دماغ کو پڑھنے کا تصور اب حقیقت

فیس بک کی تحقیق سے اب دماغ سے ملنے والے اشاروں کو الفاط میں تبدیل کرنا ممکن ہو سکے گا۔ فوٹو اے ایف پی
فیس بک انسانی دماغ کو مشین کے ساتھ جوڑنے کے تصور کو حقیقت میں بدلنے جا رہا ہے۔ فیس بک کی جانب سے فنڈ کی گئی تحقیق نے دماغ سے ملنے والے اشاروں کو لفظوں میں تبدیل کرنے کو ممکن بنا دیا ہے۔  
 یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی جانب سے شائع کی گئی حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سائنسدانوں کو دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان رابطہ قائم کرنے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ 
فیس بک نے منگل کو ایک پوسٹ کے ذریعے اپنے صارفین کو آگاہ کیا کہ آج سے دس سال بعد دماغ سے ملنے والے اشاروں کو پڑھ کر کمپیوٹر کا خود ہی ٹائپ کرنا عام بات ہوگی۔ 
’کچھ عرصہ پہلے تک، یہ سائنس فکشن لگتا تھا۔ لیکن اب یہ قابل تحقیق ہے۔‘
فیس بک نے مزید کہا کہ اس ٹیکنالوجی کو کمرشل استعمال کے لیے مارکیٹ میں لانے سے پہلے اہم سوالوں پر غور کرنا شروع کر دینا چاہیے جس کے جواب دینا پڑیں گے۔
ویسے تو دماغ کو ملنے والے سگنلز کو کچھ حد تک  پڑھنا ’برین امپلانٹ‘ کے ذریعے ممکن ہے، لیکن اب سائنسدانوں نے ’ریلئیٹی گلاسز‘ کے ذریعے اس عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ 

دماغ سے ملنے والے اشاروں کو پڑھ کر کمپیوٹر خود ہی ٹائپ کر لے گا۔ فوٹو اے ایف پی

اس پراجیکٹ میں کامیابی سے جسمانی طور پر مفلوج افراد کو بالخصوص فائدہ ہوگا یا وہ جو کسی بیماری کی وجہ سے بولنے سے محروم ہیں۔
نیوروسائنٹسٹ ایڈی چینگ نے کہا کہ فالج زدہ مریض اکثر بولنے کی طاقت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ لیکن جو وہ بولنا چاہ رہے ہوتے ہیں، وہ ان کے دماغ میں موجود ہوتا ہے، جس کے لیے ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جس کے ذریعے وہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔
محققین کو امید ہے کہ یہ ٹیکنالجی جو ہزار لفظوں کے ذخیرے پر محیط ہے، ایک منٹ میں سو الفاظ افشاں کر سکتی ہے، جس میں سترہ فیصد سے کم غلطی کی گنجائش ہو گی۔
اس تحقیق کو ’فیس بک ریئلیٹی لیب‘ نے فنڈ کیا تھا جو ’پراجکٹ سٹینو‘ کا حصہ ہے جو لوگوں کی سوچ کو الفاظ میں بدلے گی۔ 
ٹیکنالوجی کے ایک بڑے سرمایہ کار، ایلن مسک نے بھی اس ٹیکنالوجی میں بری کامیابی حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ انسانوں پر تجربہ اگلے سال میں شروع کر دیا جائے گا۔  

شیئر:

متعلقہ خبریں