سائبر ہتھیاروں کے قوانین میں نرمی

سعودی عرب اور یو اے ای اسرائیل کی سائبر ٹیکنالوجی کے خریداروں میں سے ہیں، تصویر: اے ایف پی
اسرائیل نے ہیکنگ اور آن لائن نگرانی کرنے والے سافٹ ویئرز کی بین الاقوامی سطح پر فروخت بڑھانے کے لیے ان کی برآمد کی شرائط آسان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انسانی حقوق اور رازداری قوانین کی پاسداری کرنے والی تنظیموں کی مخالفت کے باوجود اسرائیل ہیکنگ اور آن لائن جاسوسی کرنے والے آلات کی فروخت کے قواعد و ضوابط میں نرمی لا رہا ہے۔ 
مخالفت کرنے والی تنظیموں کے خیال میں حکومتیں سائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین کی جاسوسی کرتی ہیں اور حاصل کردہ معلومات کو ان کے خلاف استعمال کرتی ہیں تاکہ اختلاف رائے کو ختم کیا جائے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سال 2027 تک سائبر ہتھیاروں کی عالمی منڈی میں مانگ 39 فیصد بڑھنے کی امید ہے جس کی کل مالیت کا حجم 9 ارب 70 کروڑ ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور یورپی یونین کی کمپنیاں سائبر ہتھیاروں کی تجارت میں پیش پیش ہیں۔ 
اسرائیل کو سائبر ہتھیاروں کی تجارت سے سالانہ 7 ارب ڈالرز آمدنی حاصل ہوتی ہے جو عالمی منڈی کا قریباً 10 فیصد ہے۔ 
اسرائیلی وزارت دفاع کی جانب سے سائبر ٹیکنالوجی کے قواعد و ضوابط میں نرمی کے بعد خدشہ ہے کہ اس سے متعلقہ نجی کمپنیوں کو سائبر ٹیکنالوجی کی خرید و فروخت کی پابندی سے استثنیٰ مل جائے گا۔
اسرائیلی وزارت دفاع نے روئٹرز کو بتایا کہ قواعد و ضوابط میں ترمیم ایک سال قبل لائی گئی تھی۔

اسرائیل کو سائبر ہتھیاروں کی فروخت سے سالانہ 7 ارب ڈالرز آمدنی حاصل ہوتی ہے، تصویر: روئٹرز

اسرائیلی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کا مقصد ملکی صنعتوں کو سہولت فراہم کرنا ہے تاہم سائبر ٹیکنالوجی کی برآمد اور نگرانی بین الاقوامی معیار کے مطابق ہی ہو گی۔
وزارت دفاع نے وضاحت کی کہ کمپنیوں کو سائبر ٹیکنالوجی کے حوالے سے استثنیٰ صرف ایک ہی صورت میں حاصل ہو گا کہ فروخت ہونے والی مصنوعات اور خریدنے والا ملک حفاظتی معیار پر پورا اتریں، اور ان کمپنیوں کے پاس سائبر ٹیکنالوجی برآمد کرنے کا لائسنس بھی ہو۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے خیال میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر پڑوسی ممالک اسرائیلی سائبر ٹیکنالوجی کے خریداروں میں سے ہیں، تاہم اسرائیلی حکومت اور کمپنیوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
سائبر ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظراسرائیل کی وزارت اقتصادیات ایک ایسا ادارہ تشکیل دینے جا رہی ہے جو صرف سائبر ٹیکنالوجی کی خرید و فروخت کے معاملات دیکھے گا۔
سائبر ٹیکنالوجی سے الیکٹرانک ڈیوائسز کو ہیک کیا جا سکتا ہے اور آن لائن ہونے والی بات چیت سنی اور ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک ڈیوائسز کے صارفین کی نقل و حرکت کی نگرانی بھی کی جا سکتی ہے۔
اب تک سائبر ٹیکنالوجی کا استعمال امریکہ، اسرائیل، چین اور روس کے جاسوسی اداروں تک محدود تھا لیکن گذشتہ چند برسوں کے دوران ان مصنوعات کی مضبوط کمرشل مارکیٹ وجود میں آ گئی ہے اور سابق امریکی اور اسرائیلی حکومتی اہلکار ان ہتھیاروں کی تجارت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

شیئر: