Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کمزور بینائی مگر عزم مضبوط، پنجاب پولیس کے انٹیلیجنس افسر نے سی ایس ایس میں دوسری پوزیشن کیسے حاصل کی؟

محسن خالد کا تعلق پنجاب کے ضلع شیخوپورہ سے ہے اور ان کی والدہ ٹیچر ہیں (فوٹو: پنجاب پولیس)
انیسویں صدی کے آغاز میں فرانس کے نابینا طالب علم لوئی بریل نے ابھرے ہوئے نقطوں پر مبنی ایسا نظام متعارف کروایا جس نے بصارت سے محروم افراد کے لیے علم کے دروازے کھول دیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی بریل زبان دنیا بھر میں نابینا افراد کی تعلیم کا بنیادی ذریعہ بن گئی۔
پاکستان میں بھی اسی زبان نے ایک ایسے نوجوان کے لیے راستہ ہموار کیا جو آگے چل کر پولیس افسر بنا اور پھر ملک کے مشکل ترین امتحان سی ایس ایس میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔
پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ میں تعینات انٹیلیجنس افسر محسن خالد نے سی ایس ایس امتحان میں ملک بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ ان کا انتخاب پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کے لیے ہوا ہے۔ ان کی اس کامیابی کی بنیاد وہ ابتدائی تعلیم ہے جو انہوں نے بریل زبان کے ذریعے حاصل کی۔
محسن خالد کا تعلق پنجاب کے ضلع شیخوپورہ سے ہے۔ ان کی والدہ ٹیچر ہیں جبکہ والد سٹیٹ لائف انشورنس میں سپرنٹنڈنٹ کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کے والد خالد بٹ نے اردو نیوز کو بتایا کہ محسن بچپن ہی سے بینائی کے شدید مسئلے کا شکار رہے۔
’جب وہ پانچ برس کے تھے تو انہیں کالا موتیا ہوگیا تھا، جس کے باعث آنکھوں کی نسیں متاثر ہوئیں اور بینائی تقریباً ختم ہوگئی۔‘
ان کے مطابق اس صورتحال نے نہ صرف محسن بلکہ پورے خاندان کو غیریقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا تھا۔
ابتدائی چند برس ان کی تعلیم متاثر رہی۔ خالد بٹ کے بقول ’تین سے چار سال تک ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آگے کیا ہوگا۔‘
اسی دوران انہیں معلوم ہوا کہ بصارت سے محروم بچوں کے لیے بریل زبان کے ذریعے تعلیم کا متبادل نظام موجود ہے۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں محسن کے تعلیمی سفر نے نئی سمت اختیار کی۔ انہیں ایک ایسے سکول میں داخل کروایا گیا جہاں بریل کے ذریعے تعلیم دی جاتی تھی۔

وہ آڈیو بکس، سکرین ریڈنگ سافٹ ویئر اور ریکارڈنگز کے ذریعے مضامین سمجھتے اور یاد کرتے رہے (فوٹو: پنجاب پولیس)

خالد بٹ بتاتے ہیں کہ’ابتدائی تعلیم انہوں نے مکمل طور پر اسی نظام کے تحت حاصل کی۔‘
محسن خالد کہتے ہیں کہ ’ابتدائی تعلیم میں نے بریل زبان کے ذریعے حاصل کی۔ بعد میں عام طلبہ کے ساتھ پڑھنا شروع کیا، مگر تیاری کا طریقہ مختلف رہا۔‘
وہ آڈیو بکس، سکرین ریڈنگ سافٹ ویئر اور ریکارڈنگز کے ذریعے مضامین سمجھتے اور یاد کرتے رہے۔ ان کے والد کے مطابق بریل مواد آسانی سے دستیاب نہیں تھا، اسی لیے ہر ہفتے انہیں لاہور لے جایا جاتا تاکہ تعلیمی معاونت حاصل کی جا سکے۔ ’جب وہ آٹھ برس کے تھے تو ہم نے انہیں لاہور کے ہاسٹل میں رکھا تاکہ بہتر ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔‘
میٹرک کے بعد محسن نے روایتی تعلیمی نظام میں بھی اپنی جگہ بنائی۔ انہوں نے ایک نجی کالج سے سکالرشپ پر ایف اے کیا اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر میں بیچلرز مکمل کیا۔
2025 میں انہوں نے پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ میں بطور انٹیلیجنس افسر شمولیت اختیار کی۔ محسن خالد کے مطابق ’میری ڈگری 2022 میں مکمل ہوئی۔ اس کے بعد پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے پنجاب پولیس میں تعینات ہوا۔ اسی دوران سی ایس ایس کی تیاری بھی جاری رکھی۔‘

محسن خالد کے مطابق انٹرویو کے دوران ہی انہیں اپنی کارکردگی کا اندازہ ہوگیا تھا (فوٹو: پنجاب پولیس)

ان کے والد کے مطابق محسن نے تحریری امتحان میں غیرمعمولی کارکردگی دکھائی۔ ’میرے بیٹے نے تحریری امتحان میں 750 نمبر حاصل کیے جبکہ مجموعی طور پر ٹاپ کرنے والے امیدوار کے 714 نمبر تھے۔‘
یہ سی ایس ایس میں ان کی پہلی کوشش تھی۔
محسن خالد اپنی کامیابی کو سادہ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ’پیپر سب کے لیے ایک جیسا ہوتا ہے، فرق صرف تیاری کے طریقے کا ہوتا ہے۔ میں نے آڈیو بکس اور سافٹ ویئر کے ذریعے سن سن کر تیاری کی۔‘
ان کے مطابق انٹرویو کے دوران ہی انہیں اپنی کارکردگی کا اندازہ ہوگیا تھا۔ ’سوالات میرے مضمون سے متعلق تھے اور میں نے اعتماد کے ساتھ جواب دیے۔ اسی وقت محسوس ہوگیا تھا کہ میری سلیکشن ہو جائے گی۔‘
ان کے والد خالد بٹ اس کامیابی کو بیٹے کی محنت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ’اس میں سب سے بڑا کردار اسی کا ہے۔ ہمیں جتنی خوشی ہوئی ہے، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ ’محسن خالد نے سی ایس ایس میں کامیابی حاصل کر کے محکمہ پولیس کا نام روشن کیا۔‘ (فوٹو: پنجاب پولیس)

گذشتہ روز پنجاب پولیس کے آئی جی نے محسن خالد کو اپنے دفتر مدعو کیا جہاں ان کی کامیابی اور والدین کی جدوجہد کو سراہا گیا۔
آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ ’محسن خالد نے سی ایس ایس میں کامیابی حاصل کر کے محکمہ پولیس کا نام روشن کیا۔ بینائی کے مسئلے کے باوجود ان کی کامیابی قابلِ تحسین ہے۔‘
دوسری جانب محسن خالد کہتے ہیں کہ ’پبلک سروس ڈلیوری میں جن مسائل کا میں نے خود سامنا کیا، کوشش کروں گا کہ انہیں بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکوں۔‘

 

شیئر: