دوحہ مذاکرات کا آٹھواں دور بغیر کسی نتیجے کے ختم

 دوحہ میں پیرکو امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا آٹھواں دور بھی کسی سمجھوتے کے بغیر ختم ہوگیا۔ روئٹرز کے مطابق فریقین کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں اپنے رہنماﺅں سے مشاورت کریں گے۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے آٹھویں دور کا آغاز3 اگست کو ہوا تھا۔ افغان ترجمان ن کے مطابق مذاکرات میں ٹیکنیکل تفصیلات پر فوکس رہا۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کا حالیہ دور طویل اور اور مفید رہا تاہم انہوں نے مذاکرات کے نتیجے کی تفصیلات کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔
طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں شامل ایک رہنما نے رائٹر کو بتایا’ امن سمجھوتے تک پہنچنے کی امید کے ساتھ مذاکرات کو طویل کرتے رہے لیکن ایسا نہیں ہوسکا ‘۔
طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ ’امریکی مذاکرات کار نے مطالبہ کیا کہ طالبان سیز فائر کا اعلان اور کابل حکومت سے براہ راست مذاکرات شروع کریں‘ ۔
اس کے جواب میں امریکہ سے کہا گیا کہ وہ اپنی افواج کے انخلا کے لئے روڈ میپ کا اعلان کرے ۔
طالبان رہنما نے اپنا نام ظاہر کرنے سے انکا رکرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہم نے کئی ایشوز پر تبادلہ خیال کیا اور کچھ پر اتفاق رائے ہوا ہے تاہم کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ۔
 امریکی مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ مذاکرات کا آٹھواں دور ختم ہو گیا اور میں مشاورت کے لئے واشنگٹن جا رہا ہوں ۔ کسی فریق نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات دوبارہ کب شروع ہونگے ۔
واضح رہے کہ امریکی حکام یہ امید بھی ظاہر کر رہے تھے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ 13 اگست تک طے پا جائے گا۔
 یار رہے کہ گزشتہ روزافغان صدر اشرف غنی نے غیر ملکی مداخلت مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں امن آئے گا لیکن کابل اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرے گا ،باہر والے نہیں۔
 رائٹر اور اے پی کے مطابق کابل میں عیدالاضحی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر کا کہنا تھاکہ’ امن ہر افغان باشندے کی خواہش ہے اور امن آئے گا۔ کسی کو اس بارے میں شبے میں نہیں ہونا چاہئے‘۔
اشرف غنی نے کسی کا نام لئے بغیر کہا تھاکہ افغان انپے مستقبل کا فیصلہ اپنے ملک میں خود کریں گے۔’ ہمارے مستقبل کا فیصلہ ملک سے باہر طے نہیں ہوسکتا، چاہے وہ ہمارے دوست، دشمن یا پڑوسی ملک کا دارالحکومت کیوں نہ ہو‘۔

شیئر: