Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’عدالتی نگرانی کے بغیر جاسوسی‘ ، اوپن اے آئی کی ٹاپ ایگزیکٹو کا پینٹاگون معاہدے پر احتجاجاً استعفیٰ

اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے تنقید کے بعد وضاحت کی ہے کہ کمپنی اپنے معاہدے میں ترمیم کر رہی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی معروف کمپنی اوپن اے آئی(OpenAI) کی روبوٹکس ٹیم کی سربراہ کیٹلن کالینووسکی نے امریکی حکومت کے ساتھ کمپنی کے حالیہ دفاعی معاہدے پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ معاہدہ گزشتہ ماہ اس وقت طے پایا تھا جب اوپن اے آئی کے حریف ادارے اینتھروپک نے اپنی ٹیکنالوجی کے غیر مشروط فوجی استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
کیٹلن کالینووسکی جو اس سے قبل میٹا میں اہم عہدے پر کام کر چکی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ کسی ذاتی رنجش پر نہیں بلکہ اصولوں پر مبنی ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس  پر اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ وہ ’عدالتی نگرانی کے بغیر امریکیوں کی جاسوسی‘ اور ’انسانی مداخلت کے بغیر مہلک ہتھیاروں کے استعمال‘ کو ایسی لکیریں سمجھتی ہیں جنہیں عبور کرنے سے پہلے گہری سوچ بچار کی ضرورت تھی۔
کیٹلن کالینووسکی کا مزید کہنا تھا کہ کمپنی نے پینٹاگون کے ساتھ اس معاہدے کے اعلان میں غیر ضروری جلد بازی سے کام لیا اور اس کے لیے ضروری اخلاقی حدود کا تعین نہیں کیا گیا۔

کیٹلن کالینووسکی کا کہنا تھا کہ کمپنی نے پینٹاگون کے ساتھ اس معاہدے کے اعلان میں غیر ضروری جلد بازی سے کام لیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے تنقید کے بعد وضاحت کی ہے کہ کمپنی اپنے معاہدے میں ترمیم کر رہی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے ماڈلز امریکی شہریوں کی داخلی نگرانی کے لیے استعمال نہ ہوں۔
تاہم کیٹلن کالینووسکی کے نزدیک یہ فیصلہ گورننس کا ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اتنے حساس معاملات پر بغیر کسی ٹھوس لائحہ عمل کے پیش رفت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

شیئر: