’غداری پر مطلوب‘، عیدروس الزبیدی نے کس طرح یمن اور اپنے کاز کو دھوکہ دیا؟
عیدروس الزبیدی کو مذاکرات میں شرکت کے لیے منگل کو ریاض پہنچنا تھا (فوٹو: ایکس)
یمن میں متحرک جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی کے فرار کو ملک کے ساتھ ساتھ خود ان کاز کے ساتھ غداری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب ان کو ایک سٹیٹس مین کے طور پر متحرک ہونا اور یمنی صدر راشد العلیمی سے ہاتھ ملانے کے لیے ریاض جانا چاہیے تھا، یمن کے عوام کے مفاد پر رضامند اور اپنے مفاد کے لیے ملک کے خلاف کیے گئے اقدام پر معافی مانگنے کے بجائے بغیر کوئی ردعمل دیے ایک طرف ہو جانے سے عیدروس الزبیدی نے اس خیال کو پختہ کر دیا ہے کہ انہوں نے ملک کے ساتھ غداری کی۔
صرف یہی نہیں بکہ انہوں نے ہتھیاروں کے ڈپو کھول کے اور ’میرے بعد تباہی‘ کے انداز میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کر کے اس کی تصدیق بھی کی۔
اس امر کا انکشاف وزیر اطلاعات معمر العریانی نے چند روز پیشتر ایکس پر ایک پوسٹ میں کیا اور عدم استحکام کے لیے ہونے والے اقدامات کو بے نقاب کیا تھا۔
عیدروس الزبیدی جنوبی یمن کونسل کے سربراہ ہیں جو جنوبی یمن کی علیحدگی کی خواہاں ہے۔
یمنی حکومت اور اتحاد کی جانب سے ملک کی قانونی حیثیت کی حمایت اور جنوبی سمیت دیگر نمائندوں کے ایسے نقطہ نظر پر متفق نہ ہونے کے باوجود عیدروس الزبیدی نے یمنی حکومت کے مخالف اور تخریب کار کے طور پر کام کیا، اس وقت بھی یہی کیا جب اہم رکن کی حیثیت سے اس کے اندر خدمات انجام دیں۔
اگرچہ عرب جو اتحاد کی سربراہی کر رہا ہے، نے جنوبی کاز کی لیجیٹیمسی کی تصدیق کی ہے اور یمن کے عوام جس بھی امر پر اتفاق کریں اور کی حمایت کا عزم ظاہر کیا ہے تاہم الزبیدی نے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو داؤ پر لگا کر بیرونی قوتوں کا ساتھ دیا اور ان کا مقصد طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنا تھا۔
اس کے بعد بھی نہیں رکے اور اور مبینہ طور پر سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپنی فوجوں کا استعمال کر رہے ہیں۔
ایسا وہ اس پڑوسی ملک کے خلاف کر رہے ہیں جس نے اپنے وسائل یمن کی تقسیم کو درست کرنے میں لگائے۔
عیدروس الزبیدی اس ریاض کو بھول گئے جہاں سے وہ بھاگے تھے، جو وہی تھا جس نے انہیں اور ساتھیوں کو حوثیوں کی بغاوت اور اس کی وحشیانہ جنگ سے بچایا تھا۔
بدھ کو اتحاد کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ عیدروس الزبیدی طے شدہ منصوبے کے مطابق سعودی عرب نہیں پہنچے اور کسی نامعلوم مقام کی طرف فرار ہو گئے ہیں، جس کے بارے میں ایس ٹی سی کے رہنماؤں کو بھی نہیں بتایا گیا۔
ان کی ریاض پہنچ کر جنوبی دھڑوں اتحاد کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں شرکت متوقع تھی، تاہم کئی گھنٹے بعد ایس ٹی سی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ وہ عدن میں ہیں اور اپنا کام کر رہے ہیں۔
یمن سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے عرب نیوز سے بات چیت میں بتایا کہ ان کا پہاڑی علاقے الدھیل میں چھپے ہونے کا زیادہ امکان ہے جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔
اسی طرح دیگر رپورٹس بتاتی ہیں کہ وہ راتوں رات ایک چھوٹی کشتی میں صومالی لینڈ کے لیے نکلے تھے۔
بدھ کو جاری کیے اتحاد کے بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ الزبیدی عدن میں درجنوں عناصر کو اسلحہ اور گولہ بارود کے کر فرار ہوئے جس کا مقصد آنے والے وقت میں شہر میں بدامنی پھیلانا ہے۔
علاوہ زیں یمنی صدارت کونسل نے العلیمی کی صدارت میں ایک ہنگامی اجلاس منعقدکیا جس میں اراکین سلطان العرادہ، طارق صالح، عبدالرحمان المحرمی، ڈاکٹر عبداللہ العلیمی اور عثمان مجلی نے شرکت کی۔
کونسل کی جانب سے الزبیدی کی رکنیت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ان کو سنگین غداری، یمن کی سیاسی و اقتصادی حیثیت کو نقصان پہنچانے، بغاوت کے خلاف ریاستی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور اندرونی تنازعات کو ہوا دینے کے الزامات میں اٹارنی جنرل کے پاس بھیجا جائے۔
اجلاس میں وزیر ٹرانسپورٹ عبدالسلام حمید اور وزیر منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون وید بادیب کو عہدوں سے برطرف کرنے ان کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ ہتھیاروں کی تقسیم اور شہری امن کو خطرے میں ڈالنے میں ملوث افراد کی تلاش اور گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریاست قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے اور عوامی حقوق اور آزادی کے تحفظ کے لیے کسی کے بھی خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
