پاکستان کے ساتھ تنازعے کے حل کے لیے ’بات چیت‘ کرنا چاہتے ہیں: افغانستان
افغانستان کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ ہونے والے تصادم کے بعد تنازع کے حل کے لیے ’بات چیت‘ کرنا چاہتی ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جمعے کو طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم نے بارہا پُرامن حل پر زور دیا ہے، اور اب بھی چاہتے ہیں کہ مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل ہو۔‘
طالبان حکومت نے کہا کہ پاکستان کے نگرانی کرنے والے طیارے ’اس وقت‘ افغانستان کی فضائی حدود میں پرواز کر رہے ہیں۔
جنوبی شہر قندھار میں ایک پریس کانفرنس کے دوران حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا لپ ’ابھی بھی، اسی وقت، پاکستانی طیارے، جاسوس طیارے، افغانستان کی فضائی حدود میں پرواز کر رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے سرحدی چوکیوں پر حملے کے چند گھنٹے بعد جمعے کو افغان دارالحکومت کابل، قندہار اور پکتیا پر بمباری کی اور اسے آپریشن غضب للحق‘ کا نام دیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ فوجی چوکیوں پر یہ بمباری چند دن پہلے ہونے والے مہلک فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
دونوں فوجوں نے کہا کہ سرحدی جھڑپوں میں درجنوں فوجی ہلاک ہوئے، جو حالیہ مہینوں میں پاکستان کے افغانستان میں متعدد فضائی حملوں اور سرحدی جھڑپوں کے بعد پیش آئیں۔
پاکستان اور افغانستان کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے افغانستان کی مزید چوکیاں اور اسلحہ خانے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستان کے افغانستان کے مختلف شہروں پر حملوں کے تھوڑی دیر بعد جاری کیے گئے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہماری فوجیں جارحیت کرنے والوں کو کچل سکتی ہیں۔‘
