پاکستان کی ضائع ہوتی اربوں روپے کی دولت

مزدور بچے کچرے سے کارآمد چیزیں اکھٹی کرکے فروخت کرتے ہیں۔ (فائل فوٹو:اے ایف پی)
وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی جو ان کا اپنا شہر بھی ہے، سے دو ہفتوں میں کچرا صاف کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے، جس کے تحت تاحال کوئی بڑا اقدام نظر نہیں آیا ماسوائے ٹی وی پروگراموں میں تقریریں کرنے اوربیانات جاری کرنے کے۔
دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی فضلہ ٹھکانے لگانے کے انتظامات کا فقدان ہے اور صورتحال اس حد تک ابتر ہو چکی ہے کہ کچرے کے پھیلنے سے ماحولیاتی خطرات لاحق ہوگئے ہیں، جس میں جان لیوا بیماریاں بھی شامل ہیں۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے متعدد بار ملک کے مختلف مقامات پرکچرے کو دوبارہ استعمال میں لانے اور اس سے بجلی بنانے کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے تاہم ابھی تک یہ محض اعلانات ہی ہیں۔

کراچی سے روزانہ اکھٹا کیے جانے والے کچرے سے 300 سے 400 میگاواٹ بجلی پیدا ہو سکتی ہے (فائل فوٹو:اے ایف پی)

ماہرین کے مطابق کراچی میں روزانہ 13 ہزار ٹن سے زائد کچرا اکٹھا ہوتا ہے۔ اور پورے پاکستان سے تقریبا 87 ہزارٹن۔ کچرے کی  سالانہ ملکی پیداوار 48.5 ملین ٹن ہے جس میں ہر سال 2 فیصد کے حساب سے اضافہ متوقع ہے۔
اگر یہ سارا کچرا وقت پر اٹھا لیا جائے اور اس کو دوبارہ قابل استعمال بنا لیا جائے، یا اس سے بجلی بنالی جائے، جیسا کہ دنیا کے اکثر ممالک بناتے ہیں، تو یہ کچرا نہیں رہتا بلکہ اربوں روپے کی دولت بن جاتا ہے۔   
تحقیق کے مطابق 50 میگا واٹ بجلی کی پیداوار کے لیے اندازاً 2200 ہزار ٹن میونسپل سولِڈ ویسٹ چاہیے ہوتا ہے، اس حساب سے اگر صرف کراچی سے روزانہ اکھٹا ہونے والے کچرے کا آدھا بھی با مقصد طور پہ استعمال ہو جائے تو 100 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔
حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی سے روزانہ اکھٹا کیے جانے والے کچرے سے 300 سے 400 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔
 سندھ حکومت نے 2014 میں قانون سازی کے ذریعے صوبے بھر میں کچرے کو جمع اور تلف کرنے کی غرض سے سندھ سولِڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ قائم کیا تھا، جس کا مقصد نہ صرف کچرے کو اکھٹا کرکے تلف کرنا ہے، بلکہ شہریوں کو حفظان صحت کی سہولت فراہم کرنا اور آلودگی سے پاک ماحول کو یقینی بنانا ہے۔
اس ادارے کے اختیارات میں کچرے سے بجلی بنائے جانے کے معاملات کی نگرانی اور ریسائیکل شدہ کچرے کی فروخت کے لیے ضابطہ کار رائج کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم ابھی تک اس حوالے سے سندھ میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے پچھلے کئی سال سے بجٹ میں کچرے سے چلنے والے بجلی گھر کی تعمیر کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں، لیکن منصوبے پر کام کا آغاز تا حال نہیں ہو سکا۔ 

کراچی میں زیادہ تر کچرا رہائشی علاقوں میں پڑا ہوتا ہے۔

صوبائی وزیرتوانائی امتیاز شیخ نے کچھ عرصہ قبل کراچی میں کچرے سے روزانہ 50 میگا واٹ پیداوار والے ماحول دوست بجلی گھر کی تعمیر کے لیے فیزیبلیٹی رپورٹ جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں، لیکن ابھی تک معاملے پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
اس کے علاوہ کراچی کے علاقے لانڈھی کیٹل کالونی میں بائیو گیس پلانٹس کی تعمیر کا منصوبہ بھی صوبائی حکومت کے زیر غور ہے، لیکن تاحال نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہوتا نظر نہیں آتا۔
صوبائی وزیرتوانائی  کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے سندھ حکومت کو شہری سہولیات بہتر بنانے کے لیے 400 ملین ڈالر کا قرضہ بھی فراہم کیا ہے۔
اس وقت کراچی کا کچرا دو مقامات پراکھٹا کیا جا رہا ہے، ان دونوں مقامات کو ’سائنسی تقاضوں‘ سے ہم آہنگ لینڈ فِل سائٹ بنانے کا منصوبہ پچھلے سال منظورکیا گیا تھا تاہم ڈیرھ سال گزرنے کے باوجود ابھی اس منصوبے پر کام کا آغاز نہیں ہو سکا۔
ماہرین کے مطابق فی الحال کراچی کے کچرے کو صرف پھینکا جا رہا ہے اور اسے تلف کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ کچرا پھینکنے کے لیے یہ لینڈفل سائیٹس بھی بھر چکی ہیں۔
پاکستان کی پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مطابق کچرے سے بجلی کی پیداوار کا تخمینہ 12 روپے فی کلو واٹ ہے۔ حکومت نے کچرے سے تیار کردہ بجلی کے لیے 10 ڈالر فی کلو واٹ کے حساب سے اس کے مسابقتی نرخ بھی طے کر دیے ہیں، بشرطیکہ وہ 25 سال تک پیداوار جاری رکھیں۔ کچرے سے بجلی بنانے کی مقدار کا تخمینہ 250 میگاواٹ رکھا گیا ہے، جس میں تمام صوبوں اور وفاقی علاقے کو 50، 50 میگاواٹ بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔
لاہور میں کچرے سے بجلی بنانے کے لیے نیپرا نے گذشتہ سال جولائی میں ایک نجی کمپنی کو لائسنس جاری کیا تھا۔ اس وقت یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس پلانٹ کی تعمیر میں 2 سال سے زائد کا عرصہ درکار ہوگا۔ 
اگر یہی حساب کتاب کراچی کے لیے بھی لگایا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ 2022 سے پہلے کچرے سے بجلی کی پیداوار شروع ہونے اور شہر میں کچرے کے مسائل حل ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ 

کچرے سے کارآمد چیزیں اکھٹی کر کے کباڑ میں بیچی جاتی ہیں (فائل فوٹو:اے ایف پی)

گذشتہ برس پنجاب حکومت کی جانب سے راولپنڈی کے نواح میں کچرے سے بجلی بنانے کے لیے پلانٹ کی فیزیبلیٹی رپورٹ مانگی گئی تھی، جب کہ لاہور میں ایک چائنیز کمپنی کو کچرے سے چلنے والا بجلی گھر بنانے کا ٹھیکہ بھی دیا جا چکا ہے۔ خیبرپختونخوا میں پشاور کی بلدیاتی انتظامیہ نے بھی کچرے کو پروسیس کرنے کے لیے لینڈ فل سائٹ بنانے کے کام کا آغاز کیا ہے، لیکن تا حال ہم اس مسئلے کے حل سے کوسوں دور ہے۔
کراچی میں اکھٹا ہونے والا 70 فیصد کچرا گھروں سے نکلتا ہے جس میں سے کچھ نامیاتی ہوتا ہے اور باقی غیر نامیاتی جسے ریسائیکل بھی کیا جا سکتا ہے۔
عالمی یونین برائے تحفظ ماحولیات کے مطابق کراچی میں کچرے کی فی کس پیداوار 0.44 کلو ہے۔ کم آمدنی والے گھرانوں میں یہ مقدار کم ہو کر0.19 کلو فی کس ہو جاتی ہے، جب کہ امیر گھرانوں میں کچرے کی فی کس مقدار 0.84 کلو ہے۔
جس کا مطلب ہے کہ زیادہ آمدنی والے گھرانوں، جہاں پڑھے لکھے افراد بھی نسبتا زیادہ ہوتے ہیں، میں اشیا کی کھپت اور کچرے کی پیداوارکا تناسب کم آمدنی والے گھرانوں سے 4 گنا زیادہ ہے۔
لیکن کچرے کو قابل استعمال بنانے کے لیے اس کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے ٹھکانے لگانا ضروری ہے، جو پاکستانی معاشرے کے کسی بھی درجے میں نہیں ہو رہا۔  

کچرے کو قابل استعمال بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو الگ الگ ڈبوں میں ڈالا جائے (فائل فوٹو:اے ایف پی)

سندھ سولِڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کی ترجمان ڈپٹی ڈائریکٹر الماس سلیم نے اردو نیوز کو بتایا کہ کچرے کی ری سائیکلنگ اور اس سے بجلی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو مناسب طریقے سے چھانٹا اور اکٹھا کیا جائے۔
 ’اور جب تک لوگوں میں یہ آگہی پیدا نہیں ہوتی کہ کچرا پھینکتے وقت الگ الگ ڈبوں میں ڈالا جائے تب تک اس کو دوبارہ سے قابل استعمال بنانا یا اس سے بجلی بنانا آسان نہیں ہے۔‘
الماس سلیم کے بقول ’ابھی تک تو شہریوں کو کچرا پھینکنے کی تمیز نہیں، شہر بھر میں کچرا دانوں کی موجودگی کے باوجود لوگ اس کے ارد گرد کچرا پھینک دیتے ہیں۔  ان کو اس کو چھانٹ کر الگ الگ ڈبوں میں ڈالنے پر آمادہ کرنے میں وقت لگے گا۔‘

شیئر: