Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پہلی بار انسان پودوں کو ’سانس لیتے‘ دیکھ سکیں گے، مگر کیسے؟

پودوں کی کارکردگی کو سمجھنے میں یہ اہم پیش رفت مستقبل میں فصلوں کی بہتری میں انقلاب لا سکتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
صدیوں سے سائنسدان جانتے ہیں کہ پودے اپنے پتوں میں موجود ننھے سوراخوں، جنہیں سٹومیٹا کہا جاتا ہے، کے ذریعے سانس لیتے ہیں۔ یہی سٹومیٹا پودوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ لینے اور پانی کے بخارات خارج کرنے کے درمیان توازن قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق اب یونیورسٹی آف الینوائے کے محققین نے ایک انقلابی آلہ تیار کیا ہے جس کی مدد سے وہ پہلی بار پودوں کے سانس لینے کے عمل کو حقیقی وقت میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس تحقیق میں پہلی مرتبہ پودوں کے اس حیاتیاتی عمل کو براہِ راست اور وضاحت کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
’سٹومیٹا ان سائٹ‘ نامی یہ آلہ پتے کے مائیکرو سکوپک سوراخوں یعنی سٹومیٹا، جنہیں پودوں کا منہ بھی کہا جاتا ہے، کو دکھاتا ہے کہ وہ کس طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ، آکسیجن اور پانی کے بخارات کا تبادلہ کرتے ہیں۔
یہ جدید ٹیکنالوجی ایک ہائی ریزولوشن کنفوکل مائیکرو سکوپ، نہایت درست گیس ایکسچینج نظام، اور جدید مشین لرننگ سافٹ ویئر پر مشتمل ہے۔ تجربات میں پتے کے باریک حصے کو ایک چھوٹے، ہتھیلی کے سائز کے چیمبر میں رکھا جاتا ہے، جہاں درجہ حرارت، نمی، روشنی، کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار اور پانی کی دستیابی کو انتہائی درستگی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ پودے کس طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اور آکسیجن و پانی کے بخارات خارج کرتے ہیں۔
یونیورسٹی آف الینوائے کے اینڈریو لیکی نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مثال کے طور پر یہ سوراخ روشنی میں کھلتے ہیں اور اندھیرے میں بند ہو جاتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے تاکہ سازگار حالات میں ضیائی تالیف ممکن ہو سکے اور ساتھ ہی پتے کے اندر کے پانی کا ضیاع کم سے کم ہو۔ جب پودوں کو مناسب پانی نہ ملے — چاہے موسم گرم اور خشک ہو یا ہم پانی دینا بھول جائیں تو وہ خشک ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔‘
یہ پیش رفت کیوں اہم ہے؟
پودوں کی کارکردگی کو سمجھنے میں یہ اہم پیش رفت مستقبل میں فصلوں کی بہتری میں انقلاب لا سکتی ہے۔ سٹومیٹا کے کھلنے اور بند ہونے کو کنٹرول کرنے والے جسمانی اور کیمیائی سگنلز، اور ان کی تعداد کے اثرات کو سمجھ کر سائنس دان وہ جینیاتی خصوصیات شناخت کر سکتے ہیں جو پانی کے مؤثر استعمال میں مددگار ہوں۔

 

شیئر: