’اپنا گند اپنے پاس رکھیں‘: سری لنکا برطانیہ کو اس کا کچرا واپس بھیجے گا

کسٹم حکام کے مطابق پورٹ پر چھورٹے گئے 111 کنٹینرز میں انسانی اعضا بھی موجود ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
سری لنکا کی حکومت نے برطانیہ سے سمگل کیے جانے والے ہسپتال اور مردہ خانے کے کچرے کو واپس برطانیہ بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔
سری لنکا کے کسٹم حکام کے مطابق برطانیہ سے مردہ خانے اور کلینکل کچرے کو ری سائیکل کرنے کی آڑ میں سری لنکا بھیجا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کسٹم حکام کے حوالے سے بتایا کہ سمگلنگ میں ملوث گروپ کو گذشتہ ہفتے اس وقت پکڑا گیا جب کولمبو کی بندر گاہ سے شکایت موصول ہوئی کہ ایک امپورٹر یعنی درآمد کنندہ نے 111 کنٹینرز پورٹ پر چھوڑ دیے ہیں جن میں سے شدید بدبو آرہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروپ 2017 سے ملک میں کچرا سمگل کرنے میں ملوث ہے۔ کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان سنیل جیارتنے نے اے ایف پی کو بتایا کہ 2017 سے اب تک کل 241 کنٹینرز درآمد کیے گئے جن میں سے 130 کنٹینرز کو بظاہر ری سائیکل کرکے دوبارہ ایکسپورٹ کرنے کے لیے ایک  فری ٹریڈ زون لے جایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کسٹم حکام پورٹ پر چھوڑے گئے ان 111 کنٹینرز کو دوبارہ برطانیہ بھجوانے کے لیے فوری اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان 130 کنٹینرز کو جو کہ پورٹ سے کلئیر ہو چکے ہیں ماحولیاتی اور دوسرے قوانیں کے تحت ڈیل کیا جائے گا۔ ترجمان نے کہا کہ ان 130 کنٹینرز میں استعمال شدہ گند، پلاسٹک اور ہسپتال سے نکالا گیا کچرا بھرا ہوا تھا۔ یہ چیزیں مضر اور خطرناک اشیا کی شپنگ سے متعلق عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درآمد کی گئی ہیں۔

 کسٹم حکام کے مطابق پورٹ پر چھوڑے گئے 111 کنٹینرز کو دوبارہ برطانیہ بھجوانے کے لیے فوری اقدامات  کیے جا رہے  ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

جیا رتنے کا کہنا تھا کہ جس سری لنکن کاروباری فرد نے ان کنٹینرز کو درآمد کیا ہے اگر وہ انہیں واپس بھیجنے میں ناکام ہوئے تو ان کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ کچرا برطانیہ سے درآمد کیا گیا تھا۔
سری لنکا کی وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس معاملے کو برطانیہ کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک منظم گروپ ہے جو 2017 سے ان غیر قانونی درآمدات میں ملوث تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پورٹ پر چھوڑے گئے 111 کنٹینرز میں مردہ خانے کا کچرا بشمول انسانی اعضا بھی موجود ہیں۔
سری لنکا کی جانب سے درآمد شدہ کچرے کو ایکسپورٹ کرنے والے ملک کو بھیجنے کا حکم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں انڈونیشا اور فلپائن نے بیرونی کچرے کے شپمنٹس ان ممالک کو واپس بھیج دیے جہاں سے یہ درآمد کیے گئے تھے۔
دو ہفتے پہلے انڈونیشا نے اعلان کیا تھا کہ آسٹریلیا کو 210 ٹن کچرا واپس بھیج رہا ہے جہاں سے اسے انڈونیشا ایکسپورٹ کیا گیا تھا جبکہ کینیڈا نے فلپائن سے کچرے کے 69 کنٹینرز واپس لینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جنہیں کینیڈا سے فلپائن بھیج دیا گیا تھا۔

شیئر: