’جادوئی جھیل‘ جو دن میں سات مرتبہ رنگ تبدیل کرتی ہے!

اس جھیل کے بارے میں آج تک یہ نہیں پتہ چل سکا کہ اس کا پانی کہاں سے آتا ہے۔ فوٹو بشکریہ سی این این
کیا آپ نے کبھی کسی ’جادو والی جھیل‘ کا نام سنا ہے؟ اگر نہیں تو یقیناً یہ نام سنتے ہی آپ بھی حیران ہوگئے ہوں گے۔ اس جھیل کی خاص بات ہی یہی ہے کہ اس کا نام سنتے ہی تجسس پیدا ہونے لگتا ہے کہ اس پراسرار جھیل پر ایک بار تو ضرور جایا جائے اور دیکھا جائے آخر ایسا کیا ہے جس نے اسے جادوئی بنا رکھا ہے۔
جادو والی یہ جھیل مصر کے معروف شہر الفیوم کی وادی الریان میں واقع ہے۔
امریکی چینل سی این این کے مطابق اسے جادو والی جھیل اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دن میں سات مرتبہ رنگ تبدیل کرتی ہے ۔اس میں مختلف دھاتیں بھاری مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ جوڑوں کے امراض میں مبتلا افراد اگر اس جھیل کی ریت میں 12گھنٹے گزاریں تو وہ مرض سے شفایاب ہو جاتے ہیں۔

جادو والی جھیل کے کنارے مختلف سیاحتی سرگرمیاں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ فوٹو بشکریہ سی این این

جادو والی جھیل کا محل وقوع بڑا منفرد ہے۔ یہ محفوظ قدرتی جنگل کے درمیان ریت کے تودوں اور صحرا کے ڈھلوانی مقامات کے بیچوں بیچ واقع ہے جس کے بارے میں آج تک یہ نہیں پتہ چل سکا کہ اس کا پانی کہاں سے آتا ہے۔ 
مصر کے معروف مصور نادر العاصی نے اس منفرد جھیل کی تصاویر لے کر سوشل میڈیا پر شیئر کیں جو وائرل ہوگئیں۔ العاصی پیشہ ور فوٹو گرافر ہیں اور ان کی جاری کردہ تصاویر دیکھنے والے کو حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ 
اس جھیل کے کنارے مختلف سیاحتی سرگرمیاں منعقد ہوتی رہتی ہیں، یہاں سیاح خیمے نصب کرتے ہیں اور ریت پر سکیٹنگ کرتے ہیں۔ البتہ ان کا نہانے کا شوق پورا نہیں ہوسکتا کیونکہ اس جھیل میں نہانے پر پابندی عائد ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ جھیل نہانے کے لیےکسی بھی طرح موزوں نہیں ہے۔
العاصی کا کہنا ہے کہ اس جھیل کی سب سے  دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جھیل کا پانی ریت میں کہاں سے نکلتا ہے اس حوالے سے کوئی حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ 

الفیوم مصر میں قدرتی مناظر سے مالا مال علاقوں میں سے ایک ہے۔ فوٹو بشکریہ سی این این

الفیوم مصر میں قدرتی مناظر سے مالا مال علاقوں میں سے ایک ہے، یہاں سحر آفرین قدرتی مناظر ہر طرف بکھرے نظر آتے ہیں۔ یہیں قارون جھیل بھی پائی جاتی ہے جسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ الفیوم پہنچتے ہیں۔
سیاحتی امور کے ماہر رامی علیوہ کا کہنا ہے کہ جادو والی جھیل مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے 150کلومیٹر دور ہے۔ اس کے اطراف ’المشجیجہ‘ پہاڑ ہے۔ یہ وادی صحرائی سپورٹس کے میلوں کا مرکز بن چکی ہے۔ دو برس قبل یہاں نو عرب اور یورپی ممالک کے اشتراک سے بڑا خوبصورت میلہ منعقد ہوا تھا جس میں امریکہ، برازیل، میکسیکو، چلی، پیرو، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اردن اور مصر شریک ہوئے تھے۔

شیئر: