہ ختم ہوجائے۔ کیا نیٹو کی قیادت روسی محاذ پر موجود ریاست ترکی سے دستبردار ہونے کیلئے تیار ہے؟
کیا اردگان ترکی کا دوسرا نام بن چکے ؟
تمام شواہد ظاہر کررہے ہیں کہ ماسکو کی جانب جزوی طور پر ترکی کا جانا رجب طیب اردگان کی سوچ کا نتیجہ ہے۔ یہ ترکی کے ریاستی اداروں کی حکمت عملی سے کہیں زیادہ اردگان کی اپنی پالیسی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ پالیسی رجب طیب اردگان کے اقتدار سے باہر چلے جانے پر 3برس بعد ختم ہوجائے۔ رجب طیب اردگان اور پارٹی میں انکے معتمد ترین افراد کے درمیان اختلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ ایسے لوگ جو اردگان کے دست و بازو مانے جاتے تھے وہ ان سے دور ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر سابق وزیراعظم و وزیر خاجہ داود اوغلو سرفہرست آتے ہیں۔ رجب طیب اردگان اپنے سابق اتحادی گولن کے ساتھ اندھی جنگ لڑ رہے ہیں۔ شدت کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے امریکہ کیساتھ ترکی کے تعلق کو گولن حوالے کرنے سے جوڑ دیا ہے۔ امریکہ نے صاف انکار کردیا ہے کہ وہ فتح اللہ گولن کو کسی قیمت پر ترکی کے حوالے نہیں کرے گا۔ رجب طیب اردگان کے امریکہ کے ساتھ مسائل کافی بڑھ گئے ہیں۔ امریکی پادری کی گرفتاری ، امریکی طلبائ، واشنگٹن میں مظاہرین کو زدوکوب کرنا اور واشنگٹن کی اتحادی کرد تنظیم ”قسد“ کا دھمکانا قابل ذکر ہیں۔
ترکی ،روس کا جنگی طیارہ شامی حدود میں گرانے کے بعد روس کے انتقام سے خائف ہوگیا تھا۔ اسکے چند ماہ بعد ترکی میں اردگان کے خلاف بغاوت کی کوشش ہوئی تھی۔ اس تناظر میں رجب طیب اردگان نے روس کے ساتھ اسلحے کا سودا کیا اور اسے سودے کی رقم بھی پیش کردی۔ خیال کیا جارہا تھا کہ ترکی مغربی کمپنیوں کے ساتھ سودے بازی کررہا ہے۔ وہ امریکی سسٹم پیٹریاٹ خریدنے میں دلچسپی لے رہا ہے لیکن اس ہفتے جیسے ہی روس کے ترقی یافتہ اسلحہ کی پہلی کھیپ ترکی پہنچی اس سے لگتا ہے کہ صورتحال تصور سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوچکی ہے۔ 
امریکہ کی جانب سے ممکنہ پابندیاں ترک معیشت کو تباہ و برباد کردیں گی۔ وجہ یہ ہے کہ یہ معیشت مغربی منڈیوں کے سہارے قائم ہے۔ ترک معیشت ان دنوں بدترین صورتحال سے گزر رہی ہے۔ حکمراں محاذ میں اختلافات پیدا ہونے لگے ہیں۔ بڑے رہنما بغاوت کررہے ہیں۔ وہ رجب طیب اردگان کے فیصلوں کو مسترد کررہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اردگان ملک کو تباہی کے غار کی طرف لے جارہے ہیں۔

شیئر: