’آپ محمد رفیع کو بھول گئے ہیں‘

باپ نے بیٹے کو بادلِ نخواستہ بمبئی جانے کی اجازت تو دی لیکن لاہور ریلوے سٹیشن پر رخصت کرتے ہوئے یہ ضرور کہا: ’اگر تمھیں بمبئی میں موسیقی کے میدان میں کامیابی نہ ملے تو پلٹ کر مت آنا، میں یہ بھول جاﺅں گا کہ رفیع نام کا میرا کوئی بیٹا بھی تھا۔‘ 
بیٹے نے گلوکاری میں بے نظیر کامیابیاں حاصل کیں اورفخرِخاندان بنا۔
محمد رفیع کی پیدائش تو سنہ 1924 میں امرتسر کے ایک گاﺅں کوٹلہ سلطان سنگھ میں ہوئی لیکن ان کا بچپن اور جوانی لاہور کے گلی کوچوں میں گزری۔ عمرِعزیز کے ابتدائی نو دس برس وہ اندرون بھاٹی دروازے کے مردم خیز علاقے میں رہے، جو ناموروں کا گڑھ تھا۔
اس کے بعد سنہ 1942 میں بمبئی جانے تک  بلال گنج میں رہے۔ محمد رفیع کا تعلق موسیقی کے کسی روایتی گھرانے سے نہ تھا لیکن گانے کا شوق ان کی گُھٹی میں تھا، اس لیے بچپن میں کسی کی دیکھا دیکھی نہیں بلکہ یہ خود بخود ان کے دل میں گھر کر گیا۔ 
پہلی آواز جس نے محمد رفیع کو  متاثر کیا وہ ایک فقیر کی تھی جو ان کی گلی میں آتا، اس کے ساتھ وہ دور تک نکل جاتے تاکہ زیادہ دیر تک اس کی سریلی آواز سے محظوظ ہوسکیں۔ جس گیت نے سب سے زیادہ ان کے دل کو چُھوا اس کے بول تھے ’کھیڈن دے دن چار۔‘
محمد رفیع کے گھر والوں نے جان لیا کہ ان کا جی موسیقی کے سوا کسی کام میں نہیں لگتا، وہ اسے شوقِ فضول جانتے کیونکہ جس ماحول میں وہ زیست کررہے تھے وہاں گانا بجانا ذریعہ عزت نہ تھا۔

کشور کمار اور محمد رفیع کی ایک یادگار تصویر 

رفیع کے بڑے بھائی محمد دین کا ہیئر کٹنگ سیلون تھا، اس نے مستقبل کے عظیم گلوکار کو جس نے گیسوئے موسیقی سنوارنے تھے، اسے اپنے ساتھ دکان پر بٹھا لیا کہ وہ بال تراشنے کا کام سیکھ جائے لیکن محمد رفیع کے دماغ پر کوئی اور ہی دھن سوار تھی۔ دکان پر بیٹھ کر بھی وہ اپنے فن کا اظہار کرتے رہتے۔ مزاروں پر بھی ہنر آزماتے۔ بھائی کی دکان پر آل انڈیا ریڈیو لاہور سٹیشن کے میوزک پروڈیوسر جیون لال مٹو نے محمد رفیع کی آواز سنی تو ریڈیو کے دروازے ان کے لیے کھل گئے۔ آواز کا جادو جگانے کا موقع تو ملا ہی، بڑے بڑے گویوں کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کے مواقع بھی میسر آئے۔ 
سنہ 1937 میں کے ایل سہگل کی لاہور آمد شہر کی ثقافتی زندگی کا اہم واقعہ ہے۔ عظیم گائیک کو سننے لوگ جوق در جوق منٹو پارک پہنچے، جن میں 13 برس کے محمد رفیع بھی شامل تھے۔ پروگرام کے بیچ لاﺅڈ سپیکر میں خرابی پیدا ہوئی اور سہگل نے گانا بند کیا تو مجمع میں بے چینی پیدا ہوئی جسے فرو کرنے کے لیے منتظمین نے محمد رفیع کو سٹیج پر چڑھادیا، اب جو انھوں نے گانا شروع کیا تو سامعین شانت ہوکر بیٹھ گئے، عام عوام کا مسحور ہونا اہم سہی لیکن اصل بات اس آواز کی ندرت سے کے ایل سہگل کا متاثر ہونا تھا جنھوں نے اس موقع پر رفیع کے مستقبل میں نامور گلوکار بننے کی پیش گوئی کی۔ 
محمد رفیع کی آواز کی خوشبو رفتہ رفتہ پھیل رہی تھی، بس وہ کسی بریک کی تلاش میں تھے۔ وہ لمحہ بھی آن پہنچا۔ میوزک ڈائریکٹر شیام سندر نے ریڈیو پر ان کا گانا سنا، آواز بھلی لگی تو انھوں نے پنجابی فلم ’گل بلوچ‘ میں محمد رفیع کو چانس دلا دیا اور یوں 28 فروری 1941 کو ان کا پہلا پنجابی گانا ریکارڈ ہوا۔ اس سے ان کی شناخت کا دائرہ وسیع ہوا۔
اداکار ناصر خان کو محمد رفیع کی آواز اچھی لگی تو انھوں نے نوجوان گلوکار کو بمبئی چلنے کی تحریک دی جو برصغیر میں فلم انڈسٹری کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ 
محمد رفیع بمبئی جانے کے لیے مچل رہے تھے لیکن گھر والے اس معاملے پر لیت ولعل سے کام لے رہے تھے تاہم شوق کی جیت ہوئی۔ وہ بمبئی پہنچے تو بڑے گلوکاروں کا طوطی بول رہا تھا سب سے بڑھ کر، کے ایل سہگل کا لیکن وہ اتنا بڑا ٹیلنٹ تھے کہ ان کا ابھرنا طے تھا۔

سنہ 1947 میں ریلیز ہونے والی فلم ’جگنو‘ کا پوسٹر

بمبئی میں ان کو پہلا چانس فلم ’گاﺅں کی گوری‘ میں ملا جس میں یہ گیت انھوں نے گایا:
’اجی دل ہو قابو تو دلدار کی ایسی تیسی‘
بمبئی میں کسی کے وسیلے سے انھیں نوشاد کے والد کا سفارشی رقعہ مل گیا۔ نوشاد ان دنوں اے آر کاردار کی فلم ’پہلے آپ‘ کی موسیقی ترتیب دے رہے تھے۔ انھوں نے فلم کے ایک کورس گیت میں ان سے گوایا۔ فلم ’شاہ جہاں‘ میں بھی موقع دیا۔
 سنہ 1946میں فلم ’جگنو‘ کا آغاز ہوا۔ دلیپ کمار ہیرو نور جہاں ہیروئن، فلم کے موسیقار فیروز نظامی رفیع کی آواز کے معترف تھے۔ فلم ’شربتی آنکھیں ‘ میں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا چکے تھے لیکن ’جگنو‘ میں نور جہاں کے ساتھ گانے کے لیے ان کا انتخاب کرنے میں پس وپیش سے کام لے رہے تھے لیکن نور جہاں کی پرزور سفارش پر مان گئے۔
محمد رفیع نے نور جہاں کی یہ کرم فرمائی ہمیشہ یاد رکھی۔ دونوں نے ’جگنو‘ میں وہ یاد گار گیت گایا جو 72 برس گزر جانے پر بھی پرانا نہیں ہوا اور آج بھی سنیں تو کانوں میں رس گھولتا ہے
 یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے
محبت کرکے بھی دیکھا محبت میں بھی دھوکا ہے
اس فلم سے صحیح معنوں میں رفیع کی شہرت نے جڑ پکڑی۔ برسوں بعد نور جہاں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنے مخصوص انداز میں انہیں یوں خراج تحسین پیش کیا: ’رفیع نے جب گانا شروع کیا تو اس نے تو پھٹیاں اکھیڑ دیں۔‘
جگنو کے بعد فلم ’میلہ‘ نے فلم انڈسٹری میں پلے بیک سنگر کے طور پر رفیع کے قدم مضبوطی سے جما دیے۔ اس گیت نے انھیں بہت شہرت بخشی
 یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے
 افسوس ہم نہ ہوں گے ، افسوس ہم نہ ہوں گے
فلم ’بیجو باورا‘ میں ان کا یہ گیت ’او دنیا کے رکھوالے ، سن درد بھرے میرے نالے، بھی بہت مقبول ہوا۔ نوشاد نے ایک جگہ بتایا تھا کہ پھانسی سے پہلے ایک مجرم سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ وہ محمد رفیع کا مذکورہ گانا سننا چاہتا ہے۔ 
اس کے بعد محمد رفیع کی شہرت کے چراغ کی لو بڑھتی چلی گئی۔

محمد رفیع اور موسیقار نوشاد

ان چھ گانوں پر انھیں فلم فیئر ایوارڈ ملا:
 چودھویں کا چاند ہو، یا آفتاب ہو
تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے، چشم بددور
چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے
بہاروں پھول برساﺅ 
دل کے جھروکے میں
کیا ہوا تیراوعدہ
ان کے سوا بھی بہت سے گانے لوگوں کی یادوں میں محفوظ ہوئے جیسے فلم ’نیل کمل‘ کا یہ گانا:
 بابل کی دعائیں لیتی جا، جا تجھ کو سکھی سنسار ملے
یا پھر نصیب در پہ ترے آزمانے آیا ہوں
فلم ’دلاری‘ کا یہ گانا بھی بہت ہٹ ہوا: سہانی رات ڈھل چکی ، نہ جانے تم کب آﺅ گے
رفیع نے اپنے عہد کے تمام بڑے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ بڑے بڑے فلم سٹاروں پران کے گانے پکچرائز ہوئے۔ انڈین فلم انڈسٹری میں پلے بیک سنگر کے طور پر انھیں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔
سنہ 1967 میں انڈین حکومت نے انھیں پدم شری ایوارڈ دیا۔ 
سنہ 2001 میں انہیں ’بیسٹ سنگر آف دی ملینیم ‘ اور 2013 میں ایک پول میں’ گریٹیسٹ وائس ان ہندی سینما‘ قرار دیا گیا۔
اسی طرح بی بی سی ایشین نیٹ ورک نے ایک دفعہ ووٹنگ کرائی تو اس میں محمد رفیع کے گانے، بہارو پھول برساؤ، میرا محبوب آیا ہے، کو بالی وڈ کی تاریخ کا مقبول ترین گیت قرار دیا گیا تھا۔
31 جولائی 1980کو بمبئی میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔ 

فلم ’چودھویں کا چاند‘ کے گیت آج بھی مقبول ہیں 

محمد رفیع اور نواز شریف

 انڈین حکمرانوں پر ہی موقوف نہیں، دوسروں ممالک کے حاکم بھی ان کے قدر دان ہیں۔ سری لنکا کے یوم آزادی پر رفیع نے پرفارم کرنا تھا پروگرام کے مطابق صدر اور وزیر اعظم نے تقریب کے افتتاح کے بعد وہاں سے چلے جانا تھا لیکن عظیم گلوکار نے سر چھیڑے تووہ پھر محفل کے ختم ہونے تک نشستوں پر براجمان رہے۔ 
سابق پاکستانی وزیر اعظم محمد نواز شریف بھی محمد رفیع کے فین ہیں۔ معروف صحافی سہیل وڑائچ کو انھوں نے انٹرویو میں بتایاکہ جوانی میں وہ دوست احباب کی محفل میں ان کے گیت شوق سے گاتے بھی تھے۔ 
نواز شریف کے بقول’محمد رفیع جیسی آواز زندگی میں کبھی نہیں سنی، محمد رفیع کا فلم ’دیدار‘ کا یہ گانا ’ہوئے ہم جن کے لیے برباد  مجھے بہت پسند ہے‘

محمد رفیع اور لتا کے دوگانے آج کے دور میں بھی سنے جاتے ہیں

 ’لاہور میں گانے کا خواب پورا نہ ہوا‘

محمد رفیع نے دنیا کے بہت سے ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا لیکن  پاکستان  کے باسی براہ راست ان کی آواز سننے سے محروم رہے۔
 محمد رفیع کی بہو یاسمین خالد رفیع نے اپنے سسر پر ’محمد رفیع : مائی ابا اے میموئر‘ کے عنوان سے کتاب لکھی جس میں بتایا ہے کہ 1962 میں  پاکستان  میں ان کے کنسرٹ کا پروگرام طے ہوا، اس کی تشہیر بھی ہوئی لیکن انڈیا اور چین کی جنگ نے اس میں کھنڈت ڈال دی۔
یاسمین نے لکھا ہے کہ اس مجوزہ دورے سے ایک سال قبل1961 میں وہ اپنے والد کے انتقال پر اپنے بیٹے خالد کے ساتھ لاہور آئے اور بلال گنج آبائی گھر دیکھنے بھی گئے۔
 یاسمین کے مطابق وہ ریڈیو پاکستان شوق سے سنتے جس کی بڑی وجہ صابری برادران کی قوالی سننا ہوتا۔
محمد رفیع کے چھوٹے بھائی محمد صدیق جو گلوکاری بھی کرتے اور بلال گنج میں رہتے ہیں، انھیں  کچھ عرصہ  پہلے تک رفیع کی یاد میں ہونے والی تقریبات میں بلایا جاتا تھا جہاں وہ بھائی سے جڑی یادیں تازہ کرتے۔

’بھلے مانس انسان‘

 محمد رفیع بھلے مانس اور سیدھے سادے انسان تھے۔ اپنے کام سے کام رکھنے والے۔ بے پناہ شہرت کے باوجود منکسرالمزاج، پیشہ ورانہ زندگی میں کشور کمار اور لتا سے ان کے تعلقات میں رخنہ آیا لیکن اس نے مستقل عناد کی صورت اختیار نہیں کی۔ لتا نے ایک انٹرویو میں بطور فنکار ان کی تعریف تو کی ہی یہ بھی بتایا کہ وہ بہت اچھے انسان بھی تھے۔
آشا بھوسلے سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ کشور کمار، مناڈے اور مکیش میں سے  ان کا پسندیدہ گلوکار کون ہے تو انھوں نے جواب دیا: ’آپ محمد رفیع کوبھول گئے ہیں۔‘

شیئر: