انسان تو سماجی جانور ہے!

پچھلے کچھ عرصے سے محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے تخلیقی مادہ جامد ہے یا شاید ایک ہی چیز نظر آتی ہے اپنے آس پاس۔ ٹوٹتے بِکھرتے بوسیدہ رشتے، سوشل میڈیا اور فیشن کے زیرِاثر، حسد سے جلتے، دولت کی دوڑ میں بھاگتے لوگ اور ڈرے ہوے چہرے۔
ڈر جس بھی رشتے میں گھستا ہے وہ اس رِشتے کو یوں کھوکھلا کر دیتا ہے کہ اس رِشتے میں اُپر سے تو سب شاندار نظر آ رہا ہوتا ہے لیکن ظاہری تہہ کے نیچے صرف بربادیاں پنپ رہی ہوتی ہیں۔
آئے دن شادیوں کے نام پر دولت کو آگ لگائی جاتی ہے۔ لوگ اپنی زندگیاں داؤ پر لگا رہے ہیں۔ صرف اس سماج میں اپنی ناک اونچی رکھنے کے لیے نمودو نمائش کے دوڑ اور آگے رہنے کی دوڑ میں رشتے کہیں پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔ سماج کے اقدار اتنے بدل گئے ہیں کہ نہ پہلے جیسے لوگ رہے اور نہ ہی حالات۔

آئے دن شادیوں کے نام پر دولت کو آگ لگائی جاتی ہے. لوگ اپنی زندگیاں داؤ پر لگا رہے ہیں

پُرانے وقتوں میں شادی سے پہلے تصویروں سے ہی ملاقات ہوتی تھی یاں ایک آدھ بار پورے خاندان کے ساتھ ملاقات کی جاتی تھی اور یہ فیصلہ ہو جاتا تھا کہ یہ لڑکا یا فلاں لڑکی شادی کے لیے موزوں ہے۔ گورا رنگ، اُونچی قامت، ہلکا یا بھاری جسم دیکھ کر یہ فیصلہ کر لیا جاتا کہ اس لڑکی یا لڑکے کے ساتھ پوری زندگی گزار لیں گے لیکن اب تو صرف جائیداد دیکھ کر شادی کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔
اگر love marriage کی بات کروں گی تو مضمون ختم نہیں ہوگا اور تحریر قیامت تک چلی جائے گی۔ love marriage کرنے والے ایک سراب  کا پیچھا کر رہے ہوتے ہیں کہ میرا والا یاں میرے والی اِس دنیا سے الگ ہے اور شادی ہوتے ہی اُمیدوں کا ایک عجیب لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ جس سے محبت ہوئی وہ بھی ایک انسان ہے تو کافی مشکلات دور ہو سکتی ہیں۔
عمدہ کپڑے اور خوشبودارشخصیت لے کر ہم ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے نظر آتے ہیں جبکہ اصل میں ہم ہرگز ویسے نہیں ہوتے۔ شروع شروع میں جسم سے اُٹھتی پسنےکی بدبو بھی پیرس سے آئی کسی خوشبو یا اودہ کی لکڑی کی خشبو کی مانند محسوس ہو رہی ہوتی ہے کہ جس کہ بغیر زندگی ادھوری ہے مگر جونہی کچھ وقت گزرتا ہے، شادی پُرانی ہو جاتی ہے تو دماغ کو شخصیت کی اصل بو چڑھنے لگتی ہے پتہ لگتا ہے کہ یہ تو وہ شخص ہی نہیں جس سے محبت ہوئی تھی اور آہستہ آہستہ جینا محال ہو جاتا ہے۔
انسان دوسرے انسانوں سے کِتنی جلدی اکتا جاتے ہیں آپ کو اندازہ بھی نہیں۔ یہاں انسان کا لفظ اِس لیے اِستعمال ہوا کیونکہ یہاں عورت اورمرد کی کوئی تخصیص نہیں۔ یہاں ہم کسی کو اچھّا  یا بُرا نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ اُکتاہٹ دونوں اجناس میں ایک جیسی ہے۔
کمال ہے کہ بات تو ڈر کی ہو رہی تھی اچانک رشتے شادیاں یہ سب کہاں سے آ گئے۔  لوگ اِحساس کی روندی ہوئی گلیوں میں پھینک دیتے ہیں تعلق کو پرانا کر کے۔ رشتوں کا دھندہ بھی بڑا ہی عجیب ہے۔ ڈر اور جھوٹ کی آنکھ مچولی ہے۔ کسی کو یہ پتا چل جاۓ گا؟ اگر کسی کو پتا چل گیا تو؟ ہر رِشتے کے لیے زہر ہے جھوٹ اور ڈر۔
 لیکن جب یقین کی چِلمن آرزو کے ہاتھوں چاک ہو جاتی ہے تب ہم جھوٹ کے سہارے ڈھونڈتے ہیں اورسہارے انسان کے رشتوں کو لنگڑا کر دیتے ہیں۔ رشتوں میں جھوٹ کی نوبت تب آتی ہے جب دو لوگوں کے جسمانی یا معاشی، دماغی یا قلبی سطح میں فرق ہوتا ہے یا آجاتا ہے۔ 
آدم اور حوا کے معاملات تو ازل سے ابد تک رہیں گے مگر اب جو گُل کِھل رہے ہیں وہ سمجھ سے بالاتر ہیں۔ میں ہمیشہ سے لوگوں کے ظاہر کو دیکھ کر اَندر کی انسان کے بارے میں اندازے لگاتی آئی ہوں مگر میرے اُستاد اِس چیز سے منع کرتے ہیں کہ واقعات اور لوگوں کو اُن کی اصل رو میں ہی دیکھنا چاہیے نہ کہ اپنے اندازے اِس سے جوڑے جائیں۔
میاں بیوی کا رشتہ تو ایک دوسرے کا اُوڑھنا بچھونا ہے اور کیسے اعتبار کے رشتے یوں بازار میں بِکنے والی کسی چیز کے برابر آگئے ہیں۔ آج کل کا دور کیسا دور ہے کہ شرم کا پانی آنکھوں سے بہہ گیا ہے۔ کوئی بھائی بن کر گھر برباد کر دیتا ہے تو کوئی دوست بن کرازواجی زندگی کو آگ لگا دیتی ہے۔ کہیں دولت کے لیے کمسن لڑکی کو آدمی کی بڑی عمرنظر نہیں آتی اور کہیں کسی مرد کی خُفیہ گرل فرینڈ بن کر عورت ہی عورت پر ظلم ڈھاتی نظر آتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک نئے اور حیرت انگیز لفظ کا بےحد وسیع معنوں میں اِستعمال ہو رہا ہے، وہ لفظ ہے دوست! ہم دوست ہیں۔ ہم دوست ہیں کے ٹائٹل کے ساتھ سب سے زیادہ بےغیرتی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اِسی لیے تو اِس گلے سڑے معاشرے کی بو آنے والی نسلوں کی جڑیں بھی برباد کر چُکی ہیں۔

آدم اور حوا کے معاملات تو اَزل سے اَبد تک رہیں گے مگر اب جو گُل کِھل رہے ہیں وہ سمجھ سے بالاتر ہیں۔

ڈر وہ تختۂ دار جس پر بہت سے رشتے لٹکا دیے جاتے ہیں۔ سچ بتا دینے کا ڈر، سچ کا سامنا نہ کر پانے کا ڈر کیونکہ شاید ایک دفعہ سچ بولنے پر معافی تو مل جائے لیکن جب بھی جھگڑا ہو گا ہر بار اُس جھوٹ کا ذکر ہوگا ایک طعنے کی صورت میں۔ وہ بلاَخر وہ جھوٹ ایک ایسا زخم بن جاتا ہے کہ جس پر مرہم رکھا ہی نہیں جا سکتا۔  ہم غلطی کرنے کا حوصلہ تو رکھتے ہیں لیکن ہمت نہیں کرتے کہ اپنی غلطی کو تسلیم کرلیں۔
دل میں جب یہ ڈر پیدا ہو جاتا ہے کہ منہ کھولا تو یہاں تو عمربھر کا طعنہ ہوگا یا پھر مار پیٹ کا باعث بنے گا تو پھرڈر کے مارے سچ منہ سے نہیں نکلتا۔ جس بیمار معاشرے میں محبت کو ویسے ہی گناہ سمجھا جاتا ہو وہاں شادی کے بعد اگر کسی عورت نے محبت کا نام بھی لے لیا تو پورا معاشرہ اُس کو طوائف کی نظر سے دیکھے گا۔
سوال کیا جائے گا کہ آخر شادی کے بعد محبت کیسے ہو سکتی ہے؟ او بھائی جب ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوگی تو انسان اپنی تشنگی کہیں سے تو مٹائے گا۔
یہ تشنگی ہی تو لڑکیوں کو فیس بُک پر مِلے آدمیوں کے پیچھے اپنے گھر سے بھاگنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنا گھر چھوڑ دیں وہ  صرف اِس لیے بھاگی چلی جاتیں ہیں کیونکہ اُنہیں کسی ایسے سے محبت ہوگئی ہیں جنہیں اُن کے گھر والے کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور شادی من پسند جگہ نہیں ہونے دیں گے۔

سوال کیا جائے گا کہ آخر شادی کے بعد محبت کیسے ہو سکتی ہے؟ او بھائی جب ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوگی تو انسان اپنی تشنگی کہیں سے تو مٹائے گا

کوئی محبت کے نام پر برہنہ ویڈیوز اور گفتگو کر کے اصلیت دکھا رہا ہے تو کوئی کسی کی لَغو گفتگو کو عام کر کہ شہرت حاصل کر رہی ہے، یعنی یہ معاشرا بھیڑیوں کے آگے ڈال دیا گیا ہے اور کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ 
مجھے شِدت سے جھٹکا لگا ہے کہ ہمارا معاشرہ بُری طرح زوال پذیر ہے اور ہم اِس حقیقت سے یوں منہ موڑے بیٹھے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ دُنیا آج شاید صرف ایک ہی چیز کے بارے میں سوچ رہی ہے اور ایک ہی جگہ سے سوچ رہی ہے اِسی لیے تو آج کا اِنسان صرف اپنا سوچتا ہے۔ اُسے کِسی کے جذبات، معاشرے کے اقدار، سماج کے قوائد و ضوابط کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ انسان تو سماجی جانور ہے۔ 

شیئر: