Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سالانہ ’دو ہزار فلمیں‘، مگر آسکر انڈین فلموں کا اب تک خواب کیوں؟

بالی وُڈ کا آسکر کا سفر 1957 میں فلم ’مدر انڈیا‘ سے شروع ہوا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی فلمی صنعت ہر سال تقریباً دو ہزار فلمیں بناتی ہے لیکن اس کے باوجود کوئی بھی انڈین فلم اب تک آسکر ایوارڈز حاصل نہیں کر سکی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بالی وُڈ کا آسکر کا سفر 1957 میں فلم ’مدر انڈیا‘ سے شروع ہوا تھا۔
یہ فلم بہترین غیر ملکی زبان کی فلم کیٹیگری کے ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی تھی لیکن صرف ایک ووٹ کے فرق سے اطالوی ہدایتکار فیڈریکو فیلینی کی فلم ’نائٹس آف کبیریا‘ سے ہار گئی تھی۔
اس کے بعد کئی دہائیوں میں صرف دو انڈین فلمیں ’سلام بمبئی‘ اور ’لگان‘ ہی وہ ایسی فلمیں ہیں جو بڑی فلمی کیٹیگریز میں فائنل نومینیشن (نامزدگی) تک پہنچ سکی ہیں۔
رواں برس بھی ہدایتکار نیرج گھایوان کی فلم ’ہوم باؤنڈ‘ کو 98ویں اکیڈمی ایوارڈز میں بین الاقوامی فیچر فلم کی 15 فلموں کی ابتدائی فہرست میں جگہ ملی، تاہم یہ آخری پانچ فلموں میں شامل نہ ہو سکی۔ معروف فلم ساز شیکھر کپور نے اس بارے میں اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مقابلے میں دیگر فلمیں بھی اتنی ہی اچھی تھیں۔‘
اگرچہ بڑی فلمی کیٹیگریز میں کامیابی کم رہی ہے، لیکن انڈیا کو آسکر تقریب میں کچھ اہم اعزازات ضرور ملے ہیں۔ سنہ1992 میں معروف انڈین فلم ساز ستیہ جیت رے کو اعزازی اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا تھا۔
سنہ1999 میں شیکھر کپور کی فلم ’الزبتھ‘ کو سات آسکر نامزدگیاں ملیں، تاہم یہ زیادہ تر تکنیکی شعبوں میں تھیں۔
حالیہ برسوں میں بھی انڈیا نے کچھ نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سنہ2023 میں فلم ’آر آر آر‘ کے گانے ’ناتو ناتو‘ نے بہترین اوریجنل گانے کا آسکر جیتا جبکہ دستاویزی شارٹ فلم ’دی ایلیفنٹ وسپررز‘ نے بھی اسی سال بہترین ڈاکومنٹری شارٹ فلم کا ایوارڈ حاصل کیا۔
اسی طرح موسیقار اے آر رحمان نے سنہ2008 میں فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کے لیے بہترین میوزک سکور اور بہترین گانے ’جے ہو‘ پر دو آسکر ایوارڈ جیتے، جبکہ اسی فلم کے لیے ریسول پوکُٹی نے بہترین ساؤنڈ مکسنگ کا ایوارڈ حاصل کیا۔
فلمی صنعت سے وابستہ کئی افراد کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف فلموں کا نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی اس میں شامل ہیں۔ شیکھر کپور کے مطابق انڈین فلمیں آسکر میں اس لیے پیچھے رہ جاتی ہیں کیونکہ ان میں ’ثقافتی جڑت‘ اور تجارتی فارمولہ زیادہ ہوتا ہے، جس میں مہنگے گانے اور رقص کے مناظر شامل ہوتے ہیں اور بعض اوقات کہانی کو پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں۔

سنہ2023 میں فلم ’آر آر آر‘ کے گانے ’ناتو ناتو‘ نے بہترین اوریجنل گانے کا آسکر جیتا (فوٹو: روئٹرز)

اداکار اور ہدایتکار انوپم کھیر، جن کی فلم ’تنوی دی گریٹ‘ اس سال بہترین فلم کی دوڑ کے لیے اہل 201 فلموں میں شامل تھی، نے اے ایف پی کو بتایا کہ ممکن ہے کہ ’ہم بہترین فلم کا انتخاب نہیں کر رہے ہوتے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایسا نہیں کہ ہم اچھی فلمیں نہیں بنا رہے۔ آج کل علاقائی فلمیں بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے۔‘
انوپم کھیر کے مطابق کچھ انڈین پروڈکشن ٹیمیں اپنی فلموں کی تشہیر پر آنے والے بڑے اخراجات کو برداشت کرنے میں بھی مشکل محسوس کرتی ہیں۔
فلم ساز کیتن مہتا نے کہا کہ صرف فلم کا انتخاب کافی نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق ’امریکہ میں فلم کی مارکیٹنگ اور لاس اینجلس میں آسکر جیوری کے سامنے اس کی پیشکش بہت اہم ہوتی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انڈین فلمیں اکثر دوڑ سے باہر ہو جاتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اچھی تنقیدی رائے کے باوجود ہدایتکار کرن راؤ کی 2023 کی فلم ’لاپتا لیڈیز‘ اور پایل کپاڈیا کی 2024 کی فلم ’آل وی امیجن ایز لائٹ‘ کو بھی امریکہ میں مؤثر تشہیری مہم نہ ہونے کی وجہ سے آسکر میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔
فلم فیڈریشن آف انڈیا کے سابق صدر فردوس الحسن نے کہا کہ ’بڑے بجٹ کا ہونا بھی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا، چاہے فلم دھرما پروڈکشن یا پروڈیوسر عامر خان جیسے بڑے ناموں کی کیوں نہ ہو۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ غیر یقینی کا ایک شاندار کھیل ہے۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ آسکر جیتنے کے لیے کیا ضروری ہے یا کون سی فلم کامیاب ہوگی تو ہر کوئی فلمیں بنانے لگتا۔‘ ان کے مطابق ’یہ ایک تخلیقی میدان ہے، کوئی ریاضی نہیں۔‘

شیئر: