پاکستان کرکٹ بورڈ کا آئین معطل

جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کو معطل کرتے ہوئے کرکٹ بورڈ حکام سے جواب طلب کر لیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ پی سی بی کے نئے آئین اور دیگر نوٹیفیکشنز کے خلاف متفرق درخواستوں کی سماعت کے دوران کیا ہے۔
پی سی بی کے نئے آئین کے تحت بورڈ آف گونرز کی تشکیل اور ڈومیسٹک دھانچے میں بڑی تبیدلیاں کی گئی ہیں۔ پی سی بی کے پٹرن ان چیف وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات پر کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک ڈھانچے میں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ٹیمز ختم کر کے ریجن کی بنیاد پر چھ ٹیمیں تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان مصباح الحق، راشد لطیف اور ندیم خان پر مشتمل تین رکنی آزاد سلیکشن پینل بھی تشکیل دیا ہے جو کہ چھ ڈومیسٹک ٹیمز کے انتخاب کا جائزہ لے گی اور کپتانوں کا اعلان بھی کرے گی۔
 اس سے پہلے ڈومیسٹک کرکٹ میں 16 کرکٹ ٹیمیں شرکت کرتی تھیں۔
لاہور ہائی کورٹ کے حکمنامے کے بعد پی سی بی کا نیا ڈومیسٹ ڈھانچا بھی معطل ہو چکا ہے اور پرانا آئین اب نافذالعمل ہوگا۔ عدالتی حکمنامے کے بعد بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے۔ اس رپورٹ میں ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پاکستان ڈومیسٹک سیزن کس حد تک متاثر ہوگا؟

کرکٹ امور پر قانونی ماہر ایڈوکیٹ شائیگان اعجاز نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے پی سی بی کے آئین اور دیگر نوٹیفیکشنز کو معطل کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پی سی بی کا آئین معطل ہو چکا ہے۔ اور جب تک ان درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا کرکٹ بورڈ کے ڈومیسٹک سیزن کا آغاز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا ’چونکہ عدالت نے آئین کو معطل کر دیا ہے جب تک یہ آئین معطل رہے گا ڈومیسٹک سیزن شروع نہیں ہوسکتا۔‘


پی سی بی کا نیا ڈومیسٹ ڈھانچا بھی معطل ہو چکا ہے اور پرانا آئین اب نافذالعمل ہوگا۔ فوٹو: پی سی بی

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا ڈومیسٹک سیزن ستمبر کے وسط میں شروع ہو جاتا ہے۔ ان دنوں ملک بھر میں انڈر 19 ٹیم کی سیلکشن کے لیے ٹرائلز بھی جاری ہیں۔
شائیگان اعجاز نے کہا کہ 27 اگست کو لاہور ہائی کورٹ نے پی سی بی سے جواب طلب کیا ہے لیکن لاہور ہائی کورٹ کا بنچ 27 اگست کو دستیاب نہیں اور اب یہ معاملہ اگلے ستمبر کے وسط تک چلا جائے گا جس کے بعد ڈومیسٹک سیزن کا شیڈول شدید متاثر ہوگا۔

کیا آئی سی سی نئے آئین کے حوالے سے مداخلت کر سکتا ہے؟

شائیگان اعجاز کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی تلوار بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے اوپر لٹکنے لگی ہے۔ انہوں نے کہا ’بورڈ آف گونرز کو بااختیار بنانے کی کوشش تو کی گئی ہے لیکن جمہوری طریقے سے منتخب ممبران کی تعداد اس میں کم رکھی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے چیک اینڈ بیلنس بورڈ کے اوپر رکھنا ممکن نہیں۔‘
واضح رہے کہ پی سی بی کے نئے آئین کے تحت صرف تین منتخب ارکان ہی بورڈ آف گورنرز کا حصہ ہوں گے جو کہ چھ کرکٹ ایسوسی ایشنز کے منتخب صدور ہوں گے۔ اس کے علاوہ چار آزاد ارکان کو بورڈ آف گورنز کا حصہ بنایا جائے گا اور دو ارکان پٹرن ان چیف کے نامزد کردہ ہوں گے۔ ایک وزارت بین الصوبائی رابطہ کے فیڈرل سیکرٹری یا ان کا نامزد کردہ نمائندہ اور پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پر مشتمل بورڈ آف گورنز تشکیل دیا جائے گا۔

 پی سی بی چئیرمین احسان مانی کے خلاف بورڈ کے اندر سے بھی ماضی میں بغاوت سامنے آتی رہی۔ فوٹو: اے ایف پی

جبکہ پرانے آئین کے تحت بورڈ آف گورنرز میں ریجن کے چار منتخب اور ڈیپارٹمنٹس کے چار نمائندے شامل تھے۔ دو پٹرن ان چیف کے نامزد کردہ اور ایک فیڈرل سیکرٹری اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین بھی بورڈ آف گورنرز کا حصہ تھے۔
ماہر قانون برائے کرکٹ امور شائیگان اعجاز کہتے ہیں کہ نئے آئین کے تحت بورڈ اف گورنز کی تشکیل پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بھی اعتراض اٹھا سکتا ہے چونکہ مجوزہ بورڈ آف گونرز میں اکثریت غیر منتخب افراد کی ہوگی ۔ ’آئی سی سی چاہتا ہے کہ بورڈ سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہو اور جمہوری طریقے سے کام کرے۔‘
نئے آئین کے تحت سیلکٹڈ افراد کی تعداد زیادہ ہوگی جس سے بورڈ پر چیک ایند بیلنس رکھنا ممکن نہیں۔

 تین رکنی آزاد پینل کی حیثیت کیا ہوگی؟

شائیگان اعجاز کہتے ہیں عدالتی حکمنامے کے بعد آزاد پینل قانونی طور پر کام نہیں کر سکتے۔ چونکہ آئین معطل ہونے سے ڈومیسٹک ڈھناچہ ہی متاثر ہو چکا ہے اس لیے اب ان کا کام کرنا عدالتی احکمات کی خلاف ورزی ہوگی۔

پی سی بی کے نئے آئین کے تحت صرف تین منتخب ارکان ہی بورڈ آف گورنرز کا حصہ ہوں گے۔ فوٹو: پی سی بی

کیا کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ متاثر ہوں گے؟

حال ہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے لیے نئے سنٹرل کنٹریکٹس کا اعلان کیا ہے۔ جس میں بورڈ نے کھلاڑیوں کے معاوضے میں اضافہ بھی کیا۔
شائیگان اعجاز کہتے ہیں لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے کھلاڑیوں کے سنٹرل کنٹریکٹ تو براہ راست متاثر نہیں ہوں گے لیکن اگر اس کیس کے فیصلے میں ہائی کورٹ آئین کو کالعدم قرار دے دیتی ہے تو پھر کھلاڑی بھی متاثر ہوں گے۔ ’چونکہ عدالت نے پٹیشنز کی سماعت کرتے ہوئے آئین معطل کیا ہے اس لیے سنٹرل کنٹریکٹ براہ راست متاثر نہیں ہوں گے، لیکن اگر عدالت آئین کو کالعدم قرار دے تو سنٹرل کنٹریکٹس اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا عہدہ پر رہنا بھی خطرے میں پڑ جائے گا، کیونکہ پرانے آئین میں اس قسم کا کوئی عہدہ نہیں۔‘
پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کے اوپر ماہرین اور کھلاڑیوں کی جانب سے شیدید تنقید بھی کی جاتی رہی۔ چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی اور ایم ڈی وسیم خان کے خلاف بورڈ کے اندر سے بھی ماضی میں بغاوت سامنے آتی رہی۔ پی سی بی حکام نے اندرونی معاملے کو سلجھا کر نیا آئین تو متعارف کروا دیا لیکن اب معاملہ عدالت میں جانے کے بعد بورڈ حکام کو ایک بار پھر قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔   

شیئر: