کشمیر میں جھڑپ اور احتجاج کی کال

امریکی صدر ٹرمپ کے جانب سے کشمیر کی دھماکا خیز صورتحال پر دوبارہ ثالثی کی پیشکش کے بعد بدھ کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جھڑپ کے دوران2ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ایک مشتبہ عسکریت پسند اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔ نئی دہلی میں مودی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے ہونے والی پہلی مسلح جھڑپ ہے۔
 اے ایف پی کے مطابق کشمیر زون پولیس نے ٹوئٹر پر بتایا کہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں جھڑپ ہوئی۔ ایک مشتبہ عسکریت پسند مارا گیا، اسلحہ اور ایمبونیشن برآمد ہوا جبکہ اسپیشل پولیس افسربلال ہلاک ہوگیا۔ سب انسپکٹر امر دیپ جھڑپ میں زخمی ہو اجو آرمی اسپتال میں زیر علاج ہے۔ مارے گئے مشتبہ عسکریت پسند کی شناخت مقامی باشندے کے طور پر کی گئی جو لشکر طیبہ سے وابستہ تھا۔
دوسری طرف حریت رہنماﺅں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مارچ میں شرکت کریں۔ حریت رہنماﺅں کی طر ف سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد احتجاج کی پہلی کال سامنے آئی ہے ۔رائٹر کے مطابق ایک پوسٹر کے ذریعے متحدہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے کہا گیا کہ ’ہر شخص،نوجوان ،بوڑھا، مرد اور خواتین جمعہ کی نماز کے بعد مارچ میں شرکت کریں’۔عوام سری نگر ی میں اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور کے دفتر تک ضرور مارچ کریں ۔
واضح رہے کہ سری نگر میں عوامی اجتماعات پر پابندی ،ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش کے باجود کشمیری مظاہرے کرتے رہے ہیں۔
سری نگر کے علاقے صورہ میں  کچھ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج میں شرکت کی کوشش کریں گے۔
سری نگر کے علاقے زینہ کدل جہاں تمام دکانیں بند تھیںایک مقامی باشندے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہااگر ہمارے لیڈروں نے کال دی تو ہم سڑکوں پر آئیں گے۔ ’یہاں احتجاج ہوگا اور ہمارا احتجاج رکے گا نہیں‘۔
امریکی خبررساں ادارے اے پی کے مطابق انڈیا کے زیر کنٹرول کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے ، سیکیورٹی لاک ڈاﺅن اور کمیونیکشن بلیک آﺅٹ کے نافذ کے بعداب تک 2 ہزار300 افراد حراست میں لئے جا چکے۔ ان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ اعلی پولیس ذرائع اور گرفتاریوں کے اعدادو شمار کے دوبارہ جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا بیشتر گرفتاریاں سری نگر سے کی گئی ہیں۔

شیئر: