ایک افراتفری 9/11 سے قبل بھی مچی تھی

ورلڈ ٹریڈ سنٹربذات خود دنیا کے لیے سرپرائز تو تھا ہی، اس نے کئی سرپرائز دیکھے بھی۔ آخری سرپرائز سے متعلق سبھی جانتے ہیں کہ جب جہاز اس پر ٹوٹ پڑے تھے لیکن پہلے سرپرائز کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
اس روز بھی کم و بیش ویسا ہی منظر تھا۔ لوگ ٹاورز کی طرف بھاگ رہے تھے۔ نگاہیں بالائی منزلوں پر تھیں۔ ہر طرف حیرت تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک ہیلی کاپٹر عمارتوں کے ارد گرد منڈلا رہا تھا۔
کوئی چیخ رہا تھا روکو اسے، کئی لوگوں کے دل بیٹھے جا رہے تھے۔ کچھ نے ہاتھ آنکھوں پر رکھے تو کچھ نے دعا کے لیے اٹھائے۔۔۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو تالیاں، سیٹیاں بجا رہے تھے۔
کسی کو معلوم نہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے سوائے ان کے، جو منصوبہ بندی کر چکے تھے۔ وہ سات اگست انیس سو چوہتر کی صبح تھی، ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹوئن ٹاورز کی عمارتیں کھڑی ہو چکی تھیں لیکن کام ابھی جاری تھا۔
مزدور آ رہے تھے۔ جن میں نوجوانوں کا وہ گروپ بھی شامل تھا جس نے چھت پر تار بچھانے کا ٹھیکہ لے رکھا تھا۔ وہ صبح سویرے گاڑی میں پہنچے، کام کے لیے ملنے والا پاس دکھایا اور بھاری بھرکم سامان کے بیگ اٹھا کر لفٹ کے ذریعے چھت تک چلے گئے۔
ساتھ والے ٹاور کی چھت پر موجود کچھ لوگوں نے ان کو اشارہ کیا۔ ایک نے بیگ سے تیر کمان نکالا، اس کے ساتھ پلاسٹک کی ڈوری باندھی اور تیر چلا دیا۔ دوسری جانب والوں نے ڈوری تھام کر کھینچی تو اس کے ساتھ ایک آہنی رسہ بندھا ہوا تھا ایک طویل کوشش کے بعد وہ رسہ دونوں ان عمارتوں کے درمیان تن گیا جو ایک سو دس منزلہ تھیں اور اونچائی تقریباً ایک ہزار تین سو ستر فٹ تھی جبکہ عمارتوں کا درمیانی فاصلہ ایک سو اڑتیس فٹ تھا۔

رسی پر چلتے نوجوان کو دیکھتے ہوئے لوگ حیران تھے۔ فوٹو: ہیلتھ بلاگ

ایک نوجوان ہاتھ میں ڈنڈا لیے آیا اور اس حفاظتی جنگلے پر چڑھا جس کے ساتھ رسہ بندھا ہوا تھا۔ ڈنڈے کو بیچ سے تھاما، توازن برقرار رکھتے ہوئے لمبا سانس لیا اور رسے پر قدم رکھ دیا، ہوا چل رہی تھی، فضا مکدر سی تھی، اس نے اگلا قدم اٹھایا تو ہوا کا جھونکا آیا اور منظر صاف ہوا تو نیویارک شہر کسی میز پر پڑی تصویر کی مانند نظر آرہا تھا۔
دوسرے کے بعد تیسرا، چوتھا اور پانچواں، نیچے سے کسی نے فلک بوس عمارتوں کے درمیان انسان کو چلتے دیکھا تو شور مچا دیا۔ پھر کیا تھا، لوگ عمارتوں کی طرف بھاگے۔ آوازیں دینے لگے کہ مر جاؤ گے۔ لوگ تصویریں کھینچنے لگے۔ ہیلی کاپٹر بھی چکر لگاتا رہا۔
چند ہی منٹ میں انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی پولیس کو بھگایا گیا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اہلکار جب چھت پر پہنچے تو نوجوان جنگلے کے قریب تھا۔
اس کے اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تین سے چار فٹ کا فاصلہ رہ گیا۔ انہوں نے پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھائے تو نوجوان نے ڈنڈے کو سر کے پیچھے گُدی پر رکھا اور یکدم واپس مڑ گیا، ساتھ ہی کہا ’پکڑنا ہے تو پیچھے آجاؤ‘ دوسرے سرے پر جا کر پھر واپس مڑا۔
آٹھ چکر لگائے ایک مرتبہ درمیان میں آکر ڈانس بھی کیا، رسے کے اوپر بیٹھا بھی اور لیٹا بھی، دیکھنے والوں کو سیلیوٹ بھی کیا۔ انتظامیہ کی جان پر بنی ہوئی تھی۔ نیچے گرنے کی صورت میں بچاؤ کے انتظامات کیے جا رہے تھے لیکن بلندی بہت زیادہ تھی اور بچنے کی امید نہیں تھی۔

انتظامیہ کی جان پر بنی ہوئی تھی کہ نوجوان گر نہ جائے۔ فوٹو: سٹریٹس ٹائمز

پنتالیس منٹ تک یہ سلسلہ چلتا رہا اس دوران وہ سب کی متجسس اور انتظامیہ کی قہر آلود نظروں کا مرکز رہا۔ موسم بدلا، بادل گرجے اور رم جھم ہونے لگی تب جا کر اس نے واپسی کا ارادہ کیا اور رسے کے سرے تک جا کر ٹاور کی چھت پر اتر گیا۔
فوراً ہی اسے اور ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن لوگوں کی نظر میں وہ ہیرو تھا۔ تحقیقات شروع ہوئیں کہ یہ کون تھا اور چاہتا کیا تھا۔ پتہ چلا کہ تئیس سالہ اس نوجوان کا نام فلپ پیٹٹ اور تعلق فرانس سے ہے۔ وہ رسے پر چلنے کا فن جانتا ہے کئی مقامات پر فن کا مظاہرہ کر چکا ہے تاہم ٹوئن ٹاورز کے بیچ رسے پر چلنا اس کا خواب تھا۔ اس کے لیے لمبی منصوبہ بندی کی گئی، مزدوروں کا روپ دھارا گیا، تصویریں کھینچنے کے لیے ہیلی کاپٹر کرائے پر حاصل کیا گیا۔
کچھ قانونی کارروائی کے بعد فیلیپ کو چھوڑ دیا گیا مگر اب وہ کوئی عام شخص نہیں تھا سلیبرٹی بن چکا تھا۔
فلپ پیٹٹ بقید حیات ہیں اور نیویارک میں رہائش پذیر ہیں۔
ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ دوران واک یہ خیال آیا کہ آپ کیا کر بیٹھے ہیں؟
فیلیپ نے کہا نہیں، کیونکہ یہ سب سوچ سمجھ کر کر رہا تھا تاہم جب پولیس نے مجھے روکنے کی کوشش کی تو میری توجہ بٹی اور کچھ بھی ہو سکتا تھا۔
کیا آپ نروس تھے؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا نہیں، میں نروس نہیں ہوتا، مجھے بس جلدی تھی کہ کنسٹرکشن ورکرز کے چھت پر آنے سے پہلے رسے پر چڑھنا تھا۔ یہ میرا خواب تھا اور نروسنیس خوابوں کی دشمن ہے۔

فلپ پیٹٹ بقید حیات ہیں اور نیویارک میں رہائش پذیر ہیں۔ (فوٹو بشکریہ ویکی پیڈیا)

نائن الیون میں ٹاورز کی تباہی پر کیا محسوس کیا؟
جو محسوس کیا وہ کسی کو بتا نہیں سکتا، میں انسانی جانوں کے ضیاع اور عمارتوں کا موازنہ نہیں کر سکتا، بس اتنا سمجھ لیں کہ وہ ٹاورز میرے لیے انسان تھے۔
فیلیپ کو ٹریڈ سنٹر انتظامیہ کی جانب سے لائف ٹائم فری پاس دیا گیا تھا، جہاں سے فلپ نے رسے پر قدم رکھا تھا وہاں سٹیل کے بیم پر فلپ کے آٹوگراف بھی کندہ کیے گئے۔
فیلیپ کی اس مہم جوئی پر کئی ڈرامے اور فلمیں بن چکی ہیں، کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ تاہم 2015  میں ’دی واک‘ کے نام سے بننے والی فلم بہت مشہور ہوئی۔
یہ بالی وڈ کی ان چند فلموں میں شامل ہے جسے دیکھنے والے اس حد تک دہشت زدہ ہوئے کہ دوران فلم ہی سینما خالی ہو گیا حالانکہ یہ خوفناک فلم نہیں ہے۔ بعد کے شوز میں بھی کئی شائقین ڈر کر فلم بیچ میں ہی چھوڑ جاتے۔

شیئر: