’وزیر خارجہ بتائیں ان کے ارادے کیا ہیں‘؟

بلاول بھٹو نے حکومت کو خبردار کیا کہ کشمیر پر سودے بازی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تصویر: اے ایف پی
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو پیغام دینا ہو گا کہ اگر ان کے لیے جنگ لڑنی پڑی تو پاکستان جنگ لڑے گا، حکومت کو ہار نہیں ماننی چاہیے اور مایوس کن بیانات برداشت نہیں کر سکتے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ کشمیر پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان سے دلبرداشتہ ہیں۔ ’ان کے بیان سے مایوسی ہوئی۔ کوشش کرنے سے پہلے ہی ایسا بیان دینے والے وزیر خارجہ بتائیں ان کے کیا ارادے ہیں۔‘
یاد رہے کہ عید کے پہلے دن پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں کوئی پھول لے کر نہیں کھڑا ہوا۔  وزیر خارجہ کہنا تھا کہ ’قوم کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں احمقوں کی جنت میں نہیں رہنا چاہیے امہ کی بات کی جاتی ہے مگر امہ کے مفادات انڈیا میں ہیں۔‘
پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ’ہمیں ان (کشمیریوں ) کا سیاسی کیس سفارتی کیس لڑنا پڑے گا۔ ان کو یقین دلانا پڑے گا کہ اگر وہ کال دیتے ہیں کہ ہمیں جنگ لڑنا پڑے تو ہم جنگ بھی لڑنے کے لیے تیار ہیں‘
انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ کشمیر پر سودے بازی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ’کسی نالائق وزیراعظم کے غلط فیصلے کی وجہ سے کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔‘
 انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان سوالات کے جواب دینا ہوں گے۔ قوم حکومت کی جانب دیکھ رہی ہے۔ ’مقبوضہ کشمیر کے صحافی بھی پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ بھی ان کے خلاف اس سازش میں شامل تو نہیں۔‘
بلاول بھٹو زرداری نے دعوی کیا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت نے وزیراعظم عمران خان کو قانون سازاسمبلی سے خطاب کی دعوت دی تھی مگر دو دن انتظار ہوتا رہا اور وزیراعظم کشمیر نہ گئے۔ ’وزیرخارجہ بھی میرے وہاں جانے کے بعد وہاں پہنچے۔‘

وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ کشمیر پر سیکیورٹی کونسل میں ہمارے لیے کوئی پھول لے کر نہیں کھڑا۔ (اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ کشمیر پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت تھی کہ پاکستان کے ہر راہنما کی طرف سے مودی کو پیغام جاتا کہ کشمیر پر اس کی زیادتی برداشت نہیں ہوگی مگر حکومت نے اس دن مریم نواز کی گرفتاری کی خبر بنوا دی جب پاکستان سے صرف دنیا میں کشمیر کی خبر جانی چاہیے تھی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ جب عید پر وہ کشمیر کا مقدمہ لڑنے مظفرآباد تھے تو ان کی پھپھو فریال تالپور کو غیر قانونی طور پر رات بارہ بجے ہسپتال سے جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ قانون کے مطابق شام پانچ بجے کے بعد جیل منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان کے والدسابق صدر آصف زرداری کو درخواست کے باوجود عید کی نماز نہیں پڑھنے دی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان میں بھی شہری حقوق سب کو ملنے چاہیے اور میڈیا کی آزادی ہونی چاہیے تاکہ ہم اخلاقی بنیادوں پر کشمیر کا مقدمہ بہتر طور پر لڑ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب بیرونی دنیا میں انڈیا کے جب محبوبہ مفتی کی گرفتاری پر بات کرتے ہیں تو وہاں صحافی پاکستان میں اپوزیشن کی گرفتاریوں پر سوال کرتے ہیں۔
’کشمیر پر حکومت سے زیادہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بات کرتی ہے۔ نیویارک ٹائمز اور بی بی سی سے ہماری اپنی لڑائی چل رہی تھی مگر اب ان میڈیا ہاؤسز کی مودی حکومت سے لڑائی چل رہی ہے کیونکہ انہوں نے کشمیریوں کی خبریں دی ہیں۔‘
بلاول نے کہا کہ ہمیں بھی ان تینوں اداروں کے حوالے سے اپنی پالیسی پر سوچنا چاہیے۔
’کراچی میں بارش کی تباہی پر سوشل میڈیا پر دو دن سے پروپیگنڈا چل رہا ہے۔‘  پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور وہاں کی بیوروکریسی نے اپنی چھٹیاں منسوخ کر کے دن رات کام کیا۔ لاہور میں بارش سے مسائل ہوں تو ایسے سوالات نہیں پوچھے جاتے۔
ان کا کہنا تھا کہ سینٹ چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران پیپلزپارٹی کی قیادت کے فیصلے کے خلاف حکومت کی حمایت کرنے والے سنیٹرز کا پتا لگانا مشکل ہوگا مگر کوشش کر رہے ہیں اور پارٹی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی عید کے بعد رپورٹ دے گی ۔ ’ہم پتا لگانے کے علاوہ سینٹ انتخابات کو شفاف بنانے کے طریقے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کو  پروپیگنڈا کے ذریعے تقیسم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
 

شیئر: