یمن: جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی ابوظبی فرار ہو گئے: ترجمان اتحادی افواج
یمن: جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی ابوظبی فرار ہو گئے: ترجمان اتحادی افواج
جمعرات 8 جنوری 2026 14:04
’عیدروس الزبیدی، اماراتی کمانڈر میجر جنرل عواد الاحبابی سے رابطے میں تھے‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
یمن میں متحرک جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سے ایک طیارے کے ذریعے ابوظبی فرار ہو گئے۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا کہ ’عیدروس الزبیدی منگل کی رات کو عدن کی بندرگاہ سے ایک بحری جہاز کے ذریعے صومالی لینڈ پہنچے تھے۔‘
عرب نیوز کے مطابق انہوں نے بیان میں مزید بتایا کہ ’اس بحری جہاز نے صومالی لینڈ کی بندرگاہ بربرہ کی جانب جاتے ہوئے اپنے شناختی نظام کو بند کر دیا تھا۔‘
میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ’عیدروس الزبیدی، متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج میں مشترکہ آپریشنز کے کمانڈر میجر جنرل عواد الاحبابی سے رابطے میں تھے اور انہوں نے انہیں اپنی آمد کے بارے میں آگاہ کردیا تھا۔‘
اتحاد کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عیدروس الزبیدی، متحدہ عرب امارات کے فوجی افسران کے ہمراہ ایک پرواز کے ذریعے موغادیشو ایئرپورٹ روانہ ہوئے تھے۔‘
موغادیشو ایئرپورٹ پر اُترنے کے بعد وہی طیارہ کسی منزل کی نشان دہی کیے بغیر خلیج عرب کی جانب روانہ ہو گیا، اور خلیجِ عمان کے اُوپر پرواز کرتے ہوئے جہاز نے دوبارہ اپنا شناختی نظام بند کر دیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی کے فوجی ہوائی اڈے ’الریف‘ پر پہنچنے سے 10 منٹ قبل ہی جہاز نے اپنا شناختی نظام دوبارہ آن کیا۔
میجر جنرل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ ’اتحاد کی افواج اُن افراد کی معلومات کا جائزہ لے رہی ہیں جو عیدروس الزبیدی کے عدن سے فرار ہونے سے قبل آخری بار سے اُن سے ملے تھے۔‘
بدھ کو اتحاد کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ عیدروس الزبیدی طے شدہ منصوبے کے مطابق سعودی عرب نہیں پہنچے اور کسی نامعلوم مقام کی طرف فرار ہو گئے ہیں، جس کے بارے میں ایس ٹی سی کے رہنماؤں کو بھی نہیں بتایا گیا۔
ترکی المالکی کے مطابق ’عیدروس الزبیدی عدن کی بندرگاہ سے بحری جہاز کے ذریعے صومالی لینڈ پہنچے تھے‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
ان کی ریاض پہنچ کر جنوبی دھڑوں اتحاد کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں شرکت متوقع تھی، تاہم کئی گھنٹے بعد ایس ٹی سی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ وہ عدن میں ہیں اور اپنا کام کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے جنوبی یمن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے گروپوں کے درمیان ثالثی کی پیش کش کی تھی۔
علاوہ زیں یمنی صدارت کونسل نے العلیمی کی صدارت میں ایک ہنگامی اجلاس منعقدکیا جس میں اراکین سلطان العرادہ، طارق صالح، عبدالرحمان المحرمی، ڈاکٹر عبداللہ العلیمی اور عثمان مجلی نے شرکت کی۔
کونسل نے الزبیدی کی رکنیت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ سنگین غداری، یمن کی سیاسی و اقتصادی حیثیت کو نقصان پہنچانے، بغاوت کے خلاف ریاستی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور اندرونی تنازعات کو ہوا دینے کے الزامات کے تحت ان کا کیس اٹارنی جنرل کے پاس بھیجا جائے۔
عیدروس الزبیدی کے فرار کو ملک کے ساتھ ساتھ خود ان کاز کے ساتھ غداری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق انہیں اس وقت ایک رہنما کے طور پر متحرک ہونا اور یمنی صدر راشد العلیمی سے ہاتھ ملانے کے لیے ریاض جانا چاہیے تھا۔
اپنے مفاد کے لیے ملک کے خلاف کیے گئے اقدام پر معافی مانگنے کے بجائے اور بغیر کوئی ردِعمل دیے ایک طرف ہو جانے سے عیدروس الزبیدی نے اس خیال کو پختہ کر دیا ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کے ساتھ غداری کی۔