سعودی کمپنیوں کو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت

پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری منصوبوں کو مکمل سہولتیں دی جائیں گی۔ 
 سعودی عرب کے اعلی سطح کے وفد نے پاکستانی حکام کے ساتھ مختلف شعبوں خصوصا ریفائننگ ، کان کنی اور قابل تجدیدتوانائی میں باہمی تعاون بڑھانے کے لیے مذاکرات کئے۔ توانائی، بجلی، کان کنی اور معدنیات کے شعبوں سے ماہرین سعودی وفد میں شامل تھے۔ 
 سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق مذاکرات میں پاکستانی وفد کی نمائند گی وزیر بجلی عمر ایوب خان نے کی جبکہ مملکت کے وفد کی سربراہی نائب وزیر صنعت و معدنی وسائل برائے کان کنی امور انجینئر خالد بن صالح کر رہے تھے۔

کان کنی اور قابل تجدیدتوانائی میں باہمی تعاون بڑھانے کے لیے مذاکرات کئے۔

 پاکستان کے وزیر تونائی عمرایوب نے وفد کا خیرمقدم کیا ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان مملکت کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مملکت کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات تاریخی ہیں۔اس کی معاشی ، سیاسی اور اسٹریٹجک جہتیں ہیں ۔ ا ن کا موازنہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔
 پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعود ی وفد نے پاکستان کے مشیر تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داود سے بھی ملاقات کی۔ توانائی، بجلی، کان کنی اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقعوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مشیر تجارت عبدالرزاق داود نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان میں سعودی عرب کے سرمایہ کاری منصوبوں کو مکمل سہولتیں دی جائیں گی۔ 

سعودی نائب وزیر توانائی  نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے بھی ملاقات کی۔

 مشیر تجارت کا کہنا تھاکہ متبادل توانائی پالیسی سے سعودی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے بڑے مواقع میسر ہوں گے۔ پاکستان میں توانائی سستی نہیں۔ موجودہ حکومت متبادل توانائی سے عوام کو سستی بجلی فراہم کرنا چاہتی ہے۔
 قابل تجدید توانائی موجودہ توانائی کے مکس کا تقریباً 4 فیصد ہے۔ حکومت آئندہ کچھ برسوں میں اسے 20 سے 30 فیصد تک بڑھانا چاہتی ہے۔ عبدالرزاق داﺅدنے سعودی کمپنیوں کو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ۔
دریں اثناءسعودی نائب وزیر توانائی خالد صالح اوروفد کے ارکان نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے بھی ملاقات کی۔

شیئر: