Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مصنوعی ذہانت انسانی شناخت اور رشتوں کے لیے خطرہ ہے: پوپ لیو کا انتباہ

وپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے آئی کی ترقی پر چند محدود کمپنیوں کا قبضہ ہے جو ایک بڑی طاقت بن کر ابھری ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہارم نے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کے خطرات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پوپ لیو نے سنیچر کو خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانی شناخت اور باہمی تعلقات کی جگہ لے سکتی ہے، رائے عامہ پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور سماجی تفریق کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
سماجی مواصلات کے عالمی دن کے موقعے پر اپنے پیغام میں پوپ نے کہا کہ ’مصنوعی ذہانت کے نظام دراصل اپنے تخلیق کاروں کے عالمی نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں اور ان اعداد و شمار (ڈیٹا) میں موجود تعصبات کو دہرا کر انسانی سوچ کے دھارے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اصل چیلنج انسانی شناخت اور حقیقی انسانی رشتوں کا تحفظ کرنا ہے۔
پوپ لیو چہارم کی جانب سے یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنریٹو اے آئی تصاویر، موسیقی اور متن کی تیاری اور تبدیلی میں اس حد تک مہارت حاصل کر رہی ہے کہ اکثر اوقات اسے انسان کے بنائے ہوئے کام سے الگ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ سال 2023 میں سابق پوپ فرانسس کی ایک مصنوعی تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں انہیں ایک سفید ’پفر جیکٹ‘ پہنے دکھایا گیا تھا۔

پوپ لیو نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی حقیقت اور گمان کے درمیان فرق کو مشکل بنا رہی ہے (فائل فوٹو: پکسابے)

اس کے بعد سے اے آئی کئی اہم شخصیات کا پسندیدہ ٹُول بن چکی ہے بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کمپیوٹر کی تیار کردہ تصاویر شیئر کی ہیں۔
پوپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے آئی کی ترقی پر چند محدود کمپنیوں کا قبضہ ہے جو ایک بڑی طاقت بن کر ابھری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی حقیقت اور گمان کے درمیان فرق کو مشکل بنا رہی ہے۔
گزشتہ برس مئی میں انتخاب کے بعد سے امریکہ سے تعلق رکھنے والے پہلے پوپ کے طور پر لیو چہارم مسلسل ان ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے اثرات پر بات کر رہے ہیں۔

پوپ لیو نے کہا کہ ’زندگی اور موت کے فیصلے مشینوں کے سپرد کرنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔‘ (فائل فوٹو: فری پک)

انہوں نے ان نظاموں پر بھی تنقید کی جو اعداد و شمار کی بنیاد پر محض امکانات کو مستند علم کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ صرف ایک تخمینہ ہوتے ہیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں پوپ نے اے آئی کے حوالے سے مؤثر گورننس اور عالمی قوانین کی ضرورت پر زور دیا اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا مطالبہ کیا تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ الگورتھم کس طرح حقیقت کے بارے میں ان کے ادراک پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی انہوں نے فوجی مقاصد اور ہتھیاروں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ ’زندگی اور موت کے فیصلے مشینوں کے سپرد کرنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔‘

 

شیئر: