کشمیر پر پاک انڈیا سابق کرکٹرز کی لڑائی

نریندر مودی نے ایک اعلان میں کشمیر کا اعینی طور پر دیا جانے والی خصوصی حیثیت ختم کردی۔  فوٹو: اے ایف پی، آئی سی سی
کرکٹ کے حریف پاکستان اور انڈیا کے سابق ستارے سوشل میڈیا پر انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خودمختار حیثیت ختم کرنے پر منگل کو ایک دوسرے کے ساتھ گرما گرم بحث میں الجھے نظر آئے۔
پاکستان کے کرکٹر شاہد آفریدی نے اقوام متحدہ کو کشمیریوں کے حقوق کے حوالے سے متوجہ کرنے کے لیے ٹویٹ کیا۔
’کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار داد کے تحت اپنے حقوق ملنے چاہئیں، جیسے آزادی کے حقوق ہم سب کے پاس ہیں۔‘
انہوں نے مزید لکھا، ’اقوام متحدہ کیوں بنا تھا اور اب کیوں سو رہا ہے؟ کشمیر میں ہونے والی انسانیت کے خلاف بلا اشتعال جارحیت پر کاروائی ہونی چاہیے۔‘
واضح رہے کہ شاہد آفریدی نے 398 ایک روزہ میچز کھیلنے کے بعد گذشتہ سال کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنے سیاسی نظریات کو لے کر خاصے سرگرم نظر آتے ہیں۔
اس کے جواب میں انڈیا کے کرکٹر گوتم گمبھیر نے لکھا کہ جنگی جرائم اور بلا اشتعال جارحیت ہو تو رہی ہے لیکن ’پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں‘۔
’شاہد آفریدی بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ انسانیت کے خلاف بلا اشتعال جارحیت ہورہی ہے۔ اس بات پر آواز اٹھانے کے لیے ان کو داد دینی چاہیے لیکن وہ یہ بتانا بھول گئے ہیں کہ یہ سب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہو رہا ہے۔‘

37 سالہ گوتم گمبھیر انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن ہیں۔ انہوں نے دسمبر میں کرکٹ سے علیحدگی کا اعلان کردیا تھا۔
خیال رہے کہ پیر کو نریندر مودی نے ایک اعلان میں کشمیر کو آئینی طور پر دی گئی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔  
یاد رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ نے دو اگست کو ایک ایڈوائزری جاری کی تھی جس میں کشمیر کی سیر کے لیے آئے سیاحوں اور اس کی پہاڑیوں میں واقع ہندوؤں کے مقدس مذہبی مقام امرناتھ غاروں کی یاترا کے لیے آئے ہندو یاتریوں کو جلد از جلد کشمیر چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔
اس حکومتی ایڈوائزری کے بعد سری نگر میں واقع نیشنل انسٹیٹویٹ آف ٹیکنالوجی میں زیر تعلیم مختلف انڈین ریاستوں کے طلبہ کو بھی ادارہ خالی کر کے گھر لوٹنے کا کہا گیا تھا۔
محکمہ داخلہ کے مطابق یہ اقدامات جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کے خدشے کے پیش نظر کیے گئے تھے۔

شیئر:

متعلقہ خبریں