امریکہ تھوڑی اور لچک دکھائے تو معاہدہ ہو سکتا ہے، طالبان

طالبان کے ترجمان نے امریکہ کے ساتھ جلد امن معاہدے کی توقع ظاہر کی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
طالبان نے کہا ہے کہ اگر امریکہ افغانستان میں موجود اپنی فوج کے انخلا کے معاملے پر تھوڑی سی اور لچک دکھا دے تو اس کے ساتھ امن کا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
اردو نیوز کے ساتھ خصوصی بات چیت میں دوحہ میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ جیسے ہی امریکی افواج کے افغانستان سے نکلنے کا معاملہ طے ہو گا، طالبان معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔
 افغانستان میں انیس سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان امن مذاکرات کا نواں دور قطر میں جاری ہے۔ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور طالبان کے لیڈر ملا برادر مذاکرات میں اپنے وفود کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
طالبان کے ترجمان کے مطابق مذاکرات میں معاہدے کے عمل درآمد کے طریقۂ کار پر بات چیت ہو رہی ہے جس میں امریکی فوج کے افغانستان سے مکمل انخلا اور اس کے ٹائم فریم کی شرط انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
’امریکی افواج کب نکنا شروع ہوں گی؟ کتنے فوجی کن اڈوں سے نکلیں گے؟ اور فوجیوں کا مکمل انخلا کب تک ممکن ہو گا؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب ہمارے لیے جاننا بہت اہم ہے۔‘

طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا نواں راؤنڈ دوحہ میں جاری ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

دوحہ میں جاری امن مذاکرات میں دونوں فریق چار نکات کے عمل درآمد کے طریقہ کار پر غور کر رہے ہیں جن میں امریکی فوج کے انخلا کے علاوہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز، طالبان کا جنگ بندی کا اعلان شامل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حتمی معاہدے کے لیے زیرِ بحث ایک اور اہم نکتہ یہ رہا ہے کہ القاعدہ اور دیگر عالمی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان کی سرزمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں کریں گی۔
 طالبان کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں فریق، امریکہ اور طالبان، ان نکات پر اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد دوبارہ مذاکرات کے لیے قطر کے شہر دوحہ میں اکھٹے ہوئے ہیں۔ ان مذاکرت کا ایک دور گذشتہ روز جمعے کو بھی ہوا۔
 جب طالبان کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی ایسا پوائنٹ ہے جس پر مذاکرات تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں، تو انہوں نے پر امید لہجے میں معاہدے کی جلد منظوری کی توقع ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کی انیس سالہ طویل جدوجہد کا مقصد افغانستان میں غیر ملکیوں کے قبضے کو ختم کرنا ہے اور مذاکرات میں امریکی افواج کے انخلا کی ڈیدڈلائن پر بات ہو رہی ہے۔
سہیل شاہین نے مزید کہا کہ معاہدے کے نفاذ کے بعد طالبان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوئی بھی عسکری گروپ افغانستان کی سرزمین کو کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہ کرے۔

امریکہ نمائندہ خصوصی برائے افغانسان زلمے خلیل زاد بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

اس سوال پر کہ وہ کس طرح سے ان گروپوں کی افغانستان میں عدم موجودگی یقینی بنائیں گے، انہوں نے کہا کہ طالبان، داعش ساتھ مسلسل لڑ رہے ہیں۔ ’ہم نے داعش کو پیچھے دھکیلا ہے اور اب وہ افغانستان کی مشرقی سرحدوں تک محدود ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ افغانستان کا جو 70 فیصد حصہ ان کے قبضے میں ہے وہاں داعش موجود نہیں۔ ’افغانستان کا صرف 30 فیصد حصہ افغان حکومت کے قبضے میں ہے جس میں کابل اور دیگر صوبوں کے دارالحکومت شامل ہیں۔‘
 سہیل شاہین نے دعوٰی کیا کہ داعش کی افغانستان میں موجودگی اس درجے کی نہیں جیسی شام میں ہے۔
 افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ ہونے کے بعد افغان حکومت کے ساتھ بات چیت شروع ہو گی جس کا ایک اہم نقطہ افغانستان میں اسلامی نظام کا قیام ہو گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ اسی نوعیت کا نظام ہو گا جیسا کہ 2002 میں امریکہ کے افغانستان میں طالبان کی حکومت پر حملے سے پہلے تھا، تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بعد کی بات ہے، ہم افغان حکومت کے ساتھ بات کریں گے کہ کیسا اسلامی نظام افغانستان میں ممکن ہے‘۔
امریکہ اور طالبان کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے امکان کے بعد اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گراؤنڈ پر لڑنے والی طالبان قیادت اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہیں داعش کے ساتھ نہ مل جائے جس سے افغانستان میں میں جاری جنگ میں شدت آسکتی ہے۔
اس بارے میں طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان فائٹرز اور قیادت میں اختلافات ممکن نہیں۔ ’امن مخالف عناصر ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں۔‘
 ’تمام اراکین ہماری لیڈر شپ کا حکم مانتے ہیں۔ ہمارے سارے گورنر لیڈرشپ کے ایک آرڈر پر تبدیل ہو جاتے ہیں۔‘
امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ سال شروع ہونے والے مذاکرات سے کافی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔ مذاکرات کے گزشتہ دور کے اختتام پر زلمے خلیل زاد نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ تازہ مذاکرات میں بہترین پیش رفت ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بھی مذاکرات کا نواں دور شروع ہونے سے کچھ دن قبل ٹویٹ میں امن معاہدہ طے پانے کی امید کا اظہار کیا تھا۔ امریکی وزیرِ خارجہ پومپیو اس توقع کا اظہار کر چکے ہیں کہ طالبان کے ساتھ یکم ستمبر سے قبل معاہدہ ہونے کا امکانات قوی ہیں۔

شیئر: