اردن میں 30 ملکوں کی جنگی مشقیں ختم

سعودی عرب اور پاکستان سمیت 30ممالک نے مشقوں میں شرکت کی۔(فوٹو ایس پی اے)
 اردن میں’ چوکس شیر‘ کے عنوان سے جاری جنگی مشقیں ختم ہو گئیں۔ سعودی عرب اور پاکستان سمیت 30ممالک کے 8ہزار فوجیوں نے مشقوں میں شرکت کی۔ اختتامی تقریب میں امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر ، جنرل کینتھ مک کینزی اور جنگی مشقوں میں شریک ملکوں کے وفود کے سربراہان نے شرکت کی۔
 سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی مسلح افواج کے مختلف شعبوں (زمینی ، فضائی، بحریہ اور فضائی دفاع) نے مشقوں میں حصہ لیا۔

ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیار استعمال کیے گئے۔(فوٹو ایس پی اے)

 ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیار استعمال کیے گئے۔ توپخانے اور اسٹریٹجک گولہ باری، بارودی سرنگیں صاف کرنے ،سراغ رسانی اور رہائشی علاقوں میں جنگ کی مشق کی گئی۔
سعودی افواج کے کمانڈر بریگیڈئرجنرل جعفر بن ہادی القحطانی نے کہا کہ ا ن مشقوں سے بہت سے مقاصد حاصل کیے ، جن میں مشترکہ آپریشنوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل کرنے صلاحیت کو بڑھانا اور دیگر افواج میں سعودی مسلح افواج اور ان کے ہم منصبوں کے مابین تجربات کا تبادلہ شامل ہیں۔
مشترکہ فورس کے کمانڈر بریگیڈئیر محمد الھمیسات نے کہا کہ یہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کی ا نتہائی ہم اسٹریٹجک فوجی مشقیں تھیں۔ ان کی بدولت اردن اور امریکہ سمیت شریک تمام ممالک کی افواج کی درمیان عسکری تعاون کی نئی مثال قائم ہوئی۔

سعودی مسلح افواج کے مختلف شعبوں (زمینی ، فضائی، بحریہ اور فضائی دفاع) نے مشقوں میں حصہ لیا۔(فوٹو ایس پی اے)

 انہوں نے بتایا کہ ان مشقوں میں فوجی فیصلے کرنے اور مشترکہ افواج کے چیفس آف اسٹاف کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔
مشقوں کے ترجمان بریگڈیئر محمد الثلجی نے بتایا کہ جد ید جنگوں کے روایتی اور غیر روایتی فوجی آپریشن مشقوں کے دران کیے گئے۔
 علاوہ ازیں سائبر سیکیورٹی اور انفارمیشن کی خصوصی مشترکہ مشقیں کی گئیں۔ متاثرہ علاقوں سے سفارتی مشنوں اور غیر جنگجو افراد کو نکالنے کا آپریشن کیا گیا۔ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں سے نمٹنے کی تدابیر کا تجربہ کیا گیا۔ 
اردنی فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاکہ مشقوں کا بڑا ہدف دہشتگردی کے انسداد کےلئے مشترکہ جدوجہد اور تعاون کو فروغ دینا اور سرحدی دستوں کی عسکری استعداد بڑھانا ہے۔

مشترکہ افواج کے چیفس آف اسٹاف کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔(فوٹو ایس پی اے)

 مشقوں میں امریکہ ، فرانس ، جرمنی ، برطانیہ ، اسپین ، اٹلی ، آسٹریلیا ، آسٹریا ، بیلجیئم ، ہالینڈ ، یونان ، ناروے ، جمہوریہ چیک ، قبرص ، عراق ،پاکستان، سعودی عرب ، مصر ، بحرین ، قطر ، کویت ،لبنان ، متحدہ عرب امارات ، کینیڈا ، جاپان ، برونائی ، کینیااور تاجکستان وغیرہ شریک تھے۔ 

شیئر: