’ماں کے ہاتھ کا کھانا‘ دینے والا ڈیجیٹل ریسٹورنٹ

لعلین کے دل میں شروع سے ایک خواہش تھی کہ وہ اسلام آباد میں اپنا ریسٹورنٹ کھولیں۔ لیکن اس کے لیے نہ ان کے پاس سرمایہ تھا اور نہ ہی حالات گھر سے باہر کام کرنے کی اجازت دیتے تھے۔
ایسے میں انھیں کسی نے ’پلیٹ ون زیرو ون‘ کے بارے میں بتایا جو گھر بیٹھے خواتین کو مزیدار کھانے بنا کر کچھ کمانے اور اپنے خاندان کو سپورٹ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ 
’شاید اللہ نے میری ریسٹورنٹ کی خواہش کو اس طرح سے پورا کرنا تھا کہ ایک بہت چھوٹے پیمانے پر پلیٹ ون زیرو ون کو میری زندگی میں لے کر آئے۔‘
لعلین کے ہاتھ کے بنے کھانے گھر والے اور مہمان سب شوق سے کھاتے مگر تعریف کرنے میں ذرا کنجوسی سے کام لیتے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’گھر کے لوگ جب آپ کا کھانا کھاتے ہیں وہ آپ کو فار گرانٹڈ لیتے ہیں۔‘ 


پلیٹ ون زیرو ون لعلین جیسی کئی خواتین شیفس کے پکوانوں کو اپنی ایپ کے ذریعے گاہکوں تک لاتا ہے۔

جب سے لعلین پلیٹ ون زیرو ون کے ساتھ منسلک ہوئی ہیں تب سے ان کے کھانوں پر انہیں بہت سارے اچھے ریویوز (Reviews) مل رہے ہیں۔
اچھے ریویو کیوں نہ ملیں جب وہ اتنے پیار سے کھانا بناتی ہیں۔ ’ڈیلی کا سات لوگوں کا کھانا میں بہت محبت سے ایک ماں کی طرح بناتی ہوں کہ مجھے اچھے ریویوز ملیں گے۔‘
پلیٹ ون زیرو ون لعلین جیسی کئی خواتین شیفس کے پکوانوں کو اپنی ایپ کے ذریعے گاہکوں تک لاتا ہے۔ اس موبائل ایپ پر جا کر ایک ’سیل فوڈ‘ اور ایک ’بائی فوڈ‘ کا آپشن آتا ہے۔ اس کے بعد آپ ’آرڈر فوڈ‘ کے آپشن پر جا کر کھانوں کی فہرست سے اپنی پسند کے کھانے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
آرڈر کرتے وقت خیال رہے کہ فوری ڈیلیوری کے لیے اپنے آس پاس کے گھروں میں بنا ہوا کھانا ہی آرڈر کریں۔ 
’پلیٹ ون زیرو ون ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو ہاؤس وائف کھانا بناتی ہیں اسے ہم ڈیجیٹلی وزیبل کر دیتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو گھر کا کھانا کھانا چاہتے ہیں،‘ یہ کہنا ہے پلیٹ ون زیرو ون کی فاؤنڈر نور صبا کا جو خود بھی کبھی ہاؤس وائف تھیں۔
نور صبا کو گھر بیٹھے بیٹھے اپنے جیسی خواتین کا خیال آیا کہ کیوں نہ ان کے لیے کچھ الگ کیا جائے جس سے وہ اپنے کھانے پکانے کے ہنر سے کچھ فائدہ بھی اٹھا سکیں۔ 
’دو سے تین سال تک ہاؤس وائف رہنے کی وجہ سے مجھے یہ احساس ہوا کہ ہمارے سوشل سیٹ اپ میں ماؤں کے لیے اتنے مواقع نہیں ہیں۔‘


آرڈر کرتے وقت خیال رہے کہ فوری ڈیلیوری کے لیے اپنے آس پاس کے گھروں میں بنا ہوا کھانا ہی آرڈر کریں۔ 

اگر آپ ہاسٹل میں رہتے ہیں تو آپ کو پاس کے ڈھابے سے یا فوڈ پانڈا سے چکن کڑاہی، دال ماش، لوبیا، کڑی پکوڑا اور اس طرح کے بازاری کھانے مل جاتے ہیں۔ لیکن قیمہ بھرے کریلے، بیگن کا بھرتا یا آلو گوشت جیسی ڈشز صرف گھروں میں اپنے کھانے کے لیے ہی بنائی جاتی ہیں۔ 
نور صبا کے جیون ساتھی اور پلیٹ ون زیرو ون کے فاؤنڈر ذیشان شبیر کہتے ہیں، ’ہمارا آئیڈیا یہ تھا کہ بالکل وہی کھانے ہونے چاہیے جو ہم خود گھر میں کھاتے ہیں۔‘ 
ون زیرو ون کے کھانے روایتی لنچ باکس سروس سے کیسے مختلف ہیں اس بارے میں ذیشان کا کہنا تھا، ’ہم اس ٹیسٹ (ذائقے) کو لانا چاہتے تھے جو لوگ خود گھروں میں کھاتے ہیں تا کہ ان کی انگریڈینٹ کوالٹی اور ٹیسٹ بھی وہی ہو جو ہمارے گھروں کا روایتی ٹیسٹ ہے۔‘
آرڈر ملتے ہی پلیٹ ون زیرو ون کی ٹیم اپنے بائیک رائیڈر کی ڈیوٹی لگا دیتی ہے۔ آپ ایپ استعمال کرتے ہوئے آسانی سے ٹریک کر سکتے ہیں کہ کھانا کہاں پہنچا ہے اور کتنی دیر میں آپ کو ڈیلیور کر دیا جائے گا۔ 
ایپ میں سالن کے علاوہ سائیڈ لائن کے طور پر رائتہ، سلاد وغیرہ بھی آرڈر کیا جا سکتا ہے۔  
کھانے کے ضیاع سے بچنے کے لیے پلیٹ ون زیرو ون کے شیفس کو صرف دو وقت کا کھانا بنانے کی اجازت ہے۔ اگر کھانا کوئی نہ خریدے تو رات کو شیف اور ان کے گھر والے وہی کھانا خود کھا سکتے ہیں۔ 


نور صبا کو گھر بیٹھے بیٹھے اپنے جیسی خواتیں کا خیال آیا کہ کیوں نہ ان کے لیے کچھ الگ کیا جائے۔

نور صبا کہتی ہیں، ’ہمارا ماڈل یہ تھا کہ آپ نے جو بھی اپنی فیملی کے لیے بنایا ہے اسی میں سے کچھ حصہ آپ ہمارے پلیٹ فارم کے ذریعے سیل کر سکتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ اپنا کھانا  کسی دوسرے کے ساتھ شیئر کریں۔‘
لعلین کی طرح پلیٹ ون زیرو ون کے ساتھ  100 سے زیادہ خواتین بطور شیف کام کرتی ہیں جو کچھ پیسے کما کر اپنے خاندان کا خرچ چلا رہی ہیں۔ لیکن کچھ ایسی بھی خواتین ہیں جو کھانا بنانے کا کام بطور مشغلہ کرتی ہیں اور پلیٹ ون زیرو ون کے پلیٹ فارم پر کھانوں کی تصاویر پوسٹ کر کے ان سے پیسے کماتی ہیں۔ 
ایسی ہی اسلام آباد کے ایک پوش علاقے کی رہائشی خاتون کے بارے میں نور صبا نے بتایا، ’ہماری ایک وینڈر ہیں جنہوں نے خود بتایا تھا کہ میرا ایک بیٹا لندن میں رہتا ہے میں یہ سوچ کر کھانا سیل کر دیتی ہوں کہ اگر میرا بیٹا نہیں کھا سکتا تو کسی اور کا بچہ کھا لے گا۔‘
پلیٹ ون زیرو ون کے پلیٹ فارم سے کئی خواتین شیفس کا کاروبار دن رات پھلتا پھولتا جا رہا ہے۔
اس پر لعلین بہت خوش ہیں اور کہتی ہیں کہ ’دن بدن میرا ’آن لائن ریسٹورنٹ‘ بڑھتا جا رہا ہے۔ جو میرا خواب بھی تھا۔‘ 

شیئر: