صدارتی ریفرنس چیلنج کر دیا

ملک بھر میں وکلا جسٹس قاضی فائز کے خلاف صدارتی ریفرنس میں گذشتہ دو ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بدنیتی پر مبنی ہیں۔
عوامی مفاد کے آرٹیکل 184 تین کے تحت دائر کی گئی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ اس آئینی پٹیشن کا فیصلہ ہونے تک ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس پر کارروائی روکنے کا حکم جاری کیا جائے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی انکے خلاف صدارتی ریفرنس پر کارروائی خفیہ اور ان کیمرا رکھنا کسی بھی قانونی اتھارٹی کے بغیر اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔
’میرے خلاف صدارتی ریفرنس اور اس کے بعد دائر کیا جانے والا دوسرا ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہیں اور عزائم کے ساتھ دائر کیے گئے ہیں تاکہ مجموعی مقصد حاصل کیا جا سکے اس لیے یہ قابل سماعت نہیں، خارج کیا جائے۔‘
’دونوں ریفرنس پر مزید کارروائی عدلیہ کی آزادی کو ختم کرے گی جو آئین میں دی گئی ہے۔ صدارتی ریفرنس پراکسی کے ذریعے دائر کیا گیا ہے جو منظور کیے جانے اور سماعت کے قابل نہیں۔‘

سپریم جوڈیشل کونسل پانچ ججوں پر مشتمل ہے جس کی صدارت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کر رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

 جسٹس قاضی فائز نے اپنی درخواست میں صدر مملکت، وفاق پاکستان، وزیراعظم، وزیر قانون، اٹارنی جنرل، جوڈیشل کونسل کے سیکریٹری، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر اور یونٹ کے قانونی مشیر ضیا المصطفیٰ نسیم کو فریق بنایا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آئینی درخواست 70 صفحات پر مشتمل ہے جو انہوں نے ذاتی حیثیت میں دائر کی ہے۔

’جسٹس فائز عیسیٰ خود کو لیجنڈ سمجھتے ہیں‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی آئینی درخواست میں لکھا ہے کہ 14 جون کو پہلا نوٹس ملا، 28 جون کو پہلا اور ابتدائی جواب جوڈیشل کونسل کو جمع کرایا۔
ان کی درخواست کے مطابق، جواب پر اٹارنی جنرل نے پیش ہونے کے بجائے جواب الجواب جمع کرایا۔
آئینی درخواست میں انہوں نے اٹارنی جنرل کا جواب الجواب بھی شامل کیا ہے۔ اٹارنی جنرل کے جواب میں لکھا گیا ہے’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خود کو لیجنڈ اور ایماندار سمجھتے ہیں جبکہ وہ شہرت بھی چاہتے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز کا بطور جج کردار پہلے دن ہی سے قابل اعتراض اور بدنیتی پر مبنی تھا۔‘
جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنی درخوست میں کہا ہے ’سپریم جوڈیشل کونسل نے اٹارنی جنرل کے جواب کو مجھے نوٹس جاری کیے بغیر ہی نہ صرف وصول کیا بلکہ اس کو ریکارڈ کا حصہ بھی بنایا گیا۔‘
اٹارنی جنرل کے جواب کے مطابق ’جسٹس قاضی فائز کی دو ذہنی کیفیات ہیں۔ پہلا یہ کہ ان کو یہ فوبیا ہے کہ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کے نشانے پر ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ وہ خود کو لیجنڈ سمجھتے ہیں۔‘
جسٹس قاضی فائز نے درخواست میں چیف جسٹس آصف کھوسہ سے اپنی ملاقات کا احوال بھی لکھا ہے جس کے مطابق انہوں نے چیف جسٹس سے کہا کہ میڈیا میں ان کے خلاف مختلف چیزیں آ رہی ہیں اس لیے وہ صدر مملکت کو خط لکھنا چاہتے ہیں تاہم چیف جسٹس نے ان کو خط لکھنے یا نہ لکھنے پر کوئی واضح جواب نہ دیا۔

جسٹس قاضی فائز نے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ فوٹو: اردو نیوز

جائیدادوں پر جسٹس فائز عیسیٰ کا جواب

انہوں نے اپنی آئینی درخواست میں لکھا ہے کہ اگر وہ چاہتے تو بیرون ملک جائیداد خرید کر آف شور کمپنی کے نام پر رکھ سکتے تھے، ان کے ایسا نہ کرنے کی سادہ وضاحت یہ ہے’نہ تو میں لندن کی ان تین جائیدادوں کا مالک ہوں اور نہ ہی ان کو چھپانے کی کوئی کوشش کی۔‘
انہوں نے درخواست میں لکھا ’میں طویل عرصے سے ٹیکس دے رہا ہوں اور انکم ٹیکس کے طور پر ایک بڑی رقم ادا کر چکا ہوں۔ اگر پاکستان میں بڑی مالیت کی جائیداد خرید سکتا ہوں تو لندن میں اس سے کم مالیت کی جائیداد خریدنے سے مجھے کوئی امر مانع نہ تھا۔‘
جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ان کی درخواست میں جائیداد کے معاملے پر بحث سے اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے’لندن کی تین جائیدادوں سے میرا کوئی لینا دینا نہیں‘۔
خیال رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں واحد الزام یہ ہے کہ معزز جج نے لندن میں واقع تین جائیدادوں کو اپنے اثاثوں کے گوشوارے میں ظاہر نہیں کیا۔ ایک پراپرٹی ان کی اہلیہ نے مارچ 2004 میں خریدی جس کی ملکیت میں بعد ازاں ان کی بیٹی سحر عیسیٰ کھوسو کو بھی کو شامل کیا گیا جبکہ دوسری پراپرٹی 2013  میں خریدی گئی۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ اور بالغ بچوں کی جانب سے جوابدہ نہیں ہیں کہ ان کے حوالے سے معلومات کو افشا کریں۔ ’تاہم حکومتی ٹیم نے اپنے آدھے سچ اور اشاروں کنایوں سے درخواست گزار اور خاندان کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔‘
انہوں نے لکھا ہے کہ ان کی اہلیہ شادی سے قبل کراچی کے امریکن سکول میں پڑھاتی تھیں اور شادی کے بعد بھی دہائیوں تک کام جاری رکھا اور اپنی آمدن پر ٹیکس بھی ادا کیا۔
خیال رہے کہ 30مئی کو اعلی عدلیہ کے ججوں جسٹس قاضی فائز اور جسٹس کریم خان آغا کے خلاف صدارتی ریفرنسز آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کے لیے دائر کیا گیا تھا جس کی پہلی سماعت 14 جون اور پھر دو جولائی کارروائی کے بعد کونسل نے دونوں ججوں کو جواب دینے کے لیے شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔
 

شیئر: