کیا کھانے سے بھی ڈپریشن ہو جاتا ہے؟

عروہ اور ماورا حسین کے مطابق ڈپریشن صرف غذا سے ہوتا ہے۔ فوٹو: ماورا فیس بک
پاکستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی معروف فنکار بہنوں عروہ اور ماورا حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈپریشن یا ذہنی صحت کا تعلق صرف اور صرف آپ کی غذا سے ہے۔
ایک نجی ٹی وی میں مارننگ شو کے دوران بہنوں نے ناظرین کو بتایا کہ ڈپریشن کا تعلق براہ راست اس کھانے سے ہے ’جو آپ اپنے اندر ڈال رہے ہیں۔‘ عروہ نے یہ بھی کہا کہ اس کے علاوہ ڈپریشن کسی بھی شے سے نہیں ہوسکتا۔
پاکستان کی ان اداکار بہنوں کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب سوشل میڈیا سے لے کر مختلف مواصلاتی ذرائع سے ذہنی صحت اور ڈپریشن و اینزآئٹی کے حوالے سے آگہی پھیلانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خاصی نکتہ بھی چینی ہو رہی ہے۔
میری جوانا نامی ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کیا گیا کہ ’میں نے آج برگر کھایا ہے ڈاکٹر عروہ حسین کون سی دوائی لوں؟‘
مہراور نامی ٹوئٹر ہینڈل سے طنزیہ انداز میں لکھا گیا کہ ’بہت زبردست، حسین سسٹرز کے کہے پر عمل کر کے اچھی غذا کھائیں اور ڈپریشن کو بھگائیں۔‘
عرصہ دراز سے ڈپریشن یا ذہنی ہیجان کے شکار افراد کو پاگل ہونے کا طعنہ دیا جاتا تھا۔ مگر معاشرے میں اس کے برعکس اب اپنی ذہنی بیماری کو قبول کرنے کی بات ہونے لگی ہے جہاں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ ڈپریشن کا ہونا کوئی انہونی بات نہیں بلکہ یہ مکمل طور پر ایک عام سی کیفیت ہے۔
لیکن کیا واقعی آپ کی خوراک کا تعلق آپ کی ذہنی صحت سے ہے اور یہ ڈپریشن کا باعث بھی بن سکتا ہے؟
کراچی میں ایک عرصہ سے لوگوں کو تھراپی دینے والی ماہر نفسیات شرمین خان کا کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہماری نفسیات کا تعلق بہرحال ہمارے جسم سے ہوتا ہے یا خوراک سے مگر صرف اس کی وجہ سے ڈپریشن نہیں ہوسکتا۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ آپ فلاں چیز کھائیں اور ہمیشہ افسردہ رہیں اور لڈو کھالیں تو صدا خوش و خرم رہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔‘

ڈپریشن جیسی بیماری پر سطحی اور غیر سنجیدگی رائے پہلے بھی دی جاتی رہی ہے۔ فوٹو: انسپلیش

شرمین خان سے جب پوچھا گیا کہ کیا کبھی ان کے پاس ایسا مریض آیا ہے جو اپنی غذا کے سبب ڈپریشن میں مبتلا ہوگیا ہو تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ ’ہاں! البتہ لوگوں کو وہم ضرور ہتا ہے اس حوالے سے اور ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کو کھانے کی کچھ بیماری سی ہوتی ہیں۔ جیسے کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کا جسم اچھا نہیں تو وہ کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔‘
شرمین خان نے مزید کہا کہ ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر ایک بچہ اپنے امتحانات کے دوران کافی دن سوئے نا تو اس کا پیٹ خراب ہوجاتا ہے۔ یا سخت محنت اور دباؤ میں رہتے ہوئے کام کرنے والے لوگوں کا السر کا ہوجانا۔
ان کے مطابق ’ہماری زندگی میں منفی چیزوں کا اثر ہمارے ذہن اور ہم کیا محسوس کرتے ہیں اس پر ہوسکتا ہے مگر اس کا براہ راست کھانے سے کوئی تعلق نہیں۔‘
ایسا پہلی بار نہیں ہے کہ ذہنی دباؤ یا ڈپریشن جیسے معاملے پر اس قسم کی سطحی رائے زنی کی گئی ہے۔ اس سے قبل بھی مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر ڈپریشن کے حوالے سے غیرسنجیدگی بیان بازی ہوتی رہی ہے۔ 

شیئر: