Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیلی کارروائی میں علی لاریجانی کی ہلاکت کے بعد ایران کے مسلسل میزائل حملے

ایران نے بدھ کو خلیجی ممالک اور اسرائیل پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے (فوٹو: اے پی)
اسرائیل کے حملوں میں ایران کے دو سینیئر سکیورٹی عہدیداروں علی لاریجانی اور جنرل غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت اسلامی جمہوریہ کی قیادت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر بدھ کے روز خلیجی عرب ممالک اور اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کا شمار سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک کی طاقتور ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔
جنرل غلام رضا سلیمانی رضاکار فورس بسیج کے سربراہ تھے۔
ایران نے دونوں سینیئر عہدیداروں کی ہلاکت کی تصدیق کی جن کا جنوری میں حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو طاقت سے دبانے میں اہم کردار تھا۔
ایران نے بدھ کے روز اسرائیل کی جانب میزائلوں کی ایک بڑی تعداد داغی جس کے بعد ملک کے وسطی علاقوں میں سائرن بجنے لگے اور تل ابیب میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سُنی گئیں۔
اسرائیل کی طبی امدادی سروس نے بتایا کہ رامات گان میں دو افراد ہلاک ہو گئے، جو تل ابیب کے مشرق میں واقع ایک علاقہ ہے۔
سعودی عرب، کویت اور دیگر عرب ممالک پر بھی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے جنہیں فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو اور بیشتر اتحادیوں نے ان کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کریں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کا مقصد ایران کی حکومت کو کمزور کرنا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سیلمانی بھی حملے میں مارے گئے ہیں۔ 
اسرائیل وزیر دفاع کے بیان کے مطابق’ مجھے ابھی چیف آف سٹاف نے بتایا گیا ہے کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری لاریجانی اور بسیج کے سربراہ کو گذشتہ رات مار دیا گیا ہے۔‘

 

شیئر: