حجاب پر تقریر: ’پا جی تسی چھا گئے او‘

تنمن جیت سنگھ کی تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن مسلمان خواتین کے برقعہ پہننے کو ’ظالمانہ اور مضحکہ خیز‘ قرار دینے کی وجہ سے برطانوی پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔
منگل کو برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کے دوران سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے لیبر پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ تنمن جیت سنگھ نے بورس جانسن کی جانب سے برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ میں مسلمان خواتین کے لیے استعمال کیے گئے ’توہین آمیز اور نسل پرستانہ‘ الفاظ پر بات کی تو ایوان میں گرما گرم بحث چھڑ گئی۔
تنمن جیت سنگھ دیسی نے اپنی تقریر میں برطانوی وزیراعظم سے حجاب کے متعلق اپنے الفاظ پر مسلمان برادری سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر میں پگڑی، آپ کراس یا ایک مسلم خاتون برقعہ پہننے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسمبلی کے ارکان ہماری شکل و صورت کے حوالے سے توہین آمیز بیان دیں۔ وزیر اعظم کو اپنے الفاظ پر معافی مانگنی چاہیے۔‘
 
سکھ رکن پارلیمنٹ کی اس تقریر پر سوشل میڈیا صارفین بھی میدان میں اترے اور تنمن کی تقریر پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔
ایک صارف یحییٰ رشید نے ٹویٹ کی کہ ’اس طرح سے نسل پرستی اور توہین کے خلاف کھڑے ہوا جاتا ہے۔‘
 
ٹی سندھرے نامی صارف نے تنمن جیت کی تقریر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’پوری دنیا میں نفرت اور توہین کے اس ماحول میں ہمیں روزانہ ایسی اُمید کی ضرورت ہے۔ میرا امان تازہ ہو گیا۔‘

 

سکشی جوشی نے بھی سکھ رکن پالیمنٹ کی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو تعصب کا تجربہ نہیں بھی ہوا تو وہ بھی اس تقریر کو سراہ سکتا ہے۔

 

خیال رہے کہ برطانوی وزیر اعظم نے پانچ اگست کو ’ٹیلی گراف‘ میں لکھے گئے ایک مضمون میں کہا تھا کہ ’یہ ڈنمارک نے غلط کیا ہے۔ برقعہ پہننا اگرچہ ظالمانہ اور مضحکہ خیز عمل ہے مگر پھر بھی اس پر پابندی لگانے کا کوئی جواز نہیں۔‘
انہوں نے برقعہ پہننے والی خواتین کو ’لیٹر بکس‘ اور بنک لٹیروں سے بھی تشبیہ دی تھی۔
بورس جانسن کے ان الفاط پر تنمن جیت سنگھ کے علاوہ سابق برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے بھی ’نسل پرستانہ‘ الفاظ کے استعمال پر بورس جانسن سے معافی کا مطالبہ کیا جس پر بورس نے انکار کر دیا۔
سکھ رکن پارلیمنٹ کی جانب سے پارلیمنٹ میں بورس جانسن کے خلاف کی گئی اپنی تقریر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے کے بعد ٹوئٹر صارفین نے ان کے ذاتی اکاؤنٹ پر بھی اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ 
تنمن جیت کی ٹویٹ کے جواب میں روحان نامی صارف نے لکھا کہ ’صحیح کہا آپ نے۔ بورس جانسن نے اپنے ان الفاظ پر معذرت کرنے سے انکار کر دیا جن کی وجہ سے نفرت انگیز جرائم میں 375 گنا اضافہ ہوا تھا۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر کسی کو اقلیتوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے اور بات کرنی چاہیے۔
لیوک ولیمسن نے بورس کو تنقید کا نشانہ بناتےہوئے کہا کہ ’وہ حقیقی طور پر کبھی بھی معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے آج تک کچھ غلط کیا ہی نہیں بلکہ لوگ ہی ہمیشہ انہیں غلط سمجھتے ہیں۔‘
سائیں نام کے ایک ٹوئٹر ہینڈل نے تنمن جیت سنگھ کی تقریر سن کر کہا ’پا جی تسی چھا گئے او۔‘
دانیال رندھاوا نے لکھا کہ ’مسلمانوں کی ترجمانی کرنے کے لیے آپ کا شکریہ سر۔‘

کچھ صارفین کا خیال ہے کہ برقعے کے حوالے سے بورس کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا جا رہا ہے۔ اصل میں ان کا یہ کہنا تھا کہ برقعہ پہننا یا نہ پہننا عورتوں کی اپنی پسند ہے، ڈنمارک میں اس پر پابندی نہیں لگنی چاہیے۔
اسی حوالے سے جینی نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’اس نفرت اور درد کا کیا جو ان مسلم خواتین کو برداشت کرنا پڑتی ہے جن کو برقعہ پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔‘
فیٹ پڈنگ نامی ٹوئٹر ہینڈل نے بورس جانسن کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کبھی معافی نہ مانگنا، یہ صرف ان (مسلمانوں) کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

یاد رہے کہ اس وقت برطانوی پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی اور حکمران جماعت کنزرویٹیو پارٹی کے کچھ باغی اراکین مل کر ایک قانون پاس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بغیر معاہدے کے یورپی یونین سے علیحدگی کو غیر قانونی بنا دے گا۔

شیئر: