فرعون مصر رمسیس دوم کا مجسمہ التحریر اسکوائر میں نصب ہوگا

لشرقیہ صوبے سے مجسمے کے کئی حصے قاہرہ منتقل کردیے گئے
مصرکی وزارت آثار قدیمہ نے اعلان کیا ہے کہ رمسیس دوم کا مجسمہ التحریر اسکوائر میں نصب کیا جائے گا۔الشرقیہ صوبے سے مجسمے کے کئی حصے قاہرہ منتقل کردیے گئے۔اصلاح و مرمت اور تمام اجزاءکو یکجا کر کے التحریر اسکوائر میں نصب کیا جائے گا ۔ 
عکاظ اخبار کے مطابق مصر میں آثار قدیمہ کی سپریم کورٹ کے سیکریٹری جنرل مصطفی وزیری نے بتایا کہ وزارت کے ماہرین مجسمے کے بعض حصوں کی مرمت کر رہے ہیں ۔
مجسمہ صان الحجر تاریخی علاقے میں موجود تھا۔وہاں سے اسے 8حصوں میں منقسم کر کے قاہرہ لایا جا رہاہے ۔یہ 17میٹر اونچا ہے ۔اسکا وزن 90ٹن ہے ، اسے ہی گلابی گرینائٹ سے تراش کر بنایا گیا تھا۔یہ مجسمہ خوبصورت نقوش کا آئینہ دار ہے ۔اس میں فرعون مصر رمسیس دوم کو ایک دیوتا کے آگے کھڑا ہوا دکھایا گیا ہے ۔

رمسیس دوم کا 1303قبل مسیح سے ہے ۔اسے رمسیس اعظم بھی کہا جاتا ہے

رمسیس دوم کا 1303قبل مسیح سے ہے ۔اسے رمسیس اعظم بھی کہا جاتا ہے ۔یہ مصر کے 19ویں حکمراں خاندان کا تیسرا فرعون تھا۔رمسیس دوم نے 1279سے لیکر 1213قبل مسیح تک راج کیا۔رمسیس دوم کو مصری شہنشاہیت میں سب سے زےادہ طاقتور اور مشہور فرعون مانا جاتا ہے۔
و اضح رہے کہ مصر ی آثار قدیمہ نے ایک اور مصری فرعون توت عنخ آمون کے گولڈن تابوت کی بحالی کا کام بھی شروع کیا ہے۔ 2020ء میں مصر کے عظیم عجائب گھر کے افتتاح کے موقع پر گولڈن تابوت کی رونمائی ہو گی۔
 توت عنخ آمون کا گولڈن تابوت 97برس سے خستہ حالت میں تھا۔ یہ الاقصر شہر کی وادی الملوک میں شاہی قبرستان میں پڑا تھا۔اب اس کی صفائی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔8ماہ میں بحالی کا کام مکمل ہو جائے گا۔
توت عنخ آمون 1333قبل مسیح میں تخت نشین ہوا تھا۔یہ سب سے مشہور فرعون بن گیا۔ اس کی شہرت کا باعث گولڈن تابوت بنا جو صحیح حالت میں 1922ءکے دوران دریافت ہوا تھا۔
 

شیئر: