کیا ہٹلر خود بھی یہودی النسل تھے؟

امریکی سکالر لیونارڈ ساکس نے ہٹلر کے یہودی النسل ہونے سے متعلق کچھ ایسی نئی باتیں کہی ہیں جن سے لگتا ہے کہ جرمنی کے نازی لیڈر ایڈولف ہٹلر دراصل یہودی تھے۔ ہٹلر یہودیوں سے نفرت کرتے اور ان کی نسل کشی پر کمر بستہ رہتے تھے۔
رشین ٹی وی کے مطابق امریکی سکالر نے اپنے تحقیقی مکالے کے نتائج یورپین ریسرچ میگزین میں شائع کئے ہیں۔ انہوں نے ہٹلر کے قانونی مشیر ہانس فرانک کی یادداشتوں کا تجزیہ کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہٹلر کے دادا یہودی تھے۔ 
ہانس فرانک نے اپنی یادداشتیں 1946ء میں تصنیف کی تھیں۔ یہ یادداشتیں ان کی سزائے موت کے 10 برس بعد شائع ہوئی تھیں۔ انہیں موت کی سزا دوسری عالمی جنگ کے بعد نازیوں پر مقدموں کی سماعت کرنے والی نورمبرگ کی عدالت نے سنائی تھی۔

ایڈولف ہٹلر کے والد کا نام ایلوئس تھا، تصویر: وکی پیڈیا

ہانس فرانک نے اپنی یادداشتوں میں تحریر کیا ہے کہ ہٹلر نے ان سے 1930ء میں کہا تھا کہ یہ پتہ لگاﺅ کہ کیا میرے دادا یہودی تھے۔ ہٹلر نے انہیں یہ ذمہ داری اپنے بھتیجے ویلیم پیٹرک کی جانب سے دی گئی دھمکی کے بعد سونپی تھی ۔ بھتیجے نے ہٹلر کو ان کے یہودی ہونے کے ثبوت سامنے لانے کی دھمکی دی تھی ۔
ہانس فرانک نے پتہ لگا لیا تھا کہ ہٹلر کے دادا یہودی تھے۔ وہ آسٹریا کے گریٹس شہر کے اس مکان میں رہائش پذیر رہے جہاں ہٹلر کی دادی ماریا آنا شیکلگروبر ملازمہ تھیں۔
فرانک اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ انہیں یہ بات ماریا آنا شیکلگروبر اور فرانکنبیرگر کے درمیان خط و کتابت کے مطالعے سے معلوم ہوئی۔ فرانکنبیرگر اس مکان کا مالک تھا جہاں ہٹلر کی دادی کام کیا کرتی تھی۔

ایڈولف ہٹلر کی والدہ کا نام ’کلارا‘ تھا، تصویر: وکی پیڈیا

خط و کتابت سے یہ عندیہ ملا کہ ماریا آنا فرانکنبیرگر کے بیٹے کے ساتھ ناجائز تعلق کے نتیجے میں ماں بننے جا رہی تھیں۔ اس صورت حال کے نتیجے میں فرانکنبیرگر ماریا کو نان نفقہ دینے پر مجبور ہوا تھا۔
یادداشتوں کے مطابق فرانکنبیرگر ہٹلر کی دادی کو رقم بھیجتا رہا۔ اس کا سلسلہ ناجائز بیٹے کے 14 برس کا ہو جانے تک جاری رہا۔ فرانکنبیرگر رقم خفیہ طریقے سے بھیجتا تھا۔ اسے خوف تھا کہ کہیں اسے عدالت میں نہ گھسیٹ لیا جائے۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کا خاندان بدنام نہ ہو جائے ۔اسی خدشے کے پیش نظر وہ نہ عدالت گیا اور نہ ہی اس نے باضابطہ انداز میں رقم بھیجی۔
امریکی سکالر لیونارڈ ساکس نے توجہ دلائی ہے کہ کئی سکالرز نے ہانس فرانک کی یادداشتوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے یادداشتوں کی صحت کو مشکوک قرار دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ آسٹریا کے شہر گریٹس میں اس زمانے میں یہودی نہیں تھے، لہٰذا اس حوالے سے جو کہانی یادداشتوں میں بیان کی گئی ہے وہ بے معنی ہو گئی ہے۔

ہٹلر 1942 میں دوسری جنگ عظیم کے دوران فوج کے ساتھ میٹنگ میں شریک ہیں، تصویر: وکی پیڈیا

لیونارڈ ساکس کہتے ہیں کہ انہیں ایسے شواہد ملے ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہودی کمیونٹی مذکورہ شہر میں سکونت پذیر تھی ۔امریکی سکالر نے یادداشتوں کو مشکوک قرار دینے والوں پر الزام لگایا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نازیوں کے ہمدرد تھے۔
لیونارڈ ساکس تاریخی معلومات کا تجزیہ کر کے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہٹلر چوتھائی یہودی تھے۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ سکالرز کئی عشروں سے ہٹلر کے ممکنہ طور پر یہودی ہونے کے مسئلے پر تحقیق کر رہے ہیں لیکن وہ ابھی تک اپنے نظریے کے حق میں ٹھوس اور مطلوبہ شواہد منظرعام پر نہیں لا سکے۔

شیئر: