سپرسونک اینٹی شپ کروز میزائل، ایران اور چین کے درمیان معاہدہ طے پانے کے قریب
سی ایم 302 میزائل 290 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں (فوٹو:روئٹرز)
ایران اور چین کے درمیان ایک معاہدہ طے پانے کے حتمی مراحل میں ہے جس کے تحت وہ سپرسونک اینٹی شپ کروز میزائل خریدے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ ممکنہ حملوں سے پہلے ایرانی ساحل کے قریب اپنی بڑی بحری فورس تعینات کر رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سی ایم 302 میزائل 290 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں اور انہیں اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ کم بلندی پر اور تیز رفتار پرواز کر کے بحری جہازوں کے دفاعی نظام کو چکمہ دے سکیں۔
ماہرین کے مطابق ’ان میزائلوں کی تعیناتی ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو بہت زیادہ بڑھا دے گی اور خطے میں امریکی بحری فوج کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔‘
اسرائیلی خفیہ ادارے کے سابق افسر اور انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز میں ایران کے سینیئر محقق ڈینی سٹرینووچ نے کہا کہ ’اگر ایران کے پاس سپرسونک رفتار سے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت آ گئی تو مکمل طور پر گیم چینجر ثابت ہو گی یعنی یہ صورتِ حال کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گی۔‘
سینیئر محقق ڈینی سٹرینووچ کے مطابق ’ان میزائلوں کو روکنا بہت مشکل ہے۔‘
یہ واضح نہیں کہ اس ممکنہ معاہدے میں کتنے میزائل شامل ہیں، ایران کتنی رقم ادا کرے گا، یا موجودہ کشیدہ حالات میں چین اس معاہدے کو عملی شکل دے گا یا نہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ فوجی اور سکیورٹی معاہدے موجود ہیں اور اب ان سے فائدہ اُٹھانے کا مناسب وقت ہے۔
دوسری جانب دنیا کا سب سے بڑا جنگی بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مشرقِ وسطیٰ کی طرف جاتے ہوئے بحیرۂ روم کے جزیرے کریٹ پر واقع امریکی بحری اڈے سودا بے پہنچ گیا ہے۔
واشنگٹن نے خطے میں ایک درجن سے زائد جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں، جن میں طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن، نو تباہ کن جہاز اور تین جنگی جہاز شامل ہیں۔
