Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زندگی مرنے اور سماج جینے نہیں دیتا

”کُرتی وی گِلی گِلی لاچا وی گِلا گِلا‘
میری سماعت پر یہ الفاظ کافی گراں گزر رہے تھے۔ میں نے گھڑی کی طرف نظر دوڑائی تو معلوم ہوا کہ رات بلکہ صبح کے چار بج رہے تھے. میں حیرت سے ابھی  دیکھ ہی رہی تھی کہ پھر سے آواز سنی اور پیچھے دیکھنے پر مجبور ہوگئی.
 گاڑی کے شیشے میں سے میری نظر پیچھے کچھ  فاصلے پر کھڑی ایک سفید گاڑی پر پڑی جہاں اس گانے پر ایک نیم مدہوش نازک اندام سیاہ بالوں والی دوشیزہ مست رقص فرما رہیں تھیں. مجھے پہلے تو اپنی آنکھوں پر یقین نہ ہوا کہ یہ سب اسلامی جموریہ پاکستان میں لاہور کے علاقے ڈیفنس میں کھلے عام ہو رہا ہے۔
دل نے ڈھارس بندھائی کہ شاید ہم اب ماڈرن ہو گئے ہیں اور اب واقعی تبدیلی آ چکی ہے۔ اب لڑکیاں صبح فجر کے وقت بھی نہ صرف اکیلی سڑکوں پر گھوم سکتی ہیں بلکہ نڈر ہونے کا عالم یہ ہے کہ وہ سڑکوں پر ناچ بھی رہی ہیں.

پاکستان میں خواجہ سراؤں کو پسند کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا: فائل فوٹو، اے ایف پی

مجھے لگا شاید یہ پارٹی سے لوٹنے والی عوام ہے جو ابھی بھی کسی مسحورکن نشے میں ہے اور اُونچا گانا لگتے ہی آپے سے باہر ہو گئی ہے.
دل میں عجیب سا رشک جاگا کہ بھئی یہ دلیر عورت کون ہے۔ سوچا گاڑی سے اُتر کر اس شیر کی بچی کو دیکھوں مگر ’ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا‘
 یہ سوچ کر گاڑی سے نہیں اُتری کہ لوگ کیا کہیں گے؟ عید کے دن اتنی رات کو یہ خاتون اینکر سڑک پر اکیلی کیا کر رہی ہے؟
ابھی اِسی اُلجھن میں تھی کہ کیا کروں کہ اُس حسینہ نے جھومر ڈالنے کے لیے گھومنا شروع کر دیا۔ ہونٹوں پر لال سرخی اور آنکھوں میں کاجل بھر کر ڈالا ہوا تھا مگر کچھ عجیب سا لگ رہا تھا. جب میں نے ذرا غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ خاتون نہیں ہے بلکہ ایک خواجہ سرا ہے جو خواتین کے لباس میں ملبوس کچھ مردوں کو رجھانے اور چار پیسے کمانے کی کوشش میں تھا۔
اُس  خواجہ سرا کو دیکھ کر میں شرم سے پانی پانی ہو چکی تھی. وہ خواجہ سرا چلتے ہوئے پانچ سو روپے اپنے بٹوے میں ٹھونس رہا تھا۔

خواجہ سرا اکثر اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرتے ہیں

میرے اُستاد کی ایک لافانی بات  میرے کانوں پر ہتھوڑوں کی طرح برس رہی تھی.
 وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سماج وہ گٹر ہے  جہاں انسان کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگنے پر مجبور ہیں۔ یہ زندگی اِن کو مرنے نہیں دیتی اور یہ سماج انھیں جینے نہیں دیتا۔‘
وہ ڈولتے، ہنستے مسکراتے میری گاڑی کی طرف آیا. اُس کے ساتھ ایک اور خواجہ سرا تھا جو میری کھڑکی کی طرف لپکا (اے باجی عید مبارک!)۔ 
میں نے کھڑکی میں سے کچھ سو روپے اُس کے ہاتھ میں تھما دیے تو وہ اگلی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ اُس گاڑی میں سے ایک گبرو نوجوان کو ان دونوں نے کھینچ کر نکالا. اُس لڑکے کے چہرے پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ تھی.اُس کے دوست ایک ہزار کا نوٹ لہرا رہے تھے اور اُن کے فون ان دونوں کی تصویریں بنانے میں مصروف تھے.
 میں خاموشی سے اُس خواجہ سرا کو دیکھ رہی تھی جو اُس لڑکے پر صدقے واری ہو رہا تھا کہ شاید اُن دونوں کو اچھے پیسے مل جائیں اور وہ بیچارے اپنے کچھ دن مالی اطمینان میں گزار لیں گے۔ 
کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مُلک میں ایک اندازے کے مطابق 44 لاکھ سے زیادہ خواجہ سِرا ہیں مگر بائیس کروڑ کے اِس مُلک میں اِس تیسری صِنف کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
 2011 تک کوئی ایسا قانون نہیں تھا جو اِس صِنف کو شناخت دے سکے۔ اِس سے پہلے خواجہ سرا مجبور تھے خود کومعزور ظاہر کرنے پر۔ یہ اپنے شناختی کارڈ تک نہیں بنوا سکتے تھے۔
 اِس معاشرے کے پگڑیوں والے اس صنف کے ہونے سے انکاری ہیں۔ کالجوں میں داخلے سے لے کر ہسپتالوں میں علاج تک کی سہولیات اِس  بے چاری صنف کو میّسر نہیں ہوتیں۔

2011 تک کوئی ایسا قانون نہیں تھا جو اِس صِنف کو شناخت دے سکے: تصویر اے ایف پی

پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں 2017 کی مردم شماری میں خواجہ سراؤں کا خانہ رکھا گیا ہے۔ مگر حق کہاں ہے ان لوگوں کا؟ کیوں اِس صنف کے لیے ہم آواز نہیں اُٹھاتے؟
 کیوں مانگنے کے بجائے، پیسے کمانے کے لیے ان کی تربیت کا کوئی انتظام ہے نہ صلاحیت بڑھانے کا کوئی خیال۔
 کیوں اِن کو عورتوں کے لباس میں گھٹیا گانوں پر بیہودہ اور گندے مُجرے کرنے پڑتے ہیں؟
کیوں ان کو روزی کماتے ہوئے گولی مار دی جاتی ہے؟
کیوں اِس صنف کے  خلاف جرائم پر مقدمے درج نہیں کیے جاتے؟
کیوں ان کے لیے اِس معاشرے میں کوئی قبولیت نہیں؟
کیوں ہم ہیجڑا کہہ کر ان کوگالی دیتے ہیں؟
کیا ہمارا معاشرہ صرف استحصال کرنا ہی جانتا ہے؟
 کبھی عورت کا، کبھی بچوں کا، کبھی پسے ہوے طبقے کا اور کبھی اس تیسری صنف کا۔
کب آئے گی اس معاشرے کے اصولوں میں تبدیلی؟
 کب ہم ایک ماڈرن قوم بن جائیں گے؟
کب ہم ان حقیقتوں کی قبولیت کی طرف قدم بڑھائیں گے؟
آخر کب؟

شیئر: