ریسٹ ہاؤسز کھول دیے مگر بکنگ آسان نہیں

خیبر پختونخوا حکومت نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر صوبے میں سیاحت کے فروع کے لیے سیاحتی مقام گلیات میں قائم گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، سپیکر ہاؤس، آئی جی ہاؤس اور کرناک ہاؤس جیسی اہم سرکاری رہائش گاہیں عوام کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے اتوار کے روز ملک کے مختلف سیاحتی مقامات میں واقع ریسٹ ہاؤسز اور سرکاری عمارتوں کی ایک ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی اور لکھا کہ ’نوآبادیاتی دور کی یہ نشانیاں جن کی دیکھ بھال کے لیے ٹیکس کے پیسوں سے سالانہ کروڑوں کے اخراجات اٹھتے، اب حکومت کیلئے آمدن کا ذریعہ بنیں گے۔‘
وزیراعظم عمران خان کی ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث جاری ہے۔ ناقدین وزیراعظم اور حکومت کے اس اقدام سے خوش نظر نہیں آ رہے اور حکومت کی ایک سال کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں جبکہ حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی جانب سفر میں ممد و معاون ثابت ہوگا۔
’پی ٹی آئی کی چیتی‘ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے ایک صارف نے عمران خان کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا  ’انشاءاللہ پاکستان ترقی کرے گا۔ چور، کرپٹ، ڈاکو  تباہی کی طرف سفر کریں گے۔‘
یار خان نامی صارف نے لکھا  ’پاکستان کی تاریخ دیکھی جائے تو 70 کی دہائی کے بعد ہر محکمہ ہر ادارہ زوال پذیر تھا معیشت گرتی جا رہی تھی۔ یہ تو اللہ کا کرم تھا کہ پھر بھی ملک باقی رہا اب انشاءاللہ یہ ملک بدلے گا آگے بڑھے گا انشاءاللہ۔‘

سینئر صحافی افتخار احمد نے طنزیہ انداز میں عمران کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا ’مجھے امید ہے کہ وہ فائدے کے لیے ملک نہیں بیجے گا۔‘
کچھ صارفین نے وزیراعظم کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی ہے کہ عوام کے لیے کھولی گئی سرکاری عمارتوں اور ریسٹ ہاؤسز کے کرائے بہت زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔
جویریہ صدیق نامی صارف نے لکھا ’ایک لاکھ کرایہ ہوگا تو کوئی بھی نہیں جائے گا جیسا مری میں ہوا۔‘

بعض صارفین عمران خان کے اقدامات سے تو مطمئن نظر آئے تاہم دبے الفاظ میں ان کی ٹیم کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے رہے۔ ایس ایم بخاری نامی صارف نے لکھا ’محترم وزیراعظم: آپ کے اقدامات قابل قدر ہیں لیکن افسوس کہ آپ کےساتھ موثر اورمدلل ٹیم نہیں۔ دوچار اچھے مشیر جن کی کارکردگی قابل رشک ہو ان 40 مشیروں سے بہتر۔ ملکی مفاد میں اُٹھائے گئے حکومتی اقدامات کے لیے لازم ہے کہ گراونڈ پر بھی نظرآئیں۔ بروقت فیصلے اورنفاذ سے ایسا ممکن ہے۔‘
تاہم بعض صارفین نے حکومت کے اس اقدام پر تبصرہ کرنے کے بجائے گذشتہ ایک سال کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لیتے نظر آئے۔

رب نواز بلوچ نامی صارف نے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا ’آپ نے گاڑیاں، بھینسیں بیچنے کے علاوہ کیا کیا ہے؟‘
’آپ کے ایک سال میں معیشت تباہ حال، آٹو انڈسٹری تباہ، مہنگائی عروج پر، بےروزگاری عروج پر، تیل، گیس، بجلی، کھانے پینے کی اشیا، پیٹرولیم مصنوعات، سب مہنگی، ادویات مہنگی، سرکاری ہسپتالوں میں علاج مہنگا۔ کچھ تو اپنی کارکردگی کے بارے بھی بتائیں۔‘
ناقدین کی سخت تنقید کے ساتھ بہت سے صارفین وزیراعظم عمران خان کو دعائیں دیتے نظر آئے۔ ’لاڈلی پری‘ نامی ٹویٹر صارف نے عمران خان کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا ’اللہ رب کریم ہر نیک ارادے میں آپ کو کامیاب کرے آپ واحد حکمران ہیں جنہوں نے غریب طبقے کیلئے کچھ کرنے کی کوشش کی ہے ورنہ پہلے حکمران تو اپنے مفاد کے لیے ہی مگن رہے۔‘
وزیراعظم کے اس اقدام کی توصیف اور تنقیص سے ہٹ کر کئی صارفین نے عوام کے لیے کھولی گئی سرکاری عمارتوں اور ریسٹ ہاؤسز کی بکنگ میں پیش آنے والی مشکلات وزیراعظم کے گوش گزار کیں۔

ڈاکٹر ریحان شاہد نامی صارف نے لکھا ’گورنر ہاؤس تو دور کسی ایک ریسٹ ہاؤس کو بھی بک کرنا آسان نہیں، کوئی ویب سائٹ نہیں، فون پر بکنگ کرنا بہت مشکل ہے، اور جگہ اسی کو ملتی ہے جس کی اندر کوئی جان پہچان ہو۔ سرکاری محکموں سے آزاد کریں، پرائیویٹ کمپنی کو ٹھیکے دیں جو انہیں بہتر طرح سے چلائے۔‘
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر خیبر پختونخوا حکومت نے صوبہ بھر کے 169 سرکاری ریسٹ ہاوسز کوبھی محکمہ سیاحت کے حوالے کر دیا ہے۔ ان ریسٹ ہاؤسز میں سے 49 عمارتیں اس وقت عوام کے لیے کھلی ہیں تاہم باقی سرکاری ریسٹ ہاوسز کو تزئین و آرائش اور مرمت کے بعد مرحلہ وار کھولا جائے گا۔
 

شیئر: