شاہد خاقان گرفتار، مفتاح کے وارنٹ جاری

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما شاہد خاقان عباسی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے گرفتار کر لیا جبکہ پارٹی کے ایک اور رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے ہیں۔ 
جمعرات کو شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی چار بجے ہونے والی پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے لاہور جا رہے تھے کہ ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب ان کو پولیس اور نیب حکام نے روک لیا اور گرفتار کر کے ساتھ لے گئے۔
یاد رہے کہ شاہد خاقان عباسی پر الزام ہے کہ انہوں  نے بطور وزیر قطر کے ساتھ ایل این جی کا معاہدہ کر کے اس کا ٹھیکہ من پسند کمپنی کو دیا تھا اور اس کیس میں جمعرات کو ان کی نیب آفس پیشی تھی جہاں وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔
دوسری جانب نیب کی ٹیم کراچی میں سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔  تاہم مفتاح اسماعیل  گھر پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے گرفتار ی سے بچ گئے۔  نیب کی ٹیم کے ساتھ خواتین پولیس اہلکار بھی تھیں جنہوں نے گھر کی تلاشی لی۔
اس سے پہلے نیب کے چیئرمین نے مفتاح اسماعیل کی گرفتاری کے لیے ارسٹ وارنٹ پر دستخط کر دیے تھے۔ 
مسلم لیگ ن کا رد عمل
مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز نے شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری پر اپنے ردعمل میں کہا ’میرے ہموطنو! آپ کے ووٹ سے منتخب ہونے والا ایک اور وزیر اعظم گرفتار! جو آپ کے ووٹ سے آئے گا، کیا یہی لا قانونیت، توہین اور ناانصافی اس کا مقدر بنے گی؟‘
مریم نواز نے شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کے لیے جاری نیب کے اریسٹ وارنٹ کی فوٹو کاپی بھی شیئر کی جس پر مبینہ طور پر عباسی کو گرفتار کیا گیا۔
لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال اور مریم اورنگزیب نے گرفتاری کی مذمت کی اور سیاسی انتقام قرار دیا۔

مریم نواز اور شہباز شریف نے شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کی مذمت کی اور گرفتاری کے وارنٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر بھی کیا: فوٹو اے ایف پی

علاوہ ازیں مسلم  لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ٹویٹ کرکے شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کی تصدیق کی۔ انہوں نے ٹویٹ کی کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو وارنٹ گرفتاری کی کاپی دکھا کر گرفتار کر لیا گیا۔
مسلم لیگ ن رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے ٹویٹ کیا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو غیر مصدقہ کاپی(وارنٹ) پر گرفتار کر لیا گیا۔ ’اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب)  نے مسلم لیگ ن کے سینیئر نائب صدر کو گرفتار کر لیا جبکہ پی ٹی آئی کے چھتری تلے میگا کرپشن کیسز انٹچ ہیں۔‘
نیب نے شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری سے متعلق ایک پریس رلیز جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ انہیں ایل این جی کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ 

حکومتی موقف

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے گرفتاری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘ کا مصرعہ استعمال کیا۔
جمعرات کو کراچی میں نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو گرفتار کیا جا رہا ہے تو لازمی انہوں نے کچھ کیا ہی ہو گا۔ نیب ایک آزاد ادارہ ہے وہ اپنے طور پر کام کر رہا ہے۔

حزب اختلاف کا بیان

جمعرات کو شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کے بعد لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا
 کہ خاقان عباسی کی گرفتاری رانا ثنا اللہ کی طرح جعلی ہے۔ ان کو روک کر گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے وارنٹ کا پوچھا، جس پر نیب کے افسر پریشان ہو گئے اور دفتر کی طرف بھاگے، پھر ڈی جی لیول کے افسر آئے اور شاہد خاقانی عباسی کو وٹس ایپ میسج دکھایا جس پر انہوں نے پوچھا تحریری آرڈر کہاں ہے۔ جس پر افسر پھر بھاگے اور ایک فوٹو کاپی لے کر آئے۔
یہ حال ہے اس حکومت کا، صرف مسلم لیگ ن ان کا ٹارگٹ ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ گیارہ ماہ میں معیشت کا جنازہ نکال دیا گیا ہے اور اسے چھپانے کے لیے اپوزیشن ارکان کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیر اعظم کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عوام کے منتحب نمائندوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا تسلسل ہے۔
’سلیکٹڈ حکومت سیاسی مخالفین کو زیر حراست رکھنے و گرفتاریوں کے ذریعے اپنی ناکامیاں چھپانا چاہتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’سلیکٹڈ حکومت کی جانب سے متحدہ اپوزیشن کے خلاف غیر قانونی و غیر آئینی ہتھکنڈوں کے ذریعے امتیازی احتساب ناقابل قبول ہے۔‘

شاہد خاقان عباسی پر الزام کیا ہے؟

سابق وزیر اعظم پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور وزیر قطر کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور ایل این جی ٹرمینل کا غیر قانونی ٹھیکہ دیا تھا۔ چند ماہ پیش تر نیب چیئرمین جاوید اقبال کے زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی تحقیقات کی منظوری دی گئی تھی۔
اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من پسند کمپنی کو دیا جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔
اردو نیوز کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ گرفتاری کے لیے تیار ہیں اس سے قبل بھی انہوں نے گرفتاریاں دیکھی ہیں۔
 شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ان کے خلاف نیب کیسز کی حثییت وہ جانتے ہیں اور پورا پاکستان بھی ۔ ’نیب احتساب کا ادارہ نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کا ادارہ ہے ۔ میں بات نہیں کروں گا تو نیب مجھے نہیں پوچھے گا لیکن جب بات کروں گا تو پوچھیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نیب سیاستدانوں کو دبانے کے لیے بنایا گیا تھا اور آج بھی اسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بھی نیب نے 70 دن تک گرفتار رکھا مگر آج تک یہ نہ بتا سکی کہ الزام کیا ہے۔

شیئر: