Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

2025 میں سعودی عرب کی نمایاں کامیابیاں، عالمی امن و سلامتی کے لیے اہم کردار

سال 2025 سعودی عرب کے لیے اہم سنگ میل کی حیثیت کا حامل ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی حوالے سے ایک فعال اور متوازان موجودگی کا عکاس ہے۔
گزشتہ برس ہونے والے واقعات تعلقات کو منظم کرنے اور سٹریٹیجک شراکت داری کو مستحکم بنانے کے حوالے سے بھی اہم ثابت ہوئے ہیں۔
مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کے مطابق اقتصادی، اختراعی، تکنیکی اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں بھی نمایاں کامیابیاں ملی ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق بین الاقوامی سلامتی اور قیام امن کے حوالے سے مملکت کا کردار اہم رہا۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی رہنمائی میں مملکت نے سال 2025  کے دوران اختلافات کو ختم کرنے اور بحرانوں کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے کے لیے اہم سفارتی کوششوں کو جاری رکھا۔

18 فروری 2025 کو سعودی عرب نے روس اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی میزبانی کی۔ 11 مارچ کو جدہ میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان کامیاب میزبانی کی جو روس، یوکرین بحران کے پرامن حل کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ تھیں۔
13مئی کو ریاض نے ’سعودی، امریکی کانفرنس‘ کی میزبانی کی جس کی صدارت ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی۔ دونوں ملکوں نے اقتصادی اور سٹریٹیجک شراکت داری کی دستاویز پر دستخط کیے جبکہ 14 مئی کو ریاض نے خلیجی، امریکی  کانفرنس کی بھی میزبانی کی جس میں ولی عہد کی کوششوں سے امریکی صدر نے جمہوریہ شام پر پابندیوں کو ہٹانے کا اعلان کیا۔
ولی عہد کی دعوت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ترک صدر رجب طیب اوردغان اور شامی صدر احمد الشرع  کے درمیان ٹیلی فونک کانفرنس ہوئی جس میں شام کے مستقبل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سعودی عرب 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ 29 جولائی کو سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ میزبانی میں مسئلہ فلسطین کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے اعلٰی سطح کی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں فلسطین کے دو ریاستی حل کی قرارداد منظور کی گئی۔
بعد ازاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12 ستمبر کو نیویارک ڈیکلیریشن کی منظوری دی جس کے حق میں 142 ووٹ پڑے۔
22 ستمبر کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، بیلجیئم، کینیڈا، برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خیر مقدم کیا گیا۔

سعودی عرب نے  تمام ریاستوں کی قومی خود مختاری کے احترام، ان کے داخلی امور میں عدم مداخلت، بین الاقوامی قوانین کا احترام اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصولوں کے تحت 13 جون کو ایران پر اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کی۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایرانی عازمین حج و عمرہ کی تمام ضروریات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی، 9 ستمبر کو ریاست قطر پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور اظہار یکجہتی کیا۔
17 ستمبر کو ولی عہد اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم  شہباز شریف نے ایک مشترکہ سٹریٹیجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

19 نومبر کو ولی عہد نے امریکہ کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی، دونوں رہنماوں نے مملکت اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک دفاعی معاہدے پردستخط کیے۔
آٹھ دسمبر کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اور قطر کے امیر نے ریاض اور دوحہ کے درمیان ہائی سپیڈ ریل لنک منصوبے پر عمل درآمد کے معاہدے پر دستخط کیے۔
ایک سال کے دوران سعودی عرب نے اقتصادی صورتحال کو مستحکم کیا، سرمایہ کاری کو فروغ دیا، متعدد معاشی، انویسٹمنٹ اور ریئل اسٹیٹ کانفرنسوں کی میزبانی کی، اس کے ساتھ  بین الاقوامی سطح پر سپورٹس ٹورنامنٹس اور مختلف شعبوں میں اہم ایونٹس کا انعقاد کیا۔

انسانی ہمدردی کے حوالے سے شاہ سلمان امدادی مرکز کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک میں متاثرہ افراد کے لیے غذائی و طبی اور ضروریات زندگی کی دیگر اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فضائی امدادی پل قائم کیے گئے جن میں فلسطینی عوام، شامی اور یمنی متاثرین شامل تھے۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ولی عہد نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ’ہیومین‘ کمپنی لانچ کرنے کا اعلان کیا۔
ٹیکنالوجی اور اختراعی شعبوں میں مملکت نے 2025 کے سائبر سکیورٹی انڈیکس میں عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔

 سعودی قومی ٹیموں نے بین الاقوامی اولمپیارڈ، انٹرنیشنل سائنس اینڈ انجینیئرنگ فیئر میں بھی کئی اعزازات اپنے نام کیے۔
دیگر کامیابیوں میں سعودی سائنسدان پروفیسرعمر یاغی نے 2025 کا کیمسٹری میں نوبل انعام حاصل کیا جبکہ ریاض میٹرو نے دنیا کے سب سے طویل ڈرائیور لیس ٹرین نیٹ ورک کے طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈ میں اپنی جگہ بنائی۔

 

شیئر: