Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ آج متوقع

گزشتہ روز پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے اپنے سکواڈ کا اعلان بھی کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کی شرکت یا عدم شرکت سے متعلق آج اہم پیشرفت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) حکومتی مشاورت کے بعد ٹورنامنٹ میں شرکت کے حوالے سے حتمی مؤقف اختیار کرے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی آج وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا امکان ہے جس میں ٹی20 ورلڈ کپ سے متعلق صورتحال اور آئندہ حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
ملاقات میں چیئرمین پی سی بی وزیراعظم کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے رویے پر بریفنگ دیں گے۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کرنے یا نہ کرنے اور انڈین ٹیم کے خلاف میچ کھیلنے یا نہ کھیلنے کے آپشنز پر بھی گفتگو کریں گے۔
اس دوران بنگلہ دیش کے ساتھ مبینہ نامناسب رویے کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے ورلڈ کپ سے دستبرداری کے امکان پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جا چکا ہے اور پی سی بی کے اندر مختلف آپشنز پر غور جاری ہے، جن میں پلان اے، بی اور سی شامل ہیں۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی آج وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا امکان ہے (فوٹو: پی آئی ڈی)

اس سے قبل لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ حکومتِ پاکستان کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی، آئی سی سی سے زیادہ حکومتِ پاکستان کے تابع ہے اور وزیراعظم کی ہدایات کے بعد ہی حتمی پلان ترتیب دیا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور یہ دہرا معیار ہے۔ ان کے مطابق ایک ملک تمام فیصلے مسلط نہیں کر سکتا اور جیسا فیصلہ پاکستان اور انڈیا کے معاملے میں ہوا، ویسا ہی بنگلہ دیش کے ساتھ بھی ہونا چاہیے۔

پی سی بی ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے سکواڈ کا اعلان پہلے سے کیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

واضح رہے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بنگلہ دیش کے ٹورنامنٹ میں شرکت سے انکار کے بعد اسے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے باہر کر دیا تھا، جس کے بعد اس کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔
آئی سی سی کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے میچز انڈیا کے بجائے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست سکیورٹی بنیادوں پر مسترد کی گئی تھی جبکہ آزاد سکیورٹی جائزوں میں کسی قابلِ اعتبار خطرے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
آئی سی سی کا مؤقف تھا کہ قلیل وقت کے باعث شیڈول میں تبدیلی ممکن نہیں تھی، جس کے بعد مقررہ مدت میں تصدیق نہ ملنے پر متبادل ٹیم کے انتخاب کا عمل شروع کیا گیا۔

 

شیئر: