دبئی: بینک اہلکار کھاتے دار کے اکاؤنٹ سے 10 لاکھ درہم نکال کر فرار

کھاتیدار نے بتایا کہ فکسڈ ڈپازٹ سیکشن کے انچارج نے دونوں چیک اپنے قلم سے بھرے تھے۔ تصویر: اے ایف پی
دبئی کے قومی بینک میں ایک کھاتیدار کے ساتھ ایک غیر متوقع واقعہ پیش آیا۔ بینک اہلکار نے کھاتیدار کو چکمہ دیکر اس کے اکاؤنٹ سے 10 لاکھ درہم نکالے اور امارات سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
اخبار الامارات الیوم کے مطابق دبئی میں فوجداری عدالت نے غبن کے مقدمے کی سماعت شروع کردی۔ مدعی نے الزام لگایا ہے کہ 42سالہ عرب بینک اہلکار اس کے کھاتے سے 10لاکھ درہم نکال کر فرار ہوگیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انہیں ان کی رقم واپس دلائی جائے۔
مدعی نے دبئی پبلک پراسیکیوشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ اس نے تین ماہ قبل بینک میں 10لاکھ درہم جمع کرائے تھے۔ پھر اس نے یہ رقم فکسڈ ڈپازٹ کرادی تھی۔

کھاتیدار نے واضح کیا کہ چیک لکھنے کیلئے جو روشنائی استعمال ہوئی تھی وہ ایک خاص وقت کے بعد مٹ جاتی ہے۔

 ایک دن بینک اہلکار نے رابطہ کرکے تعارف کرایا کہ وہ فکسڈ ڈپازٹ سیکشن کا انچارج ہے۔ 1850درہم کا منافع آچکا ہے۔بینک آکر فکسڈ ڈپازٹ توڑ کر منافع کی رقم اس میں شامل کرالیں۔ ان کے مطابق انچارج بینک آنے پر اصرار کر رہا تھا۔
کھاتیدار اگلے روز بینک پہنچا اور انچارج سے ملاقات کی۔ مدعی کے بقول انچارج نےدو چیکس پر دستخط کرائے۔ پہلے کا تعلق فکسڈ ڈپازٹ والی رقم اور دوسرے چیک کا تعلق منافع والی رقم سے تھا۔
کھاتیدار نے بتایا کہ فکسڈ ڈپازٹ سیکشن کے انچارج نے دونوں چیک اپنے قلم سے بھرے تھے اور انہوں نے ان دونوں پر دستخط ان سے کرایا تھا۔ انچارج نے دونوں چیک اسکین کراکر اپنے پاس رکھ لیے اور اصل واپس کردیے۔
کھاتیدار نے توجہ دلائی کہ اس واقعہ کے دو روز بعد بینک سے پیغام آیا کہ 10لاکھ درہم تمہارے کھاتے میں جمع کردیے گئے ہیں۔ اگلے روز پیغام آیا کہ رقم نکال لی گئی ہے۔ بینک سے رابطہ کرنے پر پتہ چلا کہ وہ اہلکار جو خود کو فکسڈ ڈپازٹ سیکشن کا انچارج بتا رہا تھا، رقم اس نے نکالی۔

 بینک انچارج نے دونوں چیک اسکین کراکر اپنے پاس رکھ لیے اور اصل واپس کردیے۔

کھاتیدار نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ چیک لکھنے کیلئے جو روشنائی استعمال ہوئی تھی وہ ایک خاص وقت کے بعد مٹ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا بینک اہلکار نے اسکا فائدہ اٹھاکر دونوں چیکس میں مذکور معلومات تبدیل کردیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انکے  دستخط اپنی جگہ پر موجود تھے کیونکہ وہ انہوں نے اپنے قلم سے کیے تھے لہذا بینک اہلکار نے انکے دستخط سے انکی رقم نکالی اور امارات سے فرار ہوگیا۔
کھاتیدار نے پولیس میں رپورٹ درج کرادی۔ بینک نے پورے واقعہ کی تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ کھاتیدار بے قصور ہے اور اسکے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ بینک نے اس کی رقم واپس کردی ۔
دبئی پبلک پراسیکیوشن نے منی لانڈرنگ اور امارات کے سینٹرل بینک میں مشکوک معاملات کے انسداد پر مامور یونٹ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرے۔ اس میں سینٹرل بینک اور دبئی پولیس کے افسران شامل ہوں اور وہ مفصل رپورٹ تیار کرکے بتائیں کہ بینک اہلکار فرار ہونے میں کس طرح کامیاب ہوا۔ متاثرہ فرد کو انکی رقم واپس کی جائے اور بینک اپنے اہلکار کے خلاف پولیس میں رپورٹ بھی درج کرائے۔

شیئر: