پشاور کیپیٹل پولیس کے مطابق تجارتی مراکز اور بازاروں کی سکیورٹی کی یقینی بنانے کے لیے پولیس گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ موبائیل ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔ اہم شاہراہوں پر بکتر بند گاڑیاں، ایلیٹ فورس، سٹی پیٹرولنگ پولیس، ابابیل سکواڈ اور مقامی پولیس گشت کر رہی ہے۔
پشاور پولیس ترجمان کے مطابق سرحدی علاقوں اور نواحی علاقوں کی پولیس چوکیوں پر اینٹی ڈرون گنز کو الرٹ کر دیا گیا ہے جو کسی بھی نامعلوم ڈرون کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پشاور کے علاوہ ضم شدہ قبائلی علاقوں ہائی بھی سکیورٹی ہائی الرٹ ہے بالخصوص چترال، باجوڑ، کرم کے بارڈر پر افغان فورسز کی دراندازی کے بعد ضلع کے اندر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کی مشترکہ ٹیم امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہیں۔
طورخم بارڈر پر سکیورٹی صورتحال
طورخم بارڈر پر ممکنہ کشیدگی کے باعث کسٹم ٹرمینل اور دیگر سرکاری عمارتوں کو خالی کروایا گیا ہے جبکہ لنڈی کوتل کے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
مقامی شہری نصراللہ شنواری نے اردو نیوز کو بتایا کہ گزشتہ رات طورخم اور لنڈی کوتل میں بجلی معطل رہی جبکہ گاڑیوں کی غیرضروری نقل و حرکت پر بھی پابندی تھی۔
ضلع خیبر پولیس کے مطابق پاک افغان کشیدگی کے بعد ضلع بھر میں حساس مقامات پر سکیورٹی پوائٹس بنائے گئے ہیں جبکہ مشتبہ ٹھکانوں پر سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن بھی کیا گیا۔
پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہم سب کا قومی فریضہ ہے: وزیراعلیٰ
پاک افغان سرحد کشیدگی پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہم سب کا قومی فریضہ ہے، کسی کو سرحدی علاقوں کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرنے دیں گے،
سکیورٹی فورسز سے اظہار یکجہتی کے لیے چترال میں شہریوں نے ریلی نکالی (فوٹو: ویڈیو گریب)
ان کا کہنا تھا کہ ’پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں، سرحدی علاقوں کے عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘
سکیورٹی فورسز سے اظہار یکجہتی ریلی
دوسری جانب سکیورٹی فورسز سے اظہار یکجہتی کے لیے چترال میں شہریوں نے ریلی نکالی۔ شرکاء نے پاک فوج جوانوں اور چترال سکاؤٹس کی جوابی کارروائی کو خراج تحسین پیش کیا۔
ریلی میں شریک سماجی اور سیاسی رہنماوں نے شرکت کی۔ ریلی کے اختتام پر ملکی سلامتی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
واضح رہے کہ ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے جس کو پاکستان کے اینٹی ڈرون سسٹمز نے ناکارہ کرکے گرا کر دیا ہے۔