Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے: عمانی وزیر خارجہ

ایران اور امریکہ کے درمیان جمعرات کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
یہ بیان عمان کے وزیر خارجہ کی جانب سے کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی کے تناظر میں ممکنہ جنگ کو روکنے کی غرض سے ہونے والے تازہ مذاکرات کے دور کے اختتام پر سامنے آیا ہے۔
عمان کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا ایران پر حملے کی دھمکیاں دے چکے ہیں اور گزشتہ جمعرات امریکی صدر نے تہران کو معاہدے کے لیے 15 دن کی مہلت دی تھی۔
ایران کا مؤقف ہے کہ بات چیت صرف اس کے جوہری پروگرام تک محدود ہونی چاہیے، جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی پشت پناہی پر بھی پابندیاں لگائی جائیں۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ہم نے آج کے دن کا اختتام امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت پر کیا ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ ہفتے ویانا میں تکنیکی سطح پر مزید بات چیت ہوگی۔
امریکی اور ایرانی وفود نے صبح کے وقت سخت سکیورٹی میں عمان کے سفیر کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس کے بعد دونوں فریقین نے اپنے اپنے دارالحکومتوں سے مشاورت کے لیے  کچھ وقت لینے کا فیصلہ کیا۔
اے ایف پی کے صحافیوں نے دیکھا کہ وقفے کے بعد امریکی اور ایرانی سفارتی مشنز کی گاڑیاں دوبارہ عمان کے سفیر کی رہائش گاہ پر پہنچیں۔
گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے دوران جلاوطن ایرانیوں کے احتجاج اور ایرانی وفد کے قافلے پر اشیاء پھینکنے کے واقعے کے بعد یہاں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات دیکھے گئے۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین نے ’نئے اور تخلیقی خیالات اور حل کے لیے غیر معمولی آمادگی‘ کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رافیل گروسی بھی مذاکرات میں شریک ہوئے، جبکہ ایرانی سرکاری ٹی وی کے ایک صحافی نے بھی ان کی شرکت کی اطلاع دی۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم ایران سے مطالبہ کرے گی کہ وہ اپنے تین بڑے جوہری مراکز ختم کرے اور بچا ہوا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرے۔
مذاکرات سے قبل ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ’بالکل بھی‘ ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے۔
انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’ہمارے سپریم لیڈر پہلے ہی بیان دے چکے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار بالکل نہیں ہوں گے۔‘

 

شیئر: