Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’آپریشن غضب لِلحق‘ میں 274 خوارج ہلاک کیے جا چکے، 400 زخمی ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان کے فوج نے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ’اب تک آپریشن غضب للحق میں 274 خوارج ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ 400 زخمی ہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ شب سے جاری جھڑپوں کے بعد جمعے کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’افغان طالبان رجیم افغانستان میں سرگرم تمام پراکسیز کی ماسٹر پراکسی ہے۔ انہوں نے پاک افغان بارڈر پر 53 مقامات پر فائرنگ کی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’کل پوری دنیا میں دیکھا کہ کس طرح طالبان رجیم پراکسیز کی مدد کے لیے عملی طور پر آئی۔ پاکستان نے ان کے تمام حملوں کو ناکام بنایا اور ان کے کواڈ کاپٹرز بھی گرائے۔‘
’افغان طالبان رجیم کے 115 ٹینک اور متعدد بکتربند گاڑیاں تباہ کی گئی ہیں۔ کابل، قندھار، پکتیا، ننگرہار اور خوست میں فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، اس دوران عام شہریوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس لڑائی کے دوران ’وطن کی خاطر اب تک 12 فوجی جوانوں نے اپنی جانیں نچھاور کی ہے جبکہ 27 جوان زخمی ہیں۔‘
فوج کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران افغانستان کے مختلف فوجی اہداف پر کیے گئے پاکستان ائیر فورس کے حملوں کی ویڈیوز اور تصاویر بھی دکھائیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں 22 فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے گئے۔
’آپ کی تمام سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جاندار اور شدید جواب دیا ہے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’پاکستان کی افواج کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں عوام کھڑے ہیں۔ دہشت گردوں نے بعض بہت معمولی قسم کے ڈرونز سے ہمارے کچھ شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن آپ نے دیکھ لیا کہ ہم نے کیسے ان ڈرونز کو مار گرایا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں اگر دہشت گردی یا خودکش دھماکہ ہوا تو ہمیں دہشت گرد جہاں پر ہیں، وہ بھی وہاں پر محفوظ نہیں رہیں گے۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ’طالبان حکومت کو پاکستان اور ٹی ٹی ٹی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں میں ایک کا منتخب کرنا ہو گا۔ ہمارا انتخاب ہر صورت میں صرف اور صرف پاکستان ہے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔ ہمارے درمیان جتنے بھی سیاسی اختلافات ہوں۔ تمام سیاسی جماعتیں چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاملے میں کسی کا بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سب نیشنل ایکشن پلان کے ساتھ ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے کتنے کتنے افراد شامل ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں بہت کم فرق ہے۔ افغان طالبان کے اہلکار فتنہ خوارج کے ساتھ مل کر پاکستان میں کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے ہم یہ سمجھتے ہیں  افغان طالبان ماسٹر پراکسی ہیں۔‘

فوج کے ترجمان نے کہا پاکستان کی افواج کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں عوام کھڑے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

 سنیچر اور اتوار کی درمیان رات پاکستان حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر ’جوابی کارروائی‘ میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی طالبان اور اس کے اتحادیوں کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا  کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران کا ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں خوارج  نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر کیں۔‘
پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات چند ماہ سے کشیدہ ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کے ارکان کو اپنے ہاں پناہ دیتی ہے اور وہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں جبکہ افغانستان اس سے انکار کرتا ہے۔ چند ماہ قبل بھی دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
پاکستان کی جانب سے یہ حالیہ کارروائی افغان فورسز کی جانب سے جمعرات کی رات پاکستانی سرحدی افواج پر حملے کے بعد کی گئی جو اسلام آباد کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کا ردعمل تھا۔

شیئر: