Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الاعشار تالاب: دربِ زبیدہ کے راستے پر پانی کا ایک اہم ذریعہ

دربِ زبیدہ ٹریل کے ساتھ ساتھ ایک مشہور تاریخی الاعشار تالاب بھی ہے جو حج کے موسم میں زائرین جبکہ دیگر مواقع پر صحرا کے اس حصے سے گزرنے والے تجارتی کاروانوں کے لیے پانی کا اہم ذریعہ رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ تاریخی تالاب، عظیم صحرائے نفود سے 50 کلو میٹر جنوب میں لینہ اور رفحاء کے گورنریٹ کے قریب واقع ہے۔ اس کا بندوبست امام ترکی بن عبداللہ رائل نیچر ریزرو ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ذمے ہے۔
حج کے قافلوں کے گزرنے کے لیے سڑکوں کی تعمیر کا کچھ کام عباسی دور میں (193-170) صدی ہجری میں مکمل کیا گیا تھا۔
یہ تالاب انجینیئرنگ کا شاندار کارنامہ سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے زائرین، کاروانوں اور مسافروں کے لیے انتہائی ضروری انفراسٹرکچر قائم ہوئے۔
اس سائٹ میں فنِ تعمیر کے لگ بھگ 30 یونٹ ہیں جنھیں تین کلو میٹر طویل قطار کی صورت میں نصب کیا گیا ہے۔ تالاب اور پانی کو فلٹر کرنے کا نظام بھی اسی مقام پر موجود ہے۔
بڑا مستطیل تالاب جس کی لمبائی اور چوڑائی 52x 65 میٹر ہے جبکہ اس کی گہرائی تقریباً پانچ میٹر تک ہے۔ تالاب میں اترنے کے لیے پتھروں کی سیڑھیاں بھی بنی ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ اس سائٹ پر پانی کے کئی دیگر وسائل بھی موجود ہیں جنھیں پہاڑوں کو کھود کر تیار کیا گیا ہے۔ ان پر پانی کی صفائی کے لیے خصوصی واٹر فلٹر لگائے گئے ہیں۔ ان مقامات پر پانی، سات کلو میٹر دور سے مختلف راستوں سے ہوتا پہنچتا ہے۔ اس تکنیک سے جدید ترین انجینیئرنگ اور وسائل کے بہترین انتظام کا بھی ثبوت ملتا ہے۔
الاعشار نامی تالاب، دربِ زبیدہ کے راستے پر بچ جانے والا وہ تالاب ہے جسے صدیاں گزرنے کے باوجود کم سے کم نقصان ہوا ہے۔

یہ تالاب اپنے تعمیری ڈیزائن اور خاکے اور متناسب ماحول کی وجہ سے بھی ممتاز حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس کا موجود ہونا بیّن ثبوت ہے کہ اسلامی ریاست میں صحرا کے اندر زائرین کی پیاس بجھانے کا انتظام موجود تھا۔
تالاب محفوظ قرار دیے گئے رائل ریزرو کے اندر واقع ہے اور تاریخی لحاظ اور سیاحت کے اعتبار سے کسی سنگِ میل سے کم نہیں۔ اس تالاب کی بدولت ثقافتی سیاحت بڑھی ہے اور یہ جگہ آنے والی نسلوں کے لیے شمالی عرب کے اس ورثے کے بارے میں معلومات کا ذریعہ بھی ہے۔

شیئر: