کویت : شادی سے 2 دن قبل دلہن کی موت کیسے ہوئی؟

 کویت میں شادی سے 2د ن قبل 21سالہ کویتی دلہن فاطمہ الزہراءکی موت سے پرکشش اور اسمارٹ نظر آنے کیلئے ادویہ کے بیجا استعمال اور ڈائٹ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔
کویتی میڈیا کے مطابق شادی سے محض دو دن قبل دلہن کی موت پر مقامی شہریوں نے سوشل میڈیا پر ڈائٹنگ کے اشتہارات پر غصے کا اظہار کیا ۔ فیشن کا پرچار کرنیوالی معروف خواتین پر زبردست نکتہ چینی کی گئی ۔
 سوشل میڈیا کے صارفین نے خبردار کیا کہ ڈائٹنگ کی ایسی دوائیں جو وزارت صحت میں رجسٹرڈ نہ ہوں ان کا بائیکاٹ کیا جائے ۔مقامی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ وزارت کی منظوری کے بغیر ایسی دواﺅں کی تشہیر کرنے والوںکے خلاف ایکشن لیں ۔
 یہ معاملہ کویتی پارلیمنٹ تک پہنچ گیا ۔ پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ آرائشی اشیاءاور دواﺅں کی تشہیرسے متعلق قانونی موقف بیان اوراس حوالے سے قانون سازی کی جائے۔
کویتی وزارت صحت کویتی دلہن کی موت کے واقعہ کے حقیقی اسباب دریافت کرنے کےلئے تحقیقات کر رہی ہے۔وزارت نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پرادویہ کے اشتہار سے متعلق پابندیوں کا احترام کرے۔ خلاف ورزی پر ایک ہزار کویتی دینار جرمانہ ہو گا۔
کویتی اخبار القبس کے مطابق کویتی فیشنسٹ ڈاکٹر خلود نے واضح کیا کہ ان کا دلہن کی موت سے کوئی تعلق نہیں۔جو لوگ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ فاطمہ الزہراءاپنا وزن گھٹانے کےلئے4ماہ سے ان کی تیارکردہ دوا استعمال کررہی تھی وہ غلط ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ الزہراءاپنے طور پر ہی اسی طرح کی ایک ایسی دوا استعمال کررہی تھی جو کویتی وزارت صحت میں رجسٹرڈ اورفارمیسیوں پر دستیاب ہے ۔
 دلہن کے اہل خانہ نے بتایا کہ فاطمہ کی موت کا سبب وزن گھٹانے والی دواﺅں کا استعمال نہیں ۔البتہ وہ شادی سے قبل بہت زیادہ پرکشش آنے کےلئے فاقے کر رہی تھی۔اہل خانہ نے یہ بھی بتایا کہ فاطمہ موٹی نہیں تھی اس کے باوجود وہ کھانے کا بائیکاٹ کئے ہوئے تھی۔دلہن کے باپ نے بتایا کہ اس نے دبلا کرنیوالی دواﺅں سے متعلق کئی ڈاکٹروں سے دریافت کیا تھا ۔ ان سب نے یہی بتایا کہ اس قسم کی دواﺅں سے موت واقع نہیں ہوتی۔

شیئر: