Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روس کا الزام: یوکرین نے پوتن کے گھر پر حملہ کیا، کیئف نے جھوٹ قرار دے دیا

یوکرینی صدر نے کہا کہ ماسکو امن عمل کو ناکام بنانے اور یوکرین پر بمباری تیز کرنے کی تیاری کر رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
روس نے پیر کو یوکرین پر الزام لگایا کہ اس نے صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ پر درجنوں ڈرون حملے کیے جبکہ یوکرین نے اس دعوے کو ’جھوٹ‘ اور امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ یوکرین نے اتوار کی رات سے پیر کی صبح تک نووگورود علاقے میں پوتن کے گھر پر ’91 طویل فاصلے کے ڈرون‘ داغے جنہیں مار گرایا گیا۔ انہوں نے کیئف حکومت کو ’ریاستی دہشت گردی‘ پر منتقل ہونے کا الزام دیتے ہوئے کہا کہ روس مذاکراتی پوزیشن پر نظرثانی کرے گا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امن مذاکرات کے لیے ملے تھے، نے روسی دعوے کو ’مکمل طور پر من گھڑت‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ماسکو امن عمل کو ناکام بنانے اور یوکرین پر بمباری تیز کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ولادیمیر زیلینسکی نے ایکس پر لکھا کہ ’روس پھر سے خطرناک بیانات دے کر ہماری مشترکہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘
یہ الزام اس وقت سامنے آیا ہے جب امن مذاکرات ایک اہم مرحلے میں ہیں۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی تیار کردہ امن منصوبے کے 90 فیصد حصے پر اتفاق کر لیا ہے جس میں جنگ کے بعد سکیورٹی ضمانتیں بھی شامل ہیں تاہم علاقائی مسئلہ ابھی حل طلب ہے۔
روس نے کہا کہ وہ امن عمل کے لیے پرعزم ہے لیکن مبینہ حملے کے بعد اپنی پوزیشن پر نظرثانی کرے گا۔
روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تاکہ ملک کو غیر عسکری بنایا جا سکے اور نیٹو کی توسیع روکی جا سکے۔
کیئف اور یورپی اتحادیوں کے مطابق یہ جنگ بلاجواز اور غیرقانونی زمین ہتھیانے کی کوشش ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں سب سے بڑی اور مہلک جنگ بن چکی ہے۔

 

شیئر: