Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’پہلے معافی پِھر پُورا سچ‘، گیلین میکسویل کا تفتیشی کمیٹی کے سوالات کا جواب دینے سے انکار

ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان نے سوالات کا جواب نہ دینے پر گھسلین میکسویل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے (فوٹو: روئٹرز)
جیفری ایپسٹین کی ساتھ گیلین میکسویل نے یو ایس ہاؤس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے سوالوں کے جواب دینے سے انکار کر دیا ہے جس پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹک ارکان نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی میں جیفری ایپسٹین کی مدد کرنے والی میکسویل پر 2021 میں جرم ثابت ہوا اور اس وقت 20 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
قانون سازوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان پر لگے الزامات کے خلاف پانچویں ترمیم کے استحقاق کا مطالبہ کیا اور سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔
تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ اور ریپبلکن رکن جیمز کومر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ بہت مایوس کن بات ہے، ہمارے پاس ان جرائم کے حوالے سے کافی سوالات موجود تھے جو انہوں نے اور جیفری نے کیے جبکہ ان میں ممکنہ شریک کاروں سے متعلق سوالات بھی شامل تھے۔‘
کمیٹی میں شامل ڈیموکریٹ ارکان نے میکسویل پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے معافی کے لیے بیان دینے سے انکار کیا اور ریپبلکن صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مہم کو مسترد کریں۔
ورجینیا سے منتخب ہونے والے ڈیموکریٹ رکن جیمز والکنشا کا کہنا ہے کہ ’ہمیں جو کچھ نہیں ملا وہ پوچھے گئے سوالات کے جواب تھے اور جن کی وجہ سے تفتیش نے آگے بڑھنا ہے۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں جو کچھ ملا وہ صدر ٹرمپ سے معافی کی طویل عرصے سے جاری مہم کا ایک اور حصہ تھا اور صدر ٹرمپ گیلین میکسویل کے لیے معافی کو مسترد کر کے اس مہم کو ختم کر سکتے ہیں۔‘

گیلین میکسویل جیفری ایپسٹین کے نیٹ ورک کا حصہ تھیں اور 20 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں (فوٹو: اے بی سی)

دوسری جانب گیلین میکسویل کے وکیل ڈیوڈ مارکوس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مؤکلہ کو پانچویں ترمیم کا مطالبہ کرنے کی ہدایت کی تھی کیونکہ ان کے اس زیرالتوا ہیبیس پیٹیشن موجود ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی سزا غیرمنصفانہ ٹرائل پر مشتمل ہے۔
 انہوں نے کمیٹی کے نام ایکس پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ’اگر یہ کمیٹی اور امریکی عوام واقعی حقیقی سچ جاننا چاہتے ہیں تو اس کا سیدھا حل یہ ہے کہ اگر صدر ٹرمپ میکسویل کو معافی دے دیتے ہیں تو پوری ایمانداری سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
خیال رہے یہ کچھ عرصہ پیشتر امریکہ کے محکمہ انصاف کی جانب سے لاکھوں کی تعداد میں ایسے شواہد سامنے لائے گئے جن میں جیفری ایپسٹین اور گیلین میکسویل کے ساتھ رابطے میں رہنے والے لوگوں کے نام شامل ہیں اور اس کے بعد سے تحقیقات کا سلسلہ چل رہا ہے۔

 

شیئر: