اسرائیل کے ڈرون حملے، ہدف کون ؟

اسرائیل نے 3عرب ممالک پر ڈرونز حملے کئے ۔ جنوبی دمشق عقربا سے لیکر عراق کے سرحدی شہر القائم اور لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے تک کو نشانہ بنایا۔
 سعودی عرب کے اخبار ا لشرق الاوسط میں عبدالرحمان الراشد نے اپنے کالم میں لکھا کہ یہ درست ہے کہ یہ محدود درجے کے عسکری حملے تھے ۔حملوں میں ہتھیار کے طورپرڈرونز استعمال کئے گئے تاہم یہ حملے اہم سیاسی اور جنگی تبدیلی کا پتہ دے رہے ہیں۔۔

عسکری آپریشنوں نے اسرائیل کو علاقائی کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ۔

ایسے وقت میں جبکہ اسرائیلی ڈرونز ایران کو نشانہ بنا رہے ہیں ،اسی دوران دوسری جانب امریکہ کےمصنوعی سیارے ایرانی جہازوں خصوصاً آئل ٹینکرز کے تعاقب میں لگے ہوئے ہیں ۔ ایرانی جہاز جہاں جس سمندر میں ہوتے ہیں یا جس بندرگاہ میں لنگر انداز ہوتے ہیں امریکی مصنوعی سیارے ان پر نظر رکھے ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں ایسی کمپنیوں اور افراد کی فہرست میں اضافہ ہو رہا ہے جن پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔یہ وہ افراد اور کمپنیاں ہیں جو ایران کے ساتھ لین دین کر رہی ہیں ۔
جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کی گرما گرمی کا محرک انتخابی عمل ہے ،بنیامین نتنیاہو دوبارہ منتخب ہونے کےلئے یہ سرگرمیاں کر رہے ہیں ۔ممکنہ ہے تینوں ممالک پر حملوں کا جزوی محرک یہ بھی ہو ۔البتہ یہ درست ہے کہ اسرائیل کی معرکہ آرائی اسکی علاقائی حکمت عملی کا اٹوٹ حصہ ہے ۔اسرائیل کی حکمت عملی ایران اور اسکی ملیشیاﺅں کو ہدف بنانا ہے ۔خصوصاً    شام اور عراق میں موجود ایرانی ملیشیائیں اسرائیل کا اہم ہدف ہیں۔اسرائیل یہ حکمت عملی گزشتہ ایک برس سے اپنائے ہوئے ہیں ۔ان عسکری آپریشنوں نے اسرائیل کو علاقائی کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے ۔ اس سے قبل اسرائیل اس زمرے میں نہیں آتا تھا۔

اسرائیل ایرانی دھمکیوں کو چیلنج دے رہا ہے ۔

اسرائیل کی عسکری سرگرمیاں اس کی اعلیٰ حکمت عملی کا حصہ لگتی ہے نہ کہ انتخابی کھیل۔نئے حملوں کی بدولت اسرائیل اس بین الاقوامی توازن کا بنیادی ستون بن گیا ہے جس کا مقصد ایران کو اقتصادی ، مالیاتی اور عسکری حوالوں سے گھیرنے کا ہے ۔اسکا ایک مقصد ایران کو پیچھے کی طرف دھکیلنا بھی ہے ۔ایران نے ایٹمی معاہدے کی بدولت خود کو کافی پھیلا لیا ہے ۔
اسرائیل ایرانی دھمکیوں کو چیلنج دے رہا ہے ۔ اگر ایران پر مسلسل دباﺅ ڈالا جائے ،خطے میں اس کے مسلح بازوﺅں کو نشانہ بنایا جاتا رہے ۔اگر ایران کو تیل کے سودوں سے روکا جاتا رہے۔ ایسی صورت میں ایران پر فتح پانا ممکن ہے ۔ایران کے خلاف ممکنہ طویل مدت تک کارروائی جاری رکھنے سے اس پر فتح حاصل کی جا سکتی ہے ۔
 

شیئر: